حدیث نمبر 81

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں اونچی قرأت کی جاتی ہے تو فرمایا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی قرأت کی ایک شخص نے کہا ہاں یارسول اﷲ ۱؎ فرمایا تب ہی میں سوچتا تھا کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن میں جھگڑا کیاجارہا ہوں ۲؎ فرماتے ہیں کہ پھر لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قرأت سے باز رہے جن میں بلند قرأت کی جاتی ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ۳؎(امام مالک،احمد،ابو داؤد،ترمذی،نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی ۴؎

شرح

۱؎ معلوم ہوا کہ ساری جماعت صحابہ میں صرف ان صاحب نے حویرصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے الحمد پڑھی باقی کسی نے نہ پڑھی،انہوں نے بھی بے خبری کی وجہ سے پڑھی۔

۲؎ یعنی تمہارے پڑھنے کا مجھ پر یہ اثر پڑا کہ مجھے قرآن میں لقمے لگنے لگے۔اس کی تحقیق ابھی ہم کرچکے کہ مقتدی کی قرأت کا امام پر اثر پڑتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ انہوں نے چیخ کر قرأت کی ہو ورنہ حضور نہ پوچھتے کہ کیا تم نے قرأت کی ہے۔

۳؎ یعنی اس فرمان کے بعد صحابہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جہری نمازوں میں تلاوت بالکل چھوڑ دی نہ الحمد پڑھی نہ اور سورت۔خیال رہے کہ نسخ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا مسلمان نماز میں باتیں بھی کرتے تھے اورامام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھتے تھے جب یہ آیت اتری”وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ” تو نماز میں کلام بند ہوگیا،پھر اس حدیث سے جہری نمازوں میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنا بند ہوگئی،پھر یہ آیت اتری”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ ” الخ،تب امام کے پیچھے قرأت بالکل بند ہوگئی،نیز حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔نسخ کی یہ ترتیب تفسیرِ خازن وغیرہ میں دیکھو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ”میں قرآن سے مراد خطبہ ہے اور آیت میں خطبہ کے وقت خاموشی کا حکم دیا گیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس آیت کے نزول کے وقت جمعہ فرض ہی نہیں ہوا تا ۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔

۴؎ نیز یہ حدیث امام مالک و شافعی نے بھی روایت کی۔ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے،ابن حبان نے فرمایا کہ صحیح ہے،بیہقی وحمیدی نے اسے ضعیف کہا۔(مرقات)یعنی یہ حدیث مختلف اسنادوں سے محدثین کو ملی،بعض کو صحیح اسناد سے،بعض کو حسن سے،بعض کوضعیف سے،ہر ایک نے اپنی اسناد کے مطابق اسے حسن یا صحیح وغیرہ کہا۔