أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ عَاهَدْتَّ مِنۡهُمۡ ثُمَّ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَهُمۡ فِىۡ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمۡ لَا يَـتَّـقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان میں سے بعض لوگوں سے آپ نے معاہدہ کیا اور وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان میں سے بعض لوگوں سے آپ نے معاہدہ کیا اور وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں۔

شماتت کا معنی ہے دشمن کی مصیبت پر خوش ہونا۔

(المفردات ج ا ص ٣٥١ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ النہایہ ج ٢ ص ٤٤٦ مطبوعہ دارلکتب العلیہ بیروت)

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ اپنے (دینی) بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا اور تم کو مصیبت میں مبتلا کردے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٤) ۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شماتت اعداء سے محفوظ رہنے کی دعا فرمائی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بری تقدیر سختیوں کے آنے شماتت اعداء اور سخت مصیبت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے تھے۔

(صحیح مسلم الذکر ٥٣ (٢٧٠٧) ٦٧٤٧ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦١٦، ٦٣٤٧ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٤٩١ مسند احمد ج ٢ ص ١٧٣)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ (الاعراف : ١٥١ ) ۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی دعاء مغفرت کی توجیہ : 

جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر اپنے بھائی کا عذر واضح ہوگیا اور انہوں نے یہ جان لیا کہ ان پر جو ذمہ داری تھی اس کو پورا کرنے میں انہوں نے کوئی کمی نہیں کی اور جاہل اسرائیلیوں نے جو گو سالہ پرستی کی تھی اس کو روکنے کی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی تھی تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے جو سختی سے باز پرس کی تھی اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اپنے بھائی کے لیے معافی چاہی کہ اگر بالفرض ان سے اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کو بھی معاف فرما۔ انبیاء ( علیہ السلام) معصوم ہوتے ہیں ان سے کوئی گناہ ہیں ہوتا۔ صغیرہ نہ کبیرہ۔ لیکن ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہ کا حکم رکھتی ہیں اس لیے وہ استغفار کرتے ہیں۔ نیز ان سے جو اجتہادی خطا سرزرد ہوتی ہے اس پر بھی استغفار کرتے ہیں ہرچند کہ اجتہادی خطا پر مواخذہ نہیں ہوتا بلکہ ایک اجر ملتا ہے لیکن وہ مقام عالی کے پیش نظر اس پر بھی استغفار کرتے ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے بھائی کے لیے دعا کی اس میں اسلوب دعا کی تعلیم ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کرے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا سب سے زیادہ محتاج ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا تھا وہ عنقریب اپنے رب کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلت میں گرفتار ہوں گے ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٢ ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 56