أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰذَا هُوَ الۡحَـقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجیے) جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر (کوئی دوسرا) دردناک عذاب لے آ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” اور (یاد کیجیے) جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر (کوئی دوسرا) دردناک عذاب لے آ ” 

اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے کفار کا یہ کلام نقل کیا ہے : اللہم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم۔ اسی طرح سورة اسراء میں بھی ان کا کلام نقل کیا ہے : وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90۝ۙاَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91۝ۙاَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92۝ۙاَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ (الاسراء :90 ۔ 93) (ترجمہ): اور انہوں نے کہا ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں۔ یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر آپ ان کے درمیان بہتے ہوئے دریا جاری کردیں۔ یا آپ اپنے کہنے کے مطابق ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں یا آپ ہمارے سامنے اللہ کو اور فرشتوں کو (بےحجاب) لے آئیں۔ یا آپ کا سونے کا گھر ہو، یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم ہرگز آپ کے (آسمان پر) چرھنے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے، حتی کہ آپ ہم پر ایک کتاب نازل کریں جس کو ہم پڑھیں۔ 

یہ کفار کا کلام ہے اور یہ کلام نظم قرآن کی جنس سے ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ کفار نے قرآن کی مثل کلام بنا لیا تھا۔ امام رازی نے اس اشکال کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ کلام مقدار میں بہت کم ہے اور اتنی کم مقدار کا کلام قرآن مجید سے معارضہ کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ اتنی کم مقدار کے کلام میں فصاحت اور بلاغت کی وجوہ ظاہر نہیں ہوسکتیں اور یہ جواب اسی وقت چل سکے گا جب ہم یہ دعوی کریں کہ قرآن مجید نے تمام سورتوں کی مثل لانے کا چیلنج نہیں کیا بلکہ سورة طویل کی مثل لانے کا چیلنج کیا ہے جس میں کلام کی قوت ظاہر ہوسکے (تفسیر کبیر، ج 5، ص 479، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

لیکن میرے نزدیک یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید کی تمام سورتیں معجزہ ہیں اور کوئی سورت بڑی ہو یا چھوٹی اس کی کوئی شخص نظیر نہیں لاسکتا۔ بلکہ قرآن مجید کی ہر ہر آیت معجزہ ہے اور کوئی شخص کی آیت کی بھی نظیر نہیں لاسکتا، اور اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کفار کا جو کلام نقل کیا ہے یہ بعینہ ان کا کلام نہیں ہے وہ اتنا فصیح وبلیغ کلام نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے جو کچھ بھی کہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فصیح وبلیغ کلام میں منتقل کرکے بیان فرمایا ہے۔ اور یہ درحقیقت اللہ کا کلام ہے کفار کا کلام نہیں ہے۔ البتہ کفار کے کلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ڈھال کر بیان فرمایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 32