أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ انہیں عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہوں، اور نہ اللہ (اس وقت) انہیں عذاب دینے والا ہے جب کہ یہ استغفار کر رہے ہوں

تفسیر:

33 ۔ 34:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ انہیں عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہوں، اور نہ اللہ (اس وقت) انہیں عذاب دینے والا ہے جب کہ یہ استغفار کر رہے ہوں “۔ اور اللہ انہیں کیوں عذاب نہیں دے گا حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں اور وہ اس (مسجد حرام) کے متولی نہیں ہیں، اس کے متولی تو صرف متقی مسلمان ہی ہوتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “

کسی قوم میں جب اس کا نبی موجود ہو تو اس قوم پر عذاب نہیں آتا 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس شبہ کا جواب دیا ہے کہ اگر قرآن حق ہے اور وہ اس کے منکر ہیں تو ان پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے اور کوئی عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ جب تک (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان موجود ہیں ان پر عذاب نہیں آئے گا اور یہ آپ کی تعظیم کی وجہ سے ہے اور تمام انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہی عادت جاریہ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بستی والوں پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجا جب تک کہ اپنے نبی کو وہاں سے نکال نہیں لیا۔ جیسا کہ حضرت ھود، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں سے باہر بھیج دیا، اس کے بعد ان کی بستیوں پر عذاب نازل فرمایا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) کا ان کے درمیان موجود ہونا نزول عذاب سے مانع ہے تو پھر انبیاء (علیہم السلام) کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف جہاد اور قتال کیوں مشروع کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مسلسل کفر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت کی بناء پر آسمان سے عذاب کا نزول اور چیز ہے جس سے کافروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے، اور ایمان کی دعوت کو سترد کرنے کے نتیجہ میں ان سے قتال اور جہاد کرنا اور چیز ہے۔ 

کفار کے استغفار کی متعدد تفاسیر 

کفار پر عذاب نازل نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں ابومالک سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان اہل مکہ میں عذاب نازل نہیں فرمائے گا جب کہ ان اہل مکہ میں مسلمان بھی موجود ہیں جو استغفار کرتے ہیں۔ ابن ابزی نے کہا جب تک مکہ میں مسلمان ہیں جو استغفار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا اور جب مسلمان مکہ سے چلے گئے تو فرمایا اللہ ان پر عذاب کیوں نہ نازل کرے حالانکہ یہ مشرکین مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ابوموسی نے کہا تمہارے لیے دو امانیں تھیں۔ ایک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرے حالانکہ آپ ان میں موجود ہیں، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفیق اعلیٰ سے ملنے کے بعد یہ امان تو اب نہیں رہی، اور دوسری امان قیامت تک کے لیے ہے اور وہ اللہ سے استغفار کرنا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3093) اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے : 

قتادہ نے بیان کیا ہے کہ اہل مکہ استغفار نہیں کرتے تھے۔ اگر وہ استغفار کرتے تو ان کو عذاب نہیں دیا جاتا۔ عکرمہ نے اس کی تفسیر میں کہا انہوں نے عذاب کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا اور نہ اس وقت ان پر عذاب نازل کرے گا جبکہ وہ اسلام میں داخل ہورہے ہوں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت عذاب نہیں دیتا جب اس کے نبی اس قوم میں موجود ہوں، وہ اپنے نبیوں کو ان کے درمیان سے نکال لاتا ہے پھر ان پر عذاب نازل فرماتا ہے اور جو ان میں سے پہلے ایمان لا چکے ہوں ان پر بھی عذاب نازل نہیں فرماتا، اور مجاہد نے کہا جب وہ نماز پڑھ رہے ہوں تو ان پر عذاب نازل نہیں فرماتا۔ 

امام ابن جریر نے کہا ان اقوال میں اولیٰ یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہیں، حتی کہ اللہ آپ کو ان کے درمیان سے باہر لے آئے کیونکہ وہ کسی بستی کو اس وقت ہلاک نہیں کرتا جب ان میں ان کا نبی موجود ہو۔ اور نہ اللہ اس وقت ان پر عذاب نازل فرماتا ہے جب وہ اپنے کفر اور گناہوں پر استغفار کر رہے ہوں۔ لیکن وہ اپنے کفر سے توبہ نہیں کرتے بلکہ وہ اس پر اصرار کرتے ہیں پھر فرمایا اور اللہ انہیں کیوں عذاب نہیں دے گا حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں اور وہ اس (مسجد حرام) کے متولی نہیں ہیں اور اس کے متولی تو متقی مسلمان ہی ہوتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے، اور اللہ تعالیٰ نے مکہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے بعد ان کو میدان بدر میں تلوار کے عذاب سے دوچار کیا۔ بعض علماء نے کہا یہ دوسری آیت پہلی آیت کے لیے ناسخ ہے، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ان دونوں ایوں میں خبر دی گئی ہے اور نسخ خبر میں نہیں امر اور نہی میں واقع ہوتا ہے۔ 

اس آیت میں جو فرمایا ہے مسجد حرام کے ولی تو صرف متقی مسلمان ہیں یعنی جو مسلمان اللہ کے فرائض کو ادا کرتے ہیں اور گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں۔ 

جامع البیان جز 9، ص 309 ۔ 316، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 33