لڑکی رخصتی کے لئے ہے

لڑکی کی زندگی کا مقصود ہی ہے شادی کراکے شوہر کے حوالے کرنا،کتنے ہی پیار سے رکھا جائے اور کتنا ہی ناز اٹھایا جائے آخر کار وہ غیر کو حوالے کرنے کے لئے پیدا کی گئی اور ہمیں وہ کر کے رہنا ہے،اللہ تعالیٰ اسکا مقصد زندگی واضح کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھاو جعل بینکم مودۃ و رحمۃ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہارے لئے تمہیں میں سے ازواج کو پیدا کیا تاکہ تم ان سے سکون پاؤ،اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت رکھی،یہ آیت بتا رہی ہے کہ لڑکی کی پیدائش زوجہ کی حیثیت ہی سے ہے،اور دنیا میں عورت کے نام سے جس صنف نازک کو پہلا وجود عطا کیا گیا وہ بھی زوجہ کی حیثیت تھا،جب اسکا مقصد زندگی ہی غیر کے حوالے کرنا ہے تو ہمیں پہلے ہی سے اس کی تربیت اس انداز سے کرنی چاہیئے کہ وہ غیر کے ساتھ رہنے کے قابل ہو سکے