أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَۚ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کافروں سے کہہ دیجییے کہ اگر وہ (کفر سے) باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور اگر انہوں نے پھر وہی کام کیے تو (اس معاملہ میں) پہلوں کی سنت گزر چکی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : ” آپ کافروں سے کہہ دیجییے کہ اگر وہ (کفر سے) باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور اگر انہوں نے پھر وہی کام کیے تو (اس معاملہ میں) پہلوں کی سنت گزر چکی ہے “

سابقہ آیات سے ارتباط اور شان نزول 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی مالی عبادتیں اور بدنی عبادتیں بیان فرمائی تھیں اور اس آیت میں ان کو اسلام لانے کی دعوت دی ہے۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے نبی مکرم ! آپ ان مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے سے باز آجائیں اور ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہ معاف کردے گا اور اگر ان مشرکوں نے پھر آپ کے خلاف جنگ کی اور مسلمانوں پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح جنگ بدر میں مسلمانوں کی مدد کی تھی اور مشرکین کو شکست اور رسوائی سے دوچار کیا تھا وہ پھر ایسا ہی کرے گا۔ کیونکہ اس معاملہ میں اللہ کی سنت پہلوں میں جنگ بدر میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح پچھلی امتوں کے کافروں نے جب اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور سرکشی کی اور ان رسولوں کی نصیحت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عبرت ناک عذاب سے دوچار کردیا۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی : اللہ نے لکھ دیا ہے کہ یقیناً ضرور بہ ضرور غلبہ مجھے ہوگا اور میرے رسولوں کو ہوگا۔ (المجادلہ :21)

ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون : اور بیشک ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھا دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ (الانبیاء :105)

ایمان لانے سے سابقہ گناہوں کے معاف ہونے کے متعلق قرآن اور سنت سے دلائل 

اس آیت میں فرمایا کہ اگر کافر کفر سے باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے قرآن مجید میں ہے : وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68؀ۙ يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا 69؀ ڰ اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَـيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 70؀: (الفرقان :68 ۔ 70) اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے اور اس شخص کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کردیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں، اور جو ایسا کرے گا وہ سزا پائے گا۔ قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب دیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت سے رہے گا۔ البتہ جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیے تو اللہ ان کے گناہوں کو بھی نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

اور کفر کے ترک کرنے اور ایمان لانے سے گناہوں کے مت جانے کے متعلق امام مسلم نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے : 

ابن شماسہ مہری بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن العاص کے پاس گئے وہ اس وقت قریب المرگ تھے۔ وہ بہت دیر تک روتے رہے پھر انہوں نے دیوار کی طرف منہ کرلیا۔ ان کے بیٹے نے کہا اے ابا جان ! کیا آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں چیز کی بشارت نہیں دی، کیا آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں چیز کی بشارت نہیں دی، حضرت عمرو بن العاص نے ان کی طرف منہ کرکے فرمایا ہمارے نزدیک سب سے افضل عبادت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دینا ہے اور میری زندگی میں تین دور گزرے ہیں ایک وہ دور تھا کہ میرے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ بات یہ تھی کہ میں آپ پر قدرت پاتا اور آپ کو قتل کردیتا۔ اگر میں اس دور میں مرجاتا تو میں بلاشبہ اہل دوزخ میں سے ہوتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام ڈال دیا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : اپنے ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ نے اپنا ہاتھ پھیلایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ نے پوچھا اے عمرو ! کیا ہوا ؟ میں نے کہا میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا تم کیا شرط لگانا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ میری مغفرت کردی جائے۔ آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت پہلے کے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتی ہے، اور حج پہلے کے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اس وقت مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا اور نہ میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ کوئی بزرگ تھا۔ اور آپ کے جلال کی وجہ سے میں یہ طاقت نہیں رکھتا تھا کہ میں آپ کو نظر بھر کر دیکھ سکوں اور اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرتا کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں تو میں اس پر قادر نہ تھا، کیونکہ میں نے آپ کو نظر بھر کر نہیں دیکھا تھا اور اگر میں اس دور میں مرجاتا تو مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوتا۔ پھر ہمیں چند مناصب پر فائز کیا گیا اور میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے۔ پس اگر میں مرجاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ ہو، نہ آگ ہو، اور جب تم مجھے دفن کرچکو تو میری قبر پر مٹی چھڑک دینا اور پھر میری قبر پر اتنی دیر ٹھہرنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کے گوشت کو تقسیم کیا جاتا ہے حتی کہ میں تم سے مانوس ہوجاؤں اور میں دیکھوں کہ میں اپنے رب کے بھیجے ہوئے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم الایمان : 192 (121) 314، مطبوعہ مکتبہ نزار المصطفی الباز مکہ مکرمہ 1417 ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی 6565 ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ اسلام، ہجرت اور حج پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ۔ اور حدیث کے الفاظ کے عموم سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ان اعمال سے حقوق شرعیہ اور حقوق آدمیہ دونون معاف ہوجاتے ہیں۔ لہذا کافر حربی جب مسلمان ہوجائے تو اس سے کسی حق کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا خواہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا کسی کا مال غصب کیا ہو۔ (المفہم ج 1، ص 329، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت 1417 ھ)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول اللہ کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال کا ہم سے مواخذہ کیا جائے ا ؟ آپ نے فرمایا تم میں سے جس نے اسلام میں نیک عمل کیے اس سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور جس نے برے عمل کیے اس سے جاہلیت اور اسلام کے اعمال کا مواخذہ کیا جائے گا۔ دوسری روایت میں ہے اس سے اول اور آخر کا مواخذہ کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6921 ۔ صحیح مسلم الایمان : 189 (120) 311 ۔ مسند احمد ج 1، ص 462، 379) 

علامہ ابوالعباس القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو یہ ارشاد ہے کہ جس نے اسلام میں نیک عمل کیے اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا دین اسلام میں دخول صحیح ہو۔ وہ اسلام میں اخلاص سے داخل ہو اور تاحیات اسلام پر قائم رہے۔ مرتد نہ ہو، اور اس حدیث میں اساءت، کفر اور نفاق کے مقابلہ میں ہے۔ اور اس حدیث میں اساءت سے گناہ کبیرہ اور صغیرہ کا ارادہ کرنا صحیح نہیں ہے، ورنہ اس سے یہ لازم آئے گا اسلام اسی شخص کے سابقہ گناہوں کو مٹائے گا جس نے اسلام لانے کے بعد تاحیات کوئی گناہ نہ کیا ہو اور یہ قطعاً باطل ہے۔ قرآن مجید، حدیث صحیح اور اجماع کے خلاف ہے۔ اور مواخذہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں جو گناہ کیے ہیں ان پر سزا ہوگی اور یہ مواخذہ اس شخص سے ہوگا جو نفاق سے اسلام میں داخل ہوا ہو یا اسلام کے بعد مرتد ہوگیا ہو۔ (المفہم ج 1، ص 327، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں احسان اور نیک عمل سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے اسلام میں داخل ہوا ہو اور یہ کہ وہ حقیقی مسلمان ہو تو اس کے سابقہ گناہ قرآن مجید کے نصوص صریحہ، حدیث صحیح اور جماع سے معاف کردیے جائیں گے، اور برے عمل اور اساءت سے مراد یہ ہے کہ وہ دل سے اسلام میں داخل نہ ہو بلکہ وہ صرف بہ ظاہر کلمہ شہادت پڑھے اور دل سے اسلام کا معتقد نہ ہو۔ پس ایسا شخص منافق ہے اور وہ اپنے کفر پر باقی ہے۔ لہذا اس سے صورۃً اسلام کے اظہار سے پہلے اور اس کے بعد کے تمام گناہوں پر مواخذہ ہوگا اور اس کو سزا ملے گی کیو کہ وہ اپنے کفر پر دوام اور استمرار کے ساتھ قائم ہے۔ (شرح النواوی مع المسلم، ج 1، ص 810، مطبوعہ مکتبہ نزار المصطفی مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

کافر کے سابقہ گناہوں کے بخشنے میں اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم 

اللہ تعالیٰ کافر کے جو پچھلے تمام گناہ بخش دیتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر بہت بڑا لطف و کرم ہے۔ کیونکہ کفار انواع و اقسام کے کفر اور جرائم، فواحش و منکرات اور معاصی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر ان کے سابقہ گناہوں پر موخذہ کیا جاتا تو وہ توبہ سے ان گناہوں کی تلافی کبھی بھی نہیں کرسکتے تھے اور ان کو مغفرت کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قبول توبہ کو آسان کردیا اور اسلام کے بعد ان کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کا اعلان کردیا تاکہ ان کا دین اسلام میں داخل ہونا آسان ہوجائے، اور اگر ان کو یہ معلوم ہوتا کہ ان کے پچھلے گناہوں پر ضرور مواخذہ ہوگا تو وہ توبہ کرتے نہ اسلام لاتے۔ کیونکہ انسان کو جب معلوم ہو کہ اس کو اس کے جرائم کی معافی نہیں مل سکتی تو پھر وہ بغاوت پر اتر آتا ہے اور کھل کر جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی نظیر یہ حدیث ہے : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے۔ اس نے پوچھا روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے تو ایک راہب (عیسائیوں کا پیر) کی طرف اس کی رہنمائی کی گئی وہ گیا اور اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کردیا اور ایک سینکڑہ پورا کردیا۔ اس نے پھر پوچھا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے تو ایک عالم کی طرف اس کی رہنمائی کی گئی۔ اس نے اس سے پوچھا کہ اس نے سو قتل کیے ہیں کیا اس کی توبہ ہوسکتی ہے، اس نے کہا ہاں۔ توبہ اور اس کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے تم فلاں فلاں جگہ چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور اپنے علاقہ کی طرف لوٹ کر نہ جانا وہ بری جگہ ہے۔ وہ وہاں سے چل پڑا۔ ابھی آدھے راستے پر پہنچا تھا کہ اس کو موت نے آلیا۔ پھر اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذب کے فرشتوں کے درمیان مباحثہ ہوا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ شخص توبہ کرتا ہوا اور اپنے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوا آیا تھا۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا اس نے کوئی نیک عمل بالکل نہیں کیا۔ تب ان کے پاس ایک اور فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا انہوں نے اس کو اپنے درمیان حکم (منصف) بنا لیا۔ اس نے کہا ان دونوں زمینوں کے درمیان پیمائش کرو جس زمین کے وہ زیادہ قریب ہو اس کو اسی کے ساتھ لاحق کردو۔ انہوں نے پیمائش کی تو وہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ تب اس کو رحمت کے فرشتوں نے لے لیا۔ 

امام مسلم کی دوسری سند کے ساتھ جو روایت ہے (6877) اس میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا (یعنی اس کے علاقہ کی زمین) اور اس زمی (جہاں نیک لوگ رہتے تھے) کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3470 ۔ صحیح مسلم التوبہ : 46 (2766) 6875 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2622)

زندیق کی توبہ مقبل ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق 

زیر تفسیر آیت میں فرمایا ہے کہ اگر کافر کفر سے باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور زندیق بھی کافر ہے سو اگر وہ اپنی زندیقی سے باز آجائے تو اس کے پچھلے گناہ بھی معاف ہوجانے چاہئیں۔ لیکن اس مسئلہ میں اختلاف ہے بعض فقہاء کہتے ہیں کہ زندیق کی توبہ مقبول ہے جیسا کہ اس ظاہر آیت کا تقاضا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی زندیقی کو مخفی رکھتا ہے اور اس کی توبہ پر اطمینان نہیں ہے۔ ہم اس مبحث میں پہلے زندیق کا معنی بیان کریں گے پھر زندیق اور دہری وغیرہ کا فرق بیان کریں گے، پھر فقہاء کا اختلاف ذکر کریں گے اور آخر میں یہ بتائیں گے کہ اس کی توبہ قبول نہ ہونے کا کیا محمل ہے۔ 

زندیق کا معنی اور مفہوم 

علامہ محمد طاہر ہندی متوفی 1078 ھ علامہ طیبی متوفی 743 ھ سے نقل کرکے لکھتے ہیں : 

زنادقہ مجوس کی ایک قوم ہے جس کو ثنویہ بھی کہتے ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نور مبدء خیرات ہے اور ظلمت مبدء شرور ہے۔ پھر اس لفظ کو ہر ملحد فی الدین کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اور یہاں اس سے مراد وہ قوم ہے جو اسلام سے مرتد ہوگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ زنادقہ سبائیہ کو کہتے ہیں جو عبداللہ بن سبا کے اصحاب ہیں، ان لوگوں نے طلب فتنہ اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا اظہار کیا۔ پہلے انہوں نے حضرت عثمان (رض) کے خلاف فتنہ پھیلایا، پھر شیعوں سے مل کر ان کو ان کی جہالتوں میں گمراہ کیا، حتی کہ شیعوں نے حضرت علی (رض) کے معبود ہونے کا اعتقاد کیا، حضرت علی نے ان سے توبہ طلب کی انہوں نے توبہ نہیں کی۔ پھر حضرت علی (رض) نہ نے ان کو عبرت ناک سزا دینے کے لیے ان کو جلا دیا۔ اور علامہ ابن الاثیر متوفی 630 ھ نے جامع الاصول کی شرح میں لکھا ہے کہ زندیق وہ شخص ہے جو کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کو ظاہر کرتا ہو، جس طرح منافق ہیں، یا یہ ثنویہ کی ایک قوم ہے۔ (مجوس کی ایک قسم) یا وہ شخص ہے جس کا کوئی دین نہ ہو یا یہ وہ لوگ ہیں جن کو حضرت علی نے جلا دیا تھا جو بتوں کی پرستش کرتے تھے یا رافضی ہیں۔ (مجمع بحار الانوار، ج 2، ص 441، 442، مطبوعہ مکبتہ دار الایمان، المدینہ المنورہ، 1415 ھ)

زندیق، منافق، دہری اور ملحد کی تعرفیوں کا باہمی فرق 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن کمال پاشا نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے عربی زبان میں زندیق کا اطلاق اس شخص پر کیا جاتا ہے جو باری تعالیٰ کی نفی کرتا ہو، اور جو شریک کو ثابت کرتا ہو، اور جو اللہ کی حکمت کا انکار کرتا ہو، اور مرتد اور زندیق کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسب ہے، کیونکہ کبھی زندیق مرتد نہیں ہوتا جیسا کہ اصلی زندیق جو دین اسلام سے منحرف نہ ہوا ہو۔ اور کبھی مرتد زندیق نہیں ہوتا جیسے کوئی مسلمان مثلاً یہودی یا عیسائی ہوجائے (العیاذ باللہ) اور کبھی زندیق مرتد بھی ہوتا ہے مثلاً کوئی مسلمان زندیق ہوجائے۔ العیاذ باللہ۔ اور اصطلاح شرع میں فرق زیادہ ظاہر ہے کیونکہ شریعت میں زندیق اس کو کہتے ہیں جو کفر کو چھپائے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اعتراف کرے لیکن یہ دوسری قید مسلمان زندیق کے اعتبار سے ہے اور زندیق، منافق، دہری اور ملحد میں فرق یہ ہے کہ کفر کو چھپانا تو ان سب میں مشترک ہے لیکن منافق ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اعتراف نہیں کرتا، اور دہری اس کے ساتھ ساتھ حوادث کی اللہ سبحانہ کی طرف نسبت کا بھی انکار کرتا ہے۔ (یعنی خدا کو نہیں مانتا) اور ملحد وہ شخص ہے جو شریعت مستقیمہ سے انحراف کرکے جہات کفر میں سے کسی جہت کی طرف مائل ہو اور جو شخص ملحد ہو اور دین سے انحراف کرے اس کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اعتراف کرے اور نہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے فاعل مختار ہونے کا اعتراف کرے۔ اس قید کے اعتبار سے ملحد، دہری سے مفارق ہوگیا اور اس میں کفر کو چھپانے کی قید بھی نہیں ہے اس اعتبار سے وہ منافق سے مفاق اور الگ ہوگیا۔ اور نہ اس میں یہ شرط ہے کہ وہ پہلے مسلمان ہو اور اس اعتبار سے وہ مرتد سے ممتاز ہوگیا لہذا ملحد کی تعریف کفر کے تمام فرقوں کو شامل ہے اور اس کا مفہوم سب سے عام اور وسیع ہے۔ یہاں تک ابن کمال پاشا کے کلام کا خلاصہ مکمل ہوا۔ 

(علامہ شامی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں لیکن زندیق اس اعتبار سے کہ وہ کبھی کافر اصلی ہوتا ہے اور کبھی مسلمان زندیق ہوجاتا ہے۔ اس کی تعریف میں نبوت کے اعتراف کی شرط نہیں ہے اور فتح القدیر میں مذکور ہے کہ زندیق کسی دین کا پابند نہیں ہوتا۔ (رد المحتار ج 3، س 296، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1407 ھ)

زندیق کی توبہ اور اس کو قتل کرنے کے شرعی احکام 

علامہ عبدالواحد کمال ابن ہمام متوفی 862 ھ فرماتے ہیں :

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ طاہر مزہب کے مطابق ساحر اور زندگیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور زندیق وہ شخص ہے جو کسی دین کا پابند نہ ہو اور رہا وہ شخص جس کے باطن میں کفر ہو اور وہ اسلام کو ظاہر کرتا ہو وہ منافق ہے، اور توبہ قبول نہ کرنے میں اس کا حکم بھی زندیق کی طرح ہے۔ زندیق کی توبہ اس لیے قبول نہیں کی جائے گی کہ وہ کسی دین کو بھی نہیں مانتا اور اپنے اس کفر کو مخفی رکھتا ہے، اور اس کی زندیقی کا علم اس طرح ہوگا کہ بعض لوگ اس پر مطلع ہوجائیں یا وہ خود اپنے کس معتمد علیہ کو بتائے۔ اس لیے اس کی توہ پر اطمینان نہیں ہے۔ اور منافق بھی اپنے کفر کو مخفی رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی، اور حق یہ ہے کہ جس کو قتل کیا جائے گا اور جس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، وہ منافق ہے اور زندیق اگر عربی ہو اور وہ کسی دین کے نہ ماننے کو منافق کی طرح مخفی رکھتا ہو تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اگر بالفرض وہ اپنی زندیقی کا اہار کرتا ہو اور پھر تائب ہوجائے تو پھر واجب ہے کہ اس کو قتل نہ کیا جائے اور اس کی توبہ قبول کرلی جائے، جیسا کہ باقی دیگر ان کفار کا حکم ہے جو اپنے کفر کو ظاہر کرتے ہیں اور پھر توبہ کرلیتے ہیں تو ان کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔ اسی طرح اس شخص کا حکم ہے جو اپنے باطن میں بعض ضروریات دین مثلاً حرمت خمر (انگوری شراب) کی حرمت کا انکار کرتا ہو اور بہ ظاہر اس کی حرمت کا اعتراف کرتا ہو۔ (فتح القدیر، ج 6، ص 91، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

علامہ محمد بن علی بن محمد الحصکفی المتوفی 1081 ھ لکھتے ہیں : 

فتح القدیر میں مذکور ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اس کو ظاہر المذاہب قرار دیا ہے، لیکن خانیہ کی بحث خطر و ابحات میں مذکور ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ اگر ساحر یا اس زندیق کو توبہ سے پہلے گرفتار کرلیا جائے جو مشہور ہو اور اپنے مذہب کا داعی ہو پھر گرفتاری کے بعد وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اس کو قتل کردیا جائے گا اور اگر توبہ کرنے کے بعد اس کو گرفتار کیا جائے تو پھر اس کی توبہ قبول کی جائے گی (میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن ہمام نے اس زندیق کی توبہ قبول نہ کرنے کے متعلق لکھا ہے جو اپنی زندیقی کو مخفی رکھے لیکن جو اپنی زندیقی کا اعلان کرے اور اس کی دعوت دے اس کا انہوں نے عام کافروں کی طرح حکم بیان کیا ہے۔ سعیدی غفرلہ۔ (در مختار علی رد المحتار، ج 3، ص 296، مطبوعہ بیروت)

زندیق کی توبہ مقبول ہونے یا نہ ہونے کے الگ الگ محمل 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : 

صاحب ہدایہ نے تجنیس میں لکھا ہے اگر زندیق اپنی زندیقینی میں معروف نہ ہو اور نہ اپنی زندیقی کی دعوت دیتا ہو تو اگر وہ زندیق مشرکین عرب سے ہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا اور اگر وہ عجمی ہو تو اس کو اس کے شرک پر چھور دیا جائے گا اور اگر وہ مسلمان ہو اور پھر زندیق بنا ہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا کیونکہ وہ مرتد ہے، اور اگر وہ ذمی ہو اور پھر زندیق بنا ہو تو اس کو اس کے حال پر چھور دیا جائے گا کیونکہ کفر ملت واحدہ ہے، اور اگر زندیق اپنی زندیقی میں معروف ہو اور اپنی زندیقی کی دعوت دیتا ہو تو اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے اپنے اختیار سے توبہ کرے اور اپنی زندیقی سے رجوع کرے تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور اگر وہ گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ فقہاء نے جو کہا ہے کہ ساحر یا زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو قتل نہ کرنے کے معاملہ میں اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب و شتم کرنے والے کے متعلق جو کہا گیا ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس کا بھی یہی محمل ہے کہ سب و شتم کرنے والے کو قتل نہ کرنے کے معاملہ میں اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ زندیق کی توبہ قبول کرنے یا نہ کرنے میں جو اختلاف ہے وہ دنیا کے اعتبار سے ہے باقی آخرت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی توبہ بالاتفاق قبول کرلی جائے گی۔ (رد المحتارج 3 ص 296، مطبوعہ بیروت)

زندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر امام رازی کے دلائل اور تحقیق مقام 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ زندیق کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟ اور صحیح یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول ہوگی اور اس کی دو دلیلییں ہیں، پہلی دلیل سورة الانفال کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (الانفال : 38) یہ آیت کفر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں زندیق بھی داخل ہے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ زندیق کے حال سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے واقعی زندیقی سے توبہ کرلی ہے یا نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کے احکام ظاہر پر مبنی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” ہم ظاہر پر حکم کرتے ہیں ” اور جب اس نے زندیقی سے توبہ کرلی تو اس کی توبہ کو قبول کرنا واجب ہے۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ زندیق زندیقی سے رجوع کرنے کا مکلف ہے اور اس کا صرف یہی طریقہ ہے کہ وہ توبہ کرے اور اگر اس کی توبہ قبول نہ کی جائے تو لازم آئے گا کہ اس کو ایسی چیز کا مکلف کیا جائے جو اس کی طاقت میں نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیئات : وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے ” (الشوری :25) ۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 483، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

امام رازی نے زندیق کی جس توبہ کے قبل کرنے پر دلائل دیے ہیں، یہ اللہ کے نزدیک توبہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ اور اس توبہ کے متعلق فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہ توبہ قبول ہوگی۔ فقہاء کا اختلاف اس میں ہے کہ زندیق توبہ کرلے تو آیا اس کو قتل کرنے کا حکم ساقط ہوگا یا نہیں اور دنیا میں اس کی یہ توبہ مفید ہوگی یا نہیں، اور زندیق کی توبہ کے قبول کرنے یا نہ کرنے سے ان کی یہی مراد ہے اور آخرت میں اس کی توبہ کے مقبول ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ ہم علامہ شامی کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 38