أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِيُثۡبِتُوۡكَ اَوۡ يَقۡتُلُوۡكَ اَوۡ يُخۡرِجُوۡكَ‌ؕ وَيَمۡكُرُوۡنَ وَيَمۡكُرُ اللّٰهُ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰكِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یاد کیجیے جب کافر آپ کے خلاف سازش کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا جلا وطن کردیں، وہ اپنی سازش میں لگے ہوئے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور یاد کیجیے جب کافر آپ کے خلاف سازش کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا جلا وطن کردیں، وہ اپنی سازش میں لگے ہوئے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے “

کفار قریش کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش کرنا 

امام ابن جریر انی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ قریش کے ہر قبیلہ کے سردار دار الندوہ میں جمع ہوئے، وہاں ابلیس شیخ جلیل (بوڑھے شخص) کی صورت میں آیا، قریش کے سرداروں نے اس کو دیکھ کر پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں شیخ نجد ہوں، میں نے سنا کہ تم یہاں کسی امر میں مشورہ کے لیے جمع ہو، میں نے چاہا کہ میرا مشورہ بھی اس معاملہ میں شامل ہوجائے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم بھی آجاؤ۔ شیخ نجد نے کہا تم اس شخص کا کوئی موثر بندوبست کرو ورنہ یہ تمہارے تمام معاملات پر قابض ہوجائے گا۔ کسی نے کہا اس شخص کو زنجیروں میں جکڑ دو پھر حوادث روزگار کا انتظار کرو حتی کہ یہ ہلاک ہوجائے۔ جیسا کہ اس سے پہلے اور شعراء مثلاً زہیر اور نابغہ ہلاک ہوچکے ہیں۔ شیخ نجد نے چلا کر کہا نہیں نہیں یہ رائے بالکل ناپختہ ہے اگر تم نے اس کو قید کرلیا تو اس کا رب اس کو قید سے نکال لائے گا اور اس کے اصحاب اس کو تمہارے ہاتھوں سے چھڑا لیں گے۔ پھر انہوں نے کوئی اور تجویز سوچی، کسی نے کہا ان کو اس شہر سے نکال دو حتی کہ تم سب کو اس سے نجات مل جائے۔ شیخ نجد نے کہا یہ رائے ٹھیک نہیں ہے کیا تم کو اس کی زبان دانی، طلاقت لسانی اور دلوں میں اترنے والی شیریں بیان کی علم نہیں ہے۔ یہ جہاں بھی ہوگا اپنا ایک جتھا بنا لے گا پھر تم پر حملہ کرکے تم سب کو ملیا میٹ کردے گا۔ سو کوئی اور اسکیم بناؤ۔ تب ابوجہل نے کہا میں تمہیں ایک ایسا مشورہ دیتا ہوں کہ تم نے اس سے بہتر مشورہ پہلے نہیں سنا ہوگا۔ سب نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ ابوجہل نے کہا ہم ہر قبیلہ سے ایک نوخیز نوجوان اور ایک پختہ جوان کو لے لیں اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک برہنہ تلوار ہو اور سب مل کر یکبارگی ان پر ٹوٹ پڑیں۔ اور جب سب مل کر ان کو قتل کردیں گے تو ان کا خون ہر قبیلہ کے ذمہ ہوگا اور میں نہیں گمان کرتا کہ بنو ہاشم کا قبیلہ قریش کے تمام قبائل سے جنگ کرسکے گا اور جب وہ قصاص لینے کو مشکل پائیں گے تو دیت لینے پر راضی ہوجائیں گے اور ہم کو ان کی ایذا رسانی سے نجات مل جائے گی۔ شیخ نجد نے بےساختہ کہا بہ خدا یہی وہ صحیح اور صائب رائے ہے جو اس شخص نے پیش کی ہے اس کے علاوہ اور کوئی راہ صحیح نہیں ہے۔

پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کا عزم لے کر اٹھے اور اس مجلس سے منتشر ہوگئے اور حضرت جبرئیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچایا کہ آپ آج رات اپنے بستر پر نہ گزاریں اور آپ کو مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی اور جب آپ مدینہ منورہ ہنچ گئے تو آپ پر سورة الانفال نازل کی اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں آپ پر اپنی نعمتوں کو یاد دلایا اور یہ آیت نازل فرمائی ” اور یاد کیجئے جب کافر آپ کے خلاف ساش کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا جلا وطن کردیں وہ اپنی ساش میں لگے ہوئے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے ” (جامع البیان جز 9، ص 301، 300 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 3، ص 307 ۔ الدر المنثور ج 4، ص 307 ۔ الدر المنثور ج 4، ص 51 ۔ 52 ۔ السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج 2، ص 94 ۔ 96 ۔ سبل الہدی والرشاد ج 3، ص 231 ۔ 233، لاروض الانف ج 1، ص 291)

اللہ تعالیٰ کا کفار کی سازش کو ناکام کرکے آپ کو ان کے نرغہ سے نکال لانا 

علامہ محمد بن یوسف شامی صالحی متوفی 942 ھ لکھتے ہیں : 

جب کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کا عزم کرکے مجلس سے منتشر ہوگئے تو حضرت جبریل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا آج رات آپ اپنے اس بستر پر نہ سوئیں جس پر آپ پہلے سویا کرتے تھے اور آپ کی قوم کی سازش کے متعلق ٰخبر دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ سے نکلنے کی اجازت دے دی ہے۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو کفار آپ کے دروازہ کے بارہ گھات لگا کر بیٹھ گئے کہ کب آپ سوئیں تو وہ اچانک آپ پر ٹوٹ پڑیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا تو آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا تم میری یہ سبز حضرمی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جاؤ اور ہرگز تمہیں کوئی ناگوار بات نہیں چھوئے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی چادر کو اوڑھ کر سویا کرتے تھے۔ 

کفار باہر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ ابوجہل بن ہشام نے کہا بیشک (حضرت سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ زعم کرتے ہیں کہ اگر تم نے ان کی پیروی کرلی تو تم عرب اور عجم کے بادشاہ بن جاؤگے۔ پھر تم جب موت کے بعد اٹھوگے تو تمہارے لیے ایسے باغات ہوں گے جیسے اردن کے باغات ہیں اور اگر تم نے ان کی پیروی نہ کی تو تم قتل ہوگے اور جب مرنے کے بعد تمہیں اٹھایا جائے گا تو تم کو دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بارہ آئے اور آپ کی مٹھی میں خاک تھی۔ آپ نے فرمایا ہاں میں یہ کہتا ہوں اور تم ان میں سے ایک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کو کچھ نظر نہ آیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ خاک ان کے سروں پر ڈال دی اور ان کو کچھ دکھائی نہ دیا، اور آپ سورة یسین کی ان آیتوں کی تلاوت کرتے ہوئے باہر نکل آئے : يٰسۗ ۝ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ ۝ۙاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ۝ۙعَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ ۝ۭتَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم ۝ۙلِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ۝ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۝ اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ ۝ وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۝: ترجمہ : یس، حکمت والے قرآن کی قسم۔ بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں۔ صراط مستقیم پر (ہیں) ۔ یہ قرآن العزیز الرحیم کا نازل کردہ ہے۔ تاکہ آپ ان کو ڈرائیں۔ جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے۔ سو وہ غافل ہیں۔ بیشک ان کے اکثر لوگوں پر ہمارا قول ثابت ہوچکا ہے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں سو وہ اپنے منہ اوپر اٹھائے ہوئے۔ ہیں ہم نے ایک آڑ ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک آڑ ان کے پیچھے پھر ہم ان کو ڈھانپ دیا تو وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ ( سورة یس :1 ۔ 9)

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ہر شخص کے سر پر مٹی ڈال دی اور پھر آپ نے جہاں چاہا وہاں تشرف لے گئے۔ پھر ان کافروں کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا تم یہاں پر کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا (سیدنا) محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کا۔ اس نے کہا اللہ نے تمہیں نامراد کردیا۔ اللہ کی قسم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں سے چلے گئے ہیں اور وہ تم میں سے ہر شخص کے سر پر مٹی ڈال کر گئے ہیں تم ذرا اپنا جائزہ تو لو۔ پھر ہر شخص نے اپنے سر پر ہاتھ لگا کر دیکھتا تو اس کے سر پر مٹی تھی۔ پھر وہ آپ کے گھر گئے تو دیکھا حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے خدا کی قسم یہ تو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے ہیں اور ان پر ان کی چادر ہے۔ وہ اسی طرح کھڑے رہے حتی کہ صبح ہوئی اور حضرت علی (رض) بستر سے اٹھے۔ تو پھر وہ کہنے لگے خدا کی قسم اس شخص نے ہم سے سچ کہا تھا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار ثور کی طرف جا چکے تھے۔

حاکم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی نے اپنی جان کو اللہ کے ہاتھ فروخت کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر اوڑھ کر آپ کی جگہ سو گئے اور مشرکین کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توقع تھی۔ وہ حضرت علی کی گھات لگا کر بیٹھے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ حضرت علی (رض) اس وقت وضو کر رہے تھے جب انہوں نے دیکھا تو کہا افسوس یہ تم ہو یہ تم ہی کروٹیں بدل رہے تھے تمہارے صاحب تو کروٹیں نہیں بدلتے تھے۔ اور حاکم نے علی بن حسین (رض) سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے جس نے اللہ کی رضا کے عوض اپنی جان کو فروخت کیا وہ حضرت علی (رض) تھے۔ اس روز کے واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یاد کیجیے ! جب کافر آپ کے خلاف ساش کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا فلا وطن کریں، وہ اپنی سازش میں لگے ہوئے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے (الانفال :30) ۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ناکام کردیا وہ نامراد ہوگئے اور اللہ عزوجل نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کامیابی اور سرخروئی سے نوازا۔ (سبل الہدی والرشاد، ج 3، ص 232 ۔ 233، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 30