سؤال نمبر 1 :

اللہ رب العزت نے کیوں فرمایا:

( لنريه من آياتنا / تاكہ ہم أنکو أپنی نشانیاں دکھائیں)

أور أس نے فرمایا:

( إنه هو السميع البصير / بے شک وہی ذات سننے والی ہے أور دیکھنے والی ہے)

کسکو سنا أور دیکھا؟

جواب:

اللہ رب العزت نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی أس دعاء کو سنا جو آپ نے تکالیف کے بعد کی ، أور جو کچھ کفار نے آپکے ساتھ استہزاء کیا أسکو دیکھا ،

جب اللہ رب العزت نے آپکی دعاء کو سنا أور آپکے ساتھ ہونے والی جفاؤں کو دیکھا تو اللہ کی مشیت نے چاہا کہ وہ ذات أپنے محبوب کو أپنی نشانیاں دکھائے إسی لیے فرمایا:

( لنريه من آياتنا إنه هو السميع البصير ).

سؤال نمبر 2 :

أگر اللہ رب العزت آپکو لے گیا تو پھر زمانے کی قید کیوں فرمائی لفظ لیل یعنی رات کے ساتھ؟

کیونکہ مسافہ أور قوت میں تناسب تناسب عکسی ہوتا ہے مطلب جس طرح قوت بڑھے گی تو مسافہ کم ہوگی، تو یہاں تو قوت قوت باری تعالیٰ تھی تو پھر زمانہ کیسا؟

جواب:

ذات اسراء أور جو کچھ أس سفر میں دکھایا گیا دونوں میں فرق ہے ، نشانیاں حضور صلی الله علیہ وسلم نے أپنی بشری ذات کے ساتھ دیکھیں ، تو قانون بھی بشری ہونا چاہیے تھا ، أور قانون بشری میں لازمی ہے کہ زمانہ بھی ہو لہذا زمانہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اعتبار سے ہے نہ کہ ذات اسراء یعنی جس ذات نے یہ سفر کروایا أس کے اعتبار سے نہیں۔۔

سؤال نمبر 3 :

حضور صلی الله علیہ وسلم کیسے گے ؟ أور کیسے واپس آئے؟ ہوسکتا ہے اسراء روح کے ساتھ ہوا ہو؟ یا روح و جسد دونوں کے ساتھ؟

جواب:

ایک بات یاد رکھیں ، اسراء و معراج کا فعل حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے صادر نہیں ہوا یعنی وہ خود نہیں گے بلکہ أنکو لے جایا گیا لہذا قانون بشریت کے مطابق آپکے جانے و آنے کو نہیں پرکھیں گے۔

أگر روح کے ساتھ اسراء و معراج ہوتی تو کفار مکہ آپ سے سؤال نہ کرتے ،کیونکہ أگر کوئی شخص کہے کہ میں خواب میں ایک ہی رات میں لندن گیا بھی أور واپس بھی آگیا تو کیا کوئی اعتراض کرے گا؟

نہیں ، تو کفار مکہ کا اعتراض و استفسار دلیل ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو اسراء و معراج جاگتے ہوئے روح و جسم دونوں کے ساتھ ہوئی

إسی لیے قرآن کریم نے فرمایا:

( وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس) اسراء ، ٦٠

أگر یہ سفر مبارک خواب میں یا روح کے ساتھ ہوتا تو کبھی یہ سفر مبارک أنکے لیے فتنہ یعنی آزمائش نہ ہوتی ، کیونکہ خواب میں تو کوئی بھی کہیں بھی جاسکتا ہے تو کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا، اعتراض تبھی ہوگا جب کوئی أیسے مختصر سے وقت میں جاگتے ہوئے اتنی مسافت پر مبنی فیصلہ طے کرلے لہذا یہ آیت بھی دلیل ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو سفر معراج و اسراء جسم و روح کے ساتھ جاگتے ہوئے ہوا.

سؤال نمبر 4:

آپ نے جس آیت سے دلیل پکڑی ہے أس میں لفظ ( رؤیا) ہے جو خواب کے لیے بولا جاتا ہے تو آپ نے کیسے اس آیت سے جاگتے ہوئے اس سفر مبارک پر دلیل پکڑی؟

جواب:

عربی میں یہ لفظ أصلا خواب ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے

لیکن عربی میں ہی بطور بلاغت اسکا استعمال جاگتے ہوئے کسی شئے کو دیکھنے کے لیے أس وقت استعمال ہوتا ہے جب إنسان جاگتے ہوئے کوئی بہت بڑی شئے کو دیکھے جسکا دیکھنا صرف خواب ہی میں ممکن ہو تو سفر معراج و اسراء مبارک بھی وہ عظیم سفر تھا جسکی اتنی طویل مسافت صرف خواب میں ہی ہوسکتی تھی جسکو حضور صلی الله علیہ وسلم نے جاگتے ہوئے جسم و روح کے ساتھ طئے فرمایا۔۔

لہذا لفظ ( رؤیا) استعمال کرکے سفر معراج و اسراء کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا کہ جو سفر صرف خواب میں ممکن ہوسکتا ہے وہ ہم نے أپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگتے ہوئے طئے کروایا.

سؤال نمبر 5 :

إس آیت میں اللہ رب العزت نے لفظ ( جعل) کیوں استعمال فرمایا؟

جواب:

جعل جب معدوم شئے کے ساتھ بولا جائے تو مطلب ہوتا ہے أسکو وجود دینا یعنی تخلیق کرنا ، أور جب موجود شئے کے ساتھ بولا جائے تو مطلب ہوتا ہے أس شئے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا ،

یعنی جعل کے ساتھ ایک مفعول آئے توعدم سے وجود میں لانا مقصود ہوتا ہے ، أور دو مفعول ہوں تو موجود کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا مراد ہوتا ہے مثلا :

( قال إني جاعلك للناس إماما/ أس نے فرمایا: بے شک میں تمہیں لوگوں کے لیے إمام بناتا ہوں) بقرہ ، ١٢٤ .

إس میں واضح ہے کہ دو مفعول ہیں لہذا ابراہیم علیہ السلام کے مقام میں تبدیلی کو بیان کیا جارہا ہے

تو رؤیت والی آیت میں لفظ ( جعل) استعمال کرکے إس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ رؤیت پہلے موجود تھی أب ہم أس رؤیت کی حالت کو تبدیل کررہے ہیں یعنی خواب والی رؤیت کو یقظہ والی رؤیت میں بدل رہے ہیں لہذا یہ لفظ بھی دلیل ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو جاگتے ہوئے معراج و اسراء کا سفر مبارک کروایا گیا۔

سؤال نمبر 6 :

آیت میں ( برسوله يا بنبيه) کی بجائے ( بعبده ) کیوں فرمایا ؟

جواب:

(بعبدہ) اس لیے فرمایا کہ تمام أنبیاء تصحیح عبودیت کے لیے آئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کا ذکر عبودیت کے ساتھ کرنا اس بات کی طرف إشارہ ہے کہ عبودیت محمدی میں مخلوق کے لیے أسوہ حسنہ ہے ، اب وہی عبودیت قبول ہوگی جو عبودیت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگی۔

پس اس آیت میں ذکر عبودیت حضور صلی الله علیہ وسلم کے شرف کی طرف إشارہ کررہا ہے۔

أور ( بعبدہ) اس لیے بھی فرمایا تاکہ لوگ جان لیں کہ ہم نے یہ عظیم سفر مدت قصیرہ میں أپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم و روح کے ساتھ حالت یقظہ ( جاگتے) میں کروایا ، کیونکہ کلمۃ عبد جسم و روح دونوں ہوں تو بولا جاتا ہے

قلت: عبودیت میں حجیت حدیث کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو میرا مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کرے أسی کو کرے یہی عبودیت ہے ، أور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس سفر میں عبودیت کا عظیم تحفہ ملنے والا تھا أور وہ ہے نماز ،لہذا فرضیت نماز کی طرف بھی اشارہ ہے.

سؤال نمبر 7 :

مسجد أقصی کیوں فرمایا حالانکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے أس میں نماز نہیں پڑھی ، أور نہ ہی یہاں پہ مسجد أقصی موجودہ مسجد کے معنی میں ہے؟

جواب:

جب کسی شئے کا استعمال اشتقاق وصفی کے طور پہ ہو یا علم ( نام) کے طور پہ ہو تو دونوں استعمال میں فرق ہوتا ہے ، أور یہاں پہ مسجد اقصی علم کے طور پہ استعمال ہوا ہے یعنی خاص مسجد کے نام سے کیونکہ مسجد کا وجود حضور صلی الله علیہ وسلم کی شریعت میں ہی نہیں بلکہ پہلے بھی مساجد تھیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( لنتخذن عليهم مسجدا/ ہم ضرور بالضرور أنکے أوپر مسجد بنائیں گے) کھف، ٢١ .

سؤال نمبر 8 :

آیت اسراء میں یہ کیوں کہا گیا ( من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی ) یعنی یہ سفر مبارک مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ ہی کی طرف کیوں ہوا ؟ کسی أور جہت سے کیوں نہیں؟

جواب:

یہ سفر مبارک مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف ہونے سے بہت سے حقائق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے

مثلا اس میں عموم رسالت کی طرف إشارہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت تمام لوگوں کے لیے ہے حتی کہ بنی اسرائیل کے لیے بھی جنکی طرف أنبیاء تشریف لائے ، کیونکہ مسجد اقصی قدسیت موسی و عیسں علیہ السلام سے مزین ہے ،

أور مسجد حرام قدسیت کعبہ سے منور ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو ذات قدسیت کعبہ سے نکلی أسکی نبوت کے احاطہ میں تمام بشریت آتی ہے لہذا إس میں أن یہودیوں و عیسائیوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت صرف اہل عرب کے لیے تھی۔

تو مسجد أقصی میں داخل ہونا اس بات کی طرف إشارہ کرتا ہے کہ آپکی شریعت مسجد أقصی میں بھی داخل ہوچکی تو جس جس کے بھی مقدسات دینی مسجد أقصی سے منسلک ہیں وہ سمجھ لیں کہ أنکے مقدسات میں نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوچکی ہے ، اب أن لوگوں کا تقدس تبھی ہے جب وہ نبوت محمدی پر إیمان لائیں۔

(کتاب الاسراء و المعراج للعارف باللہ الشیخ محمد متولی الشعراوی الأزہری رحمہ اللہ۔)

سؤال نمبر 9 :

اللہ رب العزت نے سفر اسراء کا ذکر صراحتاً کیا لیکن سفر معراج کا ذکر صراحتاً کیوں نہ کیا ؟

کیا حکمت ہے اس میں؟

جواب:

سفر اسراء کا ذکر صراحتاً کرنے أور معراج کا ذکر کنایتا کرنے یعنی اسراء کا ذکر کیا تو فرمایا ( من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی ) ، أور معراج کے ذکر میں نہیں فرمایا ( من المسجد الأقصی إلي سدرة المنتهى ) کیونکہ اس میں اللہ رب العزت کی رحمت کی طرف اشارہ ہے ،

وہ اس طرح کہ مسجد حرام سے مسجد أقصی تک کے راستے کو لوگوں نے دیکھا ہوا تھا ، أور بیت المقدس سے سدرۃ المنتھی پھر لامکاں تک کے طریق سے کوئی واقف نہیں تھا ،

لہذا اسراء پر مادی دلیل قائم کرنا ممکن تھا جیسے کفار نے پوچھا کہ آپ بتائیں پھر مسجد اقصی کے بارے میں ؟

لیکن معراج پر مادی دلیل قائم کرنا مستحیل تھا کیونکہ لوگوں نے وہ رستہ دیکھا ہوا نہ تھا ، أگر مادی دلیل قائم بھی کی جاتی تو بھی وہ نہ مانتے پھر اس دلیل پر بھی سؤال ہوتا اس طرح اعتراضات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا کیونکہ انہوں نے سدرۃ المنتھی کو دیکھا ہوا نہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے فرمایا جو سفر اسراء کا إنکار کرے وہ کافر أور جو معراج کا إنکار کرے وہ گمراہ ہے یہی اللہ کی رحمت ہے کہ معراج کا ذکر کنایتا کرنے میں منکر تکفیر سے بچ گیا۔

سؤال نمبر 10 :

جب سفر اسراء کا ذکر کیا تو ( لنریہ) ذکر کیا یعنی ہم نے دکھایا ، لیکن جب معراج کا ذکر کیا تو فرمایا ( رأی ) مطلب أس نے خود دیکھا ۔

اسراء میں نشانیاں دکھائی گئیں أور معراج میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانیوں کو خود دیکھا یہ فرق کیوں؟

جواب:

اللہ رب العزت نے جب اسراء کا ذکر کیا تو فرمایا ( لنریه من آياتنا / تاکہ ہم أسکو أپنی نشانیاں دکھائیں) أور جب معراج کا ذکر کیا تو فرمایا ( ولقد رأى من آيات ربه الكبرى/ تحقیق أس نے أپنے رب کی نشانیوں میں سے بڑی نشانی کو دیکھا)

إن دو آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسراء میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانیاں دکھائی گئیں ، أور معراج میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانیوں کو خود دیکھا یہ جو فرق کیا گیا ہے اس میں مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ ہے ، 

اسراء میں آپ مقام بشریت پر تھے تو لازم تھا کہ اللہ رب العزت أپنی نشانیوں کو قانون بشریت میں ڈھالے تاکہ أسکا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم أن نشانیوں کو دیکھ پائیں کیونکہ وہ مقام بشریت میں خود وہ نشانیاں نہیں دیکھ سکتے تھے لہذا کوئی دکھانے والا ہونا چاہیے تھا تو اس لیے فرمایا ( لنريه) ۔

جب معراج کا سفر شروع ہوا تو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بشریت مقام نورانیت میں ڈھل چکا تھا اب وہاں نورانی چیزوں کو قانون بشریت میں ڈھالنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ اب وہ خود ہر نشانی کو دیکھ سکتے تھے لہذا اس لیے معراج میں فرمایا ( ولقد رأى من آيات ربه الكبرى )

إس سے واضح ہوتا ہے کہ اسراء میں دکھایا گیا اور معراج میں خود دیکھا یہ مقام بشریت سے مقام نورانیت کے ارتقائی مراحل کی طرف اشارہ ہے۔

سؤال نمبر 11 :

آیت ( ولقد رأى من آيات ربه الكبرى) میں ( کبری) آیات کی صفت ہے جسکا معنی ہوگا کہ تحقیق أس نے أپنے رب کی بڑی نشانیوں کو دیکھا؟ یا پھر کسی أور چیر کی طرف إشارہ ہے؟

جواب:

مفسرین نے جو بیان کیا وہ یہی ہے کہ کبری آیات کی صفت ہے جسکا مفہوم ہے کہ بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں لیکں جو سیاق بتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آیات کی صفت نہی بلکہ مفعول ہے جسکا مطلب ہے کہ نشانیوں میں سے کسی عظیم نشانی کی زیارت کی

لہذا جب ہم سیاق کو دیکھیں ( ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین أو أدنی / وہ قریب ہوا پھر وہ اور قریب ہوا ، پس دو کمانوں کے برابر یا أس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا تھا ) النجم۔

سدرہ منتہی تک جبریل ساتھ تھے لیکن سدرہ کے بعد وہ ساتھ نہیں تھے جس سے یہ واضح معلوم ہوتا ہے کہ الکبری میں إشارہ ہے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے أپنے رب کو دیکھا بلا کیف و تشبیہ و تمثیل۔

سؤال 12 :

أگر آپ کہتے ہیں کہ دنو سے مراد یہ ہے کہ اللہ قریب ہوا تو کیا یہ تفسیر آیت( لبس كمثله شيء / أسكي مثل کوئی شئے نہیں) کے خلاف نہیں کیونکہ أگر اللہ قریب ہوا تو یہ انتقال ہے ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف تو مثلیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ انتقال مخلوق کی صفت ہے اللہ کی نہیں؟

جواب:

جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ موجود ہے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم موجود ہیں تو کیا اللہ کا موجود ہونا ہماری طرح موجود ہونے کے معنی میں ہوگا؟

نہیں ،

جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ جانتا ہے ، أور ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں تو کیا اللہ کا جاننا ہمارے جاننے کی طرح ہوگا؟

نہیں،

تو پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ معراج کی رات اگر دنا سے مراد اللہ لیا جائے تو مطلب جیسے ہم قریب ہوتے وہ بھی ویسے ہی قریب ہوا ؟

جب أوپر والی صفات میں تشابہ نہیں ہوا تو پھر دنو یعنی اللہ کا قریب ہونا بھی مخلوق کی طرح قریب ہونا نہیں۔

لہذا اللہ کی ذات أسکا فعل أور أسکی صفات ہماری طرح نہیں ،تو جس طرح باقی صفات میں تشابہ کا خوف نہیں إسی طرح دنا فتدلی والی صفت میں بھی تشابہ کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔

قلت: یہ تقرب حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے تھا جیسے زمانہ کا تعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے تھا۔ لہذا کوئی مماثلت نہیں۔

معراج کا سدرۃ المنتھی تک انکار کرنے والا اس مسئلہ میں گمراہی ہر ہے بشرطیکہ وہ مطلقاً انکار کرے أگر یقظۃ یا مناما یعنی جاگتے یا خواب میں معراج ہونے کے اعتبار سے إنکار کرے تو گمراہی کا فتوی نہیں لگائیں گے کیونکہ یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے ، اور سدرہ المنتہیٰ سے لامکاں تک کا انکار کرنے والے پہ کوئی حکم نہیں۔

سؤال نمبر 13:

أگر سفر اسراء و معراج کو اللہ رب العزت حضور صلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہی بنانا چاہتا تھا تو پھر وہ سفر دن کو کیوں نہیں کروایا تاکہ سبھی لوگ أس معجزہ کا براہ راست مشاہدہ کرتے أور کوئی جھٹلاتا بھی نہ،

لہذا رات کو سفر اسراء و معراج کروانا عقل میں آنے والی بات نہیں ، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا پھر آگ ٹھندی ہوگی اس معجزے کا مشاہدہ پوری قوم نے کیا ،

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر پھٹ گیا أور راستہ بن گیا اس معجزہ کا مشاہدہ بھی پوری قوم نے کیا ،

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کیا اس معجزے کا مشاہدہ بھی أنکی قوم نے کیا لیکن اسراء و معراج کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے نہیں کیا ۔

جواب:

اللہ رب العزت سفر اسراء و معراج کو قیامت تک کا زندہ معجزہ بنانا چاہتا تھا جسکو إیمان بالغیب کہتے ہیں ، اس طرح تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے بھی بہت سے معجزے قوم کے سامنے ہوئے جیسے چانڈ کا دو ٹکڑے ہوجانا ،

انگشت مبارک سے پانی کے چشموں کا بہنا ، بادلوں کا سایہ کرنا وغیرہ وغیرہ 

لیکن سفر اسراء و معراج رات کو کروانے میں دو وجہیے تھیں:

پہلی وجہ:

إس عظیم معجزہ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی صداقت پر دلیل بنانا تھا وہ یوں کہ جب رات کو آپکو سیر کروائی گئی تو صبح کفار مکہ نے مسجد أقصی اور راستے میں جانے و آنے والے قافلوں کو بارے میں پوچھا تو جیسے ہی حضور صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی أور علامات بتائیں تو وہ ساری کی ساری صحیح تھیں تو اس سے یہ دلیل قائم ہوگی کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو وحی کے بارے میں خبر دیتا ہے وہ بھی أیسے ہی صداقت پر مبنی ہے جیسے مسجد اقصی اور أسکی طرف جانے و آنے والے قافلوں کی خبر صدق پر مبنی ہے۔

دوسری وجہ:

إیمان بالغیب تھا ، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے أنکے إیمان کا امتحان تھا کہ رات کو اتنا عظیم سفر مدت قصیرہ میں کروایا گیا تاکہ جب صبح أنکو أنکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیں تو وہ بغیر کسی تجسس کے أس پر إیمان لاتے ہیں یا نہیں؟

یہی وجہ بنی کہ سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ نے آپکی تصدیق کردی بغیر کوئی دلیل مانگے ، أور جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے وہ بعض إنکار کر بیٹھے جس سے وہ مرتد قرار پائے۔

یہ دو حکمتیں تھیں رات کو سفر اسراء و معراج کروانے میں تاکہ إیمان بالغیب اور نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دلیل قائم ہوجائے۔

سؤال نمبر 14 :

( الذي باركنا حوله/ ہم نے أسکا ارد گرد بابرکت بنادیا) اس برکت سے کیا مراد ہے؟

جواب:

برکت دنیوی و دینی ، برکت دنیوی ثمرات وغیرہ جس سے کفار و مسلمان دونوں فائدہ اٹھاتے رہے ، أور برکت دینی جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم أور دیگر انبیاء وہاں حاضر ہوئے لہذا ( بارکنا حوله ) میں برکت دنیوی و دینی دونوں مراد ہیں ، مسلمان برکت دینی و دنیوی دونوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور کفار صرف برکت دنیوی سے۔

سؤال نمبر 15 :

سب انبیائے کرام کا وصال ہوچکا تھا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے أنکی جماعت کیسے کروائے؟ کیونکہ انبیائے کرام حالت برزخ میں تھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم حالت حیات دنیوی میں تھے۔

جواب:

اللہ رب العزت نے اس سفر کے ذکر کی ابتداء ( سبحان) لفظ سے کی ، جس میں إشارہ ہے کہ سفر اسراء و معراج کو بشری قانون کے تحت نہیں بلکہ قدرت الٰہی کے قانون کے تحت دیکھنا ہوگا ، 

یہ سارے سؤال بشری قانون پر وارد ہوتے ہیں قدرت الٰہی کے قانون پر نہیں ،یہ أیسے ہی ہے جیسے چار پرندوں کو ذبح کے بعد ابراہیم علیہ السلام کی نداء پر زندہ کردیا أور بالکل ظاہری حیات عطاء کردی ،

یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نداء پر مردوں کو زندہ کردیا ،

یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت عزیر علیہ السلام کی نگاہ مبارک کی برکت سے أنکی سواری کو حیات بخش دی تو جب ان انبیائے کرام کے لیے مختلف اشیاء کو ظاہری حیات عطاء کردی گئی تو أپنے محبوب کریم علیہ السلام کے لیے انبیائے کرام کو ظاہری حیات عطاء کرنا کونسا مشکل کام تھا یا قانون قدرت سے باہر تھا؟

لہذا انبیائے کرام علیہم السلام کو ظاہری حیات عطاء کی گئی تو انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز أدا کی۔

سؤال نمبر 16 :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ أور شراب دونوں پیش کرنے میں کیا حکمت تھی ؟

جواب:

دودھ أور شراب پیش کرکے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ آپ دونوں میں سے جو چاہیں پیں تو آپ نے دودھ کو اختیار کیا تو اس میں حکمت یہ تھی کہ ملائکہ کو دکھانا تھا کہ ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کئی قسم کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی فطرت سلیمہ پر قائم ہیں یعنی آپ پر کسی قسم کی غنودگی و مجذوبیت کی کیفیت طاری نہیں ہوئی ۔

سؤال نمبر 17 :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات بہت سے لوگوں کو گناہ کبیرہ کے سبب عذاب میں مبتلا دیکھا حالانکہ ابھی تک آپکی شریعت میں أحکام نازل نہیں ہوئے تھے؟

جواب:

قلت:

ابتدائے نبوت ہی میں ںہت سے أحکام فرض ہوچکے تھے حتی کہ بعض روایات میں أور علمائے کرام کے اقوال سے ثابت ہے کہ نماز بھی فرض ہوچکی تھی ،لیکن پانچ نمازیں معراج کی رات ہی فرض ہوئیں۔

سفر معراج میں جو لوگ عذاب میں مبتلاء تھے وہ پہلی أمتوں کے تھے یا آپکی امت میں سے 

أور عذاب کے جو أسباب بیان کیے گئے وہ تمام شریعت کے مسلمات میں سے ہیں یعنی سب شریعتوں میں حرام ہیں جیسے سود، زنا ، فتنے پیدا کرنے والے لوگ وغیرہ وغیرہ أور آپ کی امت کی طرف جو اضافت کی گئی وہ أن اعمال میں تھی جو ممنوع ہوچکے تھے وغیرہ

لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا دکھانے سے مراد یہ تھی کہ آپ کی خبر کو خبر عینی بنایا جائے یعنی غیبیات سے نکال کر حسیات کی طرف لایا جائے اب جو بھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے غیب نہیں تھا بلکہ آپ أپنی آنکھو سے أسکا مشاہدہ کرچکے تھے لہذا إس میں الحاد پرست لوگوں کا رد ہے۔

جس طرح وہ سائنس کی بات کو حسی طور پہ لیتے ہیں إسی طرح حضور صلی الله علیہ وسلم کا ہمیں خبر دینا بھی حسی ہے کیونکہ آپ خود أپنی مبارک آنکھو سے أن سب کا مشاہدہ کرچکے تھے حالانکہ اسکا بھی جو غیب الغیب تھا۔

أب جو کہے کہ جسکو تم نے دیکھا ہی نہیں تو تم أس ہر إیمان کیوں لاتے ہو؟

ہم کہیں گے جس نے دیکھا ہے أسکے کہنے پہ إیمان لائے ہیں جیسے تم سائنس کے کہنے سے ہر تحقیق کو مان لیتے ہو۔

سؤال نمبر 18:

قرآن مجید فرماتا ہے ( أسری بعبده ) أسری متعدی فعل ہے تو پھر کیوں اسی متعدی فعل کو دوبارہ ( با) کے ساتھ متعدی بنایا گیا ؟ کیا یہ تکرار قرآن مجید میں بے فائدہ نہیں؟

جواب:

سب سے پہلے جس شئے کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ فعل لازم کو متعدی بنانے کے کئ طریقے ہیں أن میں سے مشہور دو ہیں:

پہلا طریقہ:

فعل لازم کو ہمزہ سے متعدی بنایا جاتا ہے مثلا ( ذھب) فعل لازم تھا جسکا مطلب وہ خود گیا، لیکن جب أسکو متعدی بنایا گیا تو یوں ہوگا ( أذھب ) جسکا معنی ہے وہ لے گیا .

دوسرا طریقہ:

فعل لازم کو ( با) سے متعدی بنایا جاتا ہے جیسے ( ذهب) جسکا مفہوم ہے کہ وہ خود گیا لیکن جب اسی کو متعدی بنایا ( ذھب بعلی) وہ علی کو لے گیا.

دونوں طریقوں میں فعل لازم کو متعدی جو بنایا جاتا ہے معنی کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ:

(ہمزہ) کے ساتھ جب لازم کو متعدی بنایا جاتا ہے تو أس میں فاعل مفعول کے ساتھ فعل میں شریک نہیں ہوتا لیکن جب لازم کو ( با) کے ساتھ متعدی بنایا جائے تو مطلب فاعل مفعول کے ساتھ فعل میں شریک ہوتا مثلا:

أقام علی زيدا ( علي نے زيد كو كهڑا كيا) ، أب علي فعل قيام ميں زيد كے ساتھ شريك نهيں هے يعني علي زيد كے ساتھ كهڑا نہیں ہوا ،

لكن اگر يوں ہو” قمت بزيد” أب فعل ” حرف باء” كي وجہ سے متعدي ہے ، لہذا علي قيام ميں زيد كے ساتھ شريك ہے يعني علي أور زيد دونو كھڑے ہوئے” يه سهيلي اور مبرد كي راۓ ہے من النحاة١، 

أب آئيں ” أسرى بعبده” كي طرف ، جب رب كائنات نے اسرى كا ذكر كيا تو فعل كو “حرف باء” كے ساتھ متعدي بنايا ،

أور “حرف باء” كے ساتھ متعدي بنانے كا مطلب يه ہوتا ہے كہ فاعل مفعول كے ساتھ فعل ميں شريك ہوتا ہے تو ” أسرى بعبده” ميں فاعل ” الله ” ہے، مفعول ” مصطفى” ہیں، 

أور فعل ” اسراء ” ہے،

تو “حرف باء” كے ساتھ أسرى كو متعدي بناكر اس بات كي طرف اشارة كرديا كہ رب كائنات معراج كي رات مسجد حرام سے لے كر مسجد أقصی تك پورے سفر ميں اپنے مصطفى كے ساتھ أپنی شان بے مثل کے لائق شريك تها ٢بلاتشييه وتمثيل،

أور ” حرف باء” كے آئينے ميں مصطفى صلى الله عليه وسلم نے أپنے رب کی خاص قرب کی منازل کو طے کیا۔

لیکن بعض نے کہا أسری لازم کے معنی میں ہے أور اسکو متعدی ( با) سے بنایا گیا لہذا اللہ رب العزت أپنی شان کے اعتبار سے بھی لازم نہیں آتا کہ وہ سفر اسراء میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو۔

بلکہ جب متعدی کو لازم کے معنی میں لایا جائے تو أس سے مقصود أس فعل میں مبالغہ و أہمیت کی طرف إشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔

إن فروق سے واضح ہوا کہ دونوں صورتوں میں اللہ رب العزت نے خاص راز و حقائق کی طرف اشارہ کیا ہے نہ کہ بے فائدہ و لغو کلام فرمایا- العیاذ باللہ-

حوالہ:

١ ابن هشام ،مغني اللبيب عن كتب الاعاريب ، الباب الأول في تفسير المفردات و ذكر أحكامها ، الباء المفردة ، ص ١٠٧ .

٢_ ابن عاشور ، التحرير و التنوير ، سورة الاسرى ، الآية /١ .

الشيخ محمد بخيت المطيعي ، مفتي الديار المصرية سابقا ، الكلمات الطيبات في المأثور عن الإسراء و المعراج من الروايات ، الباب الأول الى المسجد الأقصى ، ص : ٢٦ .

سؤال نمبر 19 :

سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ نے جب معراج کی تصدیق کی تو پوچھا کیا حضور صلی الله علیہ وسلم نے أیسا فرمایا؟ جب آپکو بتایا گیا کہ: ہاں حضور صلی الله علیہ وسلم نے أیسا فرمایا تو تب آپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: ( أنا أصدقه في خبر السماء /مینے أنکی تصدیق آسمانوں کی خبر میں کی ( تو اسراء کی تصدیق کرنے میں تأمل کیوں کریں) لہذا إسی تصدیق سے أنکا نام صدیق ہوگیا ( المستدرک علی الحاکم ، حدیث نمبر: 4458 ، إمام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے)

یعنی کیا سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ کے معاملے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے ؟

جواب:

اگرچہ إمام حاکم والی حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن اسکے دیگر توابع و شواہد موجود ہیں ،

سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ کے معاملے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب عقل و شریعت کا آپس میں ظاہری تعارض آجائے تو عقل کو شریعت کے تابع کردینا چاہیے ،

جو شریعت کہے أسکو مان لینا چاہیے إسی وجہ سے سیدنا صدیق أکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: أگر حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو میں تصدیق کرتا ہوں مطلب عقلی طور پہ جب تأمل ہوا تو أسکو فورا شریعت کے تابع کردیا۔

لہذا ہمارے لیے بھی اس میں یہ سبق ہے جب بھی کوئی شئے بظاہر عقل کے خلاف ہو تو ہمیں شریعت پر عمل کرنا چاہیے نہ کہ عقل پر.

سؤال نمںر 20 :

متفق علیہ حدیث میں ہے کہ جب پچاس نمازیں فرض ہوئیں تو حضرت موسی علیہ السلام نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے عرض کی: آپکی أمت اتنی نمازوں کو پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔۔۔

إس حدیث کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم حضرت موسی علیہ السلام کے شاگرد ہوئے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ علم ہوا؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی اُمت پہ اعتراض کیا؟

جواب:

إس متفق علیہ حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم حضرت موسی علیہ السلام کے شاگرد ہوئے کیونکہ یہ مشورہ تھا ،

أور مشورہ میں کوئی دوسرے کا شاگرد نہیں بن جاتا جیسے قرآن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین سے مشورے کا حکم دیا گیا ( وشاورهم في الأمر/ أن سے مشورہ کریں معاملات میں)- آل عمران ، 1٥٩ –

تو کیا ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی مشورہ کی بنیاد پہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا أستاذ سمجھ لیں- العیاذ باللہ- 

لہذا جس طرح مشورہ دینے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین حضور صلی الله علیہ وسلم کے أستاذ نہیں کہلا سکتے إسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی أستاذ نہیں کہلا سکتے،

جس طرح مشورہ دینے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کا علم حضور صلی الله علیہ وسلم کے علم سے زیادہ نہ ہوا تو إسی طرح مشورہ دینے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا علم بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کے علم سے زیادہ نہ ہوا۔

رہی بات کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی اُمت پر اعتراض کیا أیسا نہیں بلکہ انہوں نے أپنی امت کی کمزوری کو بیان کیا ،

اور یہ لفظ بھی متفق علیہ حدیث ہی میں ہیں ، لہذا انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی اُمت پر نہ اعتراض کیا اور نہ ہی أنکو کمزور کہا بلکہ أپنی امت کو کمزور کہا ،

أور اسی بنیاد پہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے أمت محمدیہ کے لیے تخفیف کی درخواست کی لہذا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ فعل مبارک حضور صلی الله علیہ وسلم کی اُمت کے ساتھ أنکی محبت کی دلیل ہے نہ کہ اعتراض۔

سؤال نمبر 21 :

سفر اسراء و معراج کے وقت تو مسجد أقصی موجود ہی نہیں تھی جیسے کہ محدثین نے ذکر کیا ، أور کتب تاریخ میں بھی آیا ہے کہ مسجد أقصی ولید بن عبد الملک نے بنوائی تو پھر قرآن مسجد أقصی کا ذکر کیسے کررہا ہے؟

جواب:

تمام محدثین و فقہاء و متکلمین اور تمام مسلمین اس بات پہ متفق ہیں کہ مسجد أقصی سے مراد بیت المقدس ہے ،

یعنی مسجد أقصی کے مفہوم پر إجماع قطعی ہے جو معلوم من الدین بالضرورہ ہے ،

جو یہاں مسجد أقصی سے مراد بیت المعمور یا بیت المقدس کے علاوہ کوئی أور جگہ مراد لے وہ صریح کافر ہے ، أور أسکو کافر نہ کہنے والا بھی کافر ہے کیونکہ وہ قرآن کی صریح نص کی نفی کررہا ہے ،

أور امام رازی نے تفسیر کبیر میں اتفاق ذکر کیا ہے کہ یہاں مسجد أقصی سے مراد بیت المقدس ہے ، یہی بات إمام طبری، سمرقندی و قسطلانی و زمخشری اور دیگر محدثین و مفسرین نے بھی کی یعنی مسجد أقصی سے مراد بیت المقدس ہے ،

أب سؤال یہ ہے کہ مسجد أقصی پھر کیوں کہا ؟

إس لیے کہ بیت المقدس میں ایک خاص جگہ تھی عبادت کی ، أور أس عبادت کی جگہ کا اعتبار کرتے ہوئے أسکو مسجد أقصی کے نام سے تعبیر کیا ،

أور وہ معروف تھی جیسے مکہ مکرمہ میں عبادت کی جگہ خاص ہے جسکو مسجد حرام کہا گیا تو معراج کے وقت تو مسجد حرام کی بھی عمارت نہ تھی کیونکہ أسکی دیواریں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں بنی ہیں تو کیا منکرین حدیث مسجد حرام کا بھی إنکار کریں گے؟

لہذا جب قرآن نے أہل مکہ کے سامنے مسجد حرام و مسجد أقصی کا نام لیا تو یہ بات دلیل ہے کہ أنکے ہاں یہ نام لینے سے کسی معروف جگہ کا ہی تصور آتا تھا ،

أگر یہ مجھول جگہ ہوتیں تو وہ پہلا سؤال یہ کرتے کہ مسجد أقصی کونسی ہے؟

أنکا مسجد أقصی کے متعلق سؤال نہ کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نام کسی معروف جگہ پہ دلالت کرتا تھا اور وہ ہے بیت المقدس .

ولید بن عبد الملک نے مسجد أقصی تعمیر نہیں کروائی بلکہ أسکی ترمیم کروائی أور قبہ صخرہ جسکو آج کل ہم تصاویر میں دیکھتے ہیں وہ بنوایا لہذا تعمیر أور ترمیم میں فرق ہوتا ہے.

أور أگر تعمیر بھی کروائی ہے تو کسی شئے کے وجود و عمارت میں فرق ہوتا ہے معقول سی بات ہے کہ بعض أوقات وہ جگہ موجود ہوتی ہے لیکن أسکی عمارت نہیں ہوتی جیسے کوئی مسجد کے لیے جگہ مختص کرتا ہے تو پہلے مسجد ہوگی تو عمارت بنے گی نہ کہ جب عمارت بنے تبھی أسکو مسجد کہا جائے گا جیسے مسجد حرام کو بھی بعد میں تعمیر کیا گیا تو کیا کوئی مسجد حرام کا إنکار کرے گا؟

لہذا مسجد أقصی بھی موجود تھی کیونکہ کسی شئے کے تعمیر کروانے سے یہ ہر گز مراد نہیں ہوتا کہ وہ عمارت سے پہلے شئے موجود نہیں تھی ،

لہذا قرآن نے جو فرمایا ( من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی) یہ بالکل صحیح ہے.

رہی بات جو شیعہ کی کتب میں مسجد أقصی سے مراد بیت المعمور لیا گیا ہے وہ روایات مردودہ ہے ہیں ، یا أسکو لغوی معنی پہ محمول کیا جائے گا ،

لیکن أن روایات سے قرآن نے جس مسجد أقصی کا ذکر کیا ہے أسکی نفی نہیں ہوتی کیونکہ ایک اعتبار سے قرآن بھی تاریخی خبر دے رہا ہے اور باقی کتب بھی تو لہذا کونسی کتاب ہے جو ثقاہت میں قرآن مجید کے مساوی ہو؟

سؤال نمبر 22 :

جب قرآن نے ( أسری ) کا لفظ فرمادیا تو پھر ( لیلا) کیوں فرمایا ؟ حالانکہ ( أسری) تو ہوتی ہی رات کو ہے تو کیا یہ قرآن میں بے فائدہ تکرار نہیں؟

جواب:

قرآن نے جو ( لیلا) فرمایا ہے أس سے مراد یہ بتانا نہیں تھا کہ سفر رات کو ہوا

بلکہ أس سفر کی مدت بتانا مقصود تھا یعنی رات کے بعض حصے میں یہ سفر ہوا ،

لہذا ( لیلا) سفر کی مدت کے لیے ہے نہ کہ دن کے مقابلے میں ،

أور اسکی تائید قراءت عبد اللہ أور حذیفہ رضی اللہ عنہما سے بھی ہوتی ہے جسکو إمام زمخشری نے أپنی تفسیر کشاف میں نقل کیا ہے کیونکہ وہ ( من اللیل) پڑھتے تھے یعنی رات کا بعض حصہ،

جیسے قرآن ہی میں ہے ( ومن اللیل فتهجد به) تو یہاں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ رات کے کچھ حصے میں تہجد ہوتی ہے حالانکہ تھجد تو رات کو ہی ہوتی ہے تو جیسے إس آیت میں تکرار نہیں ویسے ہی آیت اسراء میں بھی تکرار نہیں.

سؤال نمبر 23 :

جب سائنس کہتی ہے کہ آسمان ایک فضا ہے تو پھر فضا کے دروازے کیسے کیونکہ معراج میں یہ ذکر ہے کہ ہر دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھا گیا کہ کون ہو؟

تو دروازے تو کسی عمارت کے ہوتے ہیں نہ کہ فضاء کے؟

جواب:

سائنس کا یہ نظریہ قرآن کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ آسمان ایک مضبوط عمارت ہے،

أور أسکے دروازے بھی ہیں جیسے کہ درج ذیل آیات مبارکہ میں ہے:

“أفلم ينظروا إلى السماء فوقهم كيف بنيناها وزيناها../ کیا أنہوں نے أپنے اوپر بنے ہوئے آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے أسکو کیسے بنایا اور أسکو مزین کیا ) القاف: 6 .

یہ آیت واضح کررہی ہے کہ آسمان فضا نہیں بلکہ ایک مضبوط عمارت ہے اور بھی قرآن و أحادیث میں بہت سی آیات ہیں جو اس نظریے پہ دلالت کرتی ہیں.

دروازوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا:

” إن الذين كذبوا بآياتنا واستكبروا عنها لا تفتح لهم أبواب السماء/ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور أن سے سرتابی کی أنکے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولیں جائیں گے) الأعراف : 40 .

لہذا إس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان عمارت بھی ہے أور أسکے دروازے بھی ہیں ۔

أب سؤال یہ ہے کہ قرآن مجید کی مانیں یا سائنس کی؟

عقلی بات ہے کہ سائنس نے بھی خبر دی اور قرآن و أحادیث نے بھی خبر دی ، ہیں دونوں خبر لیکن سائنس کی خبر مفروضے پر قائم ہے أور قرآن و أحادیث کی خبر حیقیقت پر تو معقول شخص قرآن و أحادیث کی خبر کو مانے گا نہ کہ مفروضوں پر مبنی خبر جو آئے روز بدلتی رہتی ہے أسکو مانے۔

دوسری بات وہاں سائنس کے آلات أپنی اپروچ کے مطابق تحقیق پیش کررہے ہیں

اور معراج میں خود حضور صلی الله علیہ وسلم دیکھ کر بتارہے ہیں

تو لہذا حسی طور پہ دیکھی ہوئی چیز زیادہ قابل اعتبار ہے تو إس وجہ سے بھی معقول شخص حضور صلی الله علیہ وسلم کی بات کو مانے گا کیونکہ انہوں نے أپنی آنکھو سے دیکھا،

أور سائنٹسٹ نے آلات کے مفروضوں کی روشنی میں بتایا خود نہیں دیکھا،

لہذا عقلی اعتبار سے بھی قرآن و أحادیث کا ہی نظریہ مانا جائے گا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان فضا نہیں بلکہ ایک مضبوط عمارت پر مبنی قدرت کا حسین شاہکار ہے أور أسکے دروازے بھی ہیں تو لہذا جس طرح معراج کی أحادیث میں بتایا گیا وہ عین عقل کے موافق ہے۔

أور مسلمانوں کے لیے سیدنا صدیق أکبر کا معاملہ بطور اتباعی نمونہ کے کافی ہے کہ انہوں نے عقل کو چھوڑ کر حضور صلی الله علیہ وسلم کی بات کو مانا کیونکہ ہماری عقل محدود ہوسکتی ہے لیکن انبیائے کرام علیہم السلام کا طبقہ وہ ہوتا ہے جنکی عقول کو کمال حاصل ہوتا ہے لہذا ہمیں سائنس کا مکلف نہیں بنایا گیا بلکہ قرآن و أحادیث کا بنایا گیا ہے تو ہم وحی الٰہی کی ہی بات پر إیمان لائیں گے.