أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَـقُلۡنَا مِثۡلَ هٰذَٓا‌ ۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں (بس رہنے دو ) ہم سن چکے ہیں، اگر ہم چاہتے تو ہم بھی اس (کلام) کی مثل بنا لیتے، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں (بس رہنے دو ) ہم سن چکے ہیں، اگر ہم چاہتے تو ہم بھی اس (کلام) کی مثل بنا لیتے، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “

نضر بن الحارث کے جھوٹے دعوے 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ ابن جریج سے اس آیت کے شان نزول کے متعلق روایت کیا ہے کہ نضر بن الحارث ایک تاجر تھا اور وہ تجارت کے لیے فارس اور دیگر ممالک کا سفر کرتا تھا۔ اس نے وہاں دیکھا لوگ انجیل پڑھتے تھے اور رکوع اور سجود کرتے تھے۔ جب وہ مکہ میں آیا تو اس نے دیکھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ بھی رکوع اور سجود کرتے ہیں تو نضر نے کہا ہم اس قسم کا کلام سن چکے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 12402، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ قرطبی 668 ھ لکھتے ہیں یہ آیت نضر بن الحارث کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ تجارت کے لیے الحیرہ گیا۔ وہاں اس نے کلیلہ اور دمنہ کے قصہ کہانیوں کی کتابیں خریدیں اور کسری اور قیصر کی کتابیں خریدیں اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گزشتہ امتوں کی خبریں بیان فرمائیں تو نضر نے کہا اگر میں چاہوں تو میں اس طرح کی خبریں سنا سکتا ہوں۔ اور یہ محض اس کے بلند بانگ دعوے اور ڈینگیں تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا یہ زعم تھا کہ وہ قرآن کی مثل بنا سکتے ہیں جیسا کہ ابتدا میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادوگروں نے یہ زعم کیا تھا لیکن جب انہوں نے اس کی مثل بنانے کی کوشش کی تو وہ عاجز ہوگئے لیکن انہوں نے عناداً کہا کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 356، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 31