حدیث نمبر 66

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل اور دوسری رکعت میں “ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنۡسٰنِ” پڑھتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی کبھی کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے،اب بھی امام کو چاہیے کہ حصول برکت اور ادائے سنت کے لیے کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھ لیا کرے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھنا سنت مؤکدہ ہیں۔خیال رہے کہ امام ہمیشہ ایک ہی معین سورت نماز میں نہ پڑھا کرے کہ اس سے مقتدی دھوکا کھائیں گے کہ شاید یہی سورت پڑھنا واجب ہے دوسری ناجائز،بلکہ ادل بدل کر پڑھا کرے اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کریمہ اس بارے میں مختلف آرہے ہیں۔چونکہ ان سورتوں میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش،جنت،دوزخ کی پیدائش اور قیامت کے حالات کا تذکرہ ہے اور یہ واقعات جمعہ ہی کو ہوئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کو ہوگی لہذا حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ سورتیں جمعہ کے دن پڑھا کرتے تھے اور غالب یہ ہے کہ آپ الٓم سجدہ میں سجدۂ تلاوت بھی کرتے تھےمگر اب فقہاءفرماتے ہیں کہ سواء تراویح اور نمازوں میں سجدہ والی آیات و سورتیں نہ پڑھے تاکہ لوگ غلطی میں نہ پڑیں۔