رحمتِ عالم ﷺ کے حضور عرض کی گئی :

یارسول اللہ ! یہ جو دم ( کے کلمات ہوتے ) ہیں ، جن‌ کےساتھ ہم دم کرتے ہیں ، اور دوائیں ، جن کے ذریعے علاج کرتے ہیں ،‌ اور حفاظتی چیزیں ، جن کے ذریعے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؛ کیا یہ تقدیرِ الہی کو ٹال سکتے ہیں ؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

یہ تو خود اللہ کی تقدیر سے ہیں ۔

( اللہ پاک چاہتا ہے کہ میرا بندہ جب بیمار ہو تو وہ دم کروائے ، دوائی لے ، حفاظتی اقدامات کرے اور میں اسے شفا سے نوازوں ۔ )

سنن الترمذی ، ر 2065 ، قال الترمذی: ھذا حدیث حسن صحیح

اس حدیث پاک پر غور کریں !

رسول اللہ ﷺ سے بیماری کے تین طریقۂ علاج پوچھے گئے:

¹ دم

² دوائی

³ پرہیز

سرکار نے تینوں طریقوں کو برقرار رکھا اور اللہ کی تقدیر قرار دیا ۔

جب ہم بیمار ہوجائیں تو اللہ پاک سے شفا کی‌امید رکھتے ہوئے ، ہمیں ان تینوں طریقوں سے علاج کرنا چاہیے ۔

مجھے کچھ سال پہلے ایک مرض لاحق ہوا تھا ، میں نے اس کا دوائی کے ذریعے علاج کیا ، پرہیز بھی بہت کیا ، لیکن افاقہ نہ ہوا ۔

ایک دن مسجد میں بیٹھے اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ خود کو دم کروں ۔

الحمدللہ ، میں نے صدق دل سے اپنے آپ کو دم کیا تو اللہ کے حکم سے میرا مرض جاتا رہا ۔

کرونا وائرس کے مبتلاؤں کو دوائی لینی چاہیے ، پرہیز بھی کرنا چاہیے اور ساتھ ساتھ اپنے اوپر دم بھی کرنا یا کروانا چاہیے ۔

اگر ہوسکے تو دم کے یہ‌ الفاظ پڑھیں جو دم بھی ہیں ، دعا بھی ہیں ، اور رسول‌پاک‌ ﷺکی زبان مبارک سے ادا بھی ہوئے ہیں:

اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ ، اَذْهِب البَأسَ ، وَاشْفِ أنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَآءَ إِلاَّ شِفآؤُكَ ، شِفَآءً لَا يُغَادِرُ سَقماً ۔

ان کے علاوہ سات دفعہ‌سورت فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیں ۔

اللہ پاک‌کی رحمت سے کوئی بعید نہیں کہ اس کی برکت سے شفاے کاملہ عطافرمادے ۔

✍️لقمان شاہد

22-3-2020 ء