أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

بیشک زمین پر چلنے والوں میں اللہ کے نزدیک سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک زمین پر چلنے والوں میں اللہ کے نزدیک سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے 

توبہ کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا عموم اور شمول :

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے برے عمل کیے پہلے وہ ان پر توبہ کرے بایں طور کہ ان برے اعمال پر نادم ہو اور ان سے رجوع کرے اور آئندہ ان برے کاموں کو نہ کرنے کا عزم صمیم کرے اور ان کا تدارک اور تلافی کرے مثلاً جو نمازیں اور روزے رہ گئے ہیں ان کو قضا کرے۔ اگر کسی کا مال غضب کیا تھا تو اس کو واپس کرے پھر کلمہ پڑھے اور یہ تصدیق کرے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس پر رحم فرمائے گا۔

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ تو بہ سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو جو شخص اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا اس آیت میں گنہ گاروں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے گناہ کی پھر کہا اے اللہ ! میرے گناہ کو بخش دے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ اس نے پھر دوبارہ گناہ کیا اس کے بعد کہا اے میرے رب میرے بناہ کو بخش دے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ اس نے پھر سہ بارہ گناہ کیا اور کہا اے میرے رب میرے گناہ کو بخش دے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو علم تھا کہ اس کا رب گناہ کو بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے (اے میرے بندے) تو جو عمل چاہے کر میں نے تجھ کو بخش دیا۔

(صحیح مسلم التوبہ ٢٩ (٢٧٥٨) ٥٨٥٢ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٠٧ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٦ مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٥ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث : ٥٨٧٦) ۔

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی ٦٥٦ لکھتے ہیں :

یہ حدیث استغفار کے عظیم فائدہ پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل عظیم اس کی وسعت اس کی رحمت اس کے حلم اور اس کے کرم پر دلالت کرتی ہے اور اس حدیث میں استغفار سے یہ مراد نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے استغفار اور توبہ کرے بلکہ استغفار کا وہ معنی مراد ہے جو دل میں پیوست ہو جس سے گناہ اصرار کی گرہ کھل جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پچھلے گناہوں پر نادم ہو۔ اس صورت میں استغفار اس کی توبہ کا ترجمان ہوگا حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو فتنہ میں مبتلا ہو اور بہت توبہ کرنے والا ہو۔ (شعب الایمان ج ٥ رقم الحدیث : ٧١٢١ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے بار بار گنہا صادر ہو اور وہ بار بار توبہ کرے اور جب وہ گناہ کرے تو وہ توبہ کرے لیکن جو ژخص صرف زبان سے استغفر اللہ کہتا ہے اور اس کا دل گناہ کرنے پر مصر ہوتا ہے تو اس کا ایسا استغفار بجائے خود استغفار کا محتاج ہے۔ اور ایسی زبانی توبہ سے صدق دل سے توبہ کرنی چاہیے کہ آئندہ وہ ایسی زبانی اور بےمغز توبہ نہیں کرے گا۔ اور صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے ساتھ لاحق ہوجاتا ہے اور جب کسی صغیرہ گناہ پر اصرار کرے تو وہ صغیرہ نہیں رہتا کبیرہ ہوجاتا ہے اور جب کسی کبیرہ گناہ پر استغفار کرے تو وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ گناہ کرنا اگرچہ پہلی بار گناہ کرنے سے زیادہ قبیح ہے کیونکہ دوبارہ گناہ کرکے وہ خود اپنی توبہ توڑ رہا ہے لیکن جب وہ دوبارہ زیادہ گڑگڑا کر توبہ کرے گا اور کریم کے دروازہ پر فریاد کرے گا تو پہلی توبہ سے احسن ہے کیونکہ وہ اس یقین سے توبہ کررہا ہے کہ اس کے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔

اس حدیث کے آخر میں ارشاد ہے جو مرضی آئے کر میں نے تجھ کر بخش دیا ہے۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کو اب گناہ کرنے کی عام اجازت اور کھلی چھٹی ہے۔ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے اور آئندہ کے لیے اس کو گناہوں سے محفوظ کردیا ہے یا یہ کہ اگر اس سے پھر گناہ سرزد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ اس کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے گا۔ اس کا یہ معنی بھی ہے جب تک تم گناہوں پر توبہ کرتے رہو گے میں تم کو بخشتا رہوں گا۔

(المعصم ج ٧ ص ٨٦۔ ٨٥ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 55