حدیث نمبر 80

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے آپ نے قرأت کی آپ پر قرأت بھاری ہوگئی جب فارغ ہوئے تو فرمایا شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو ہم نے کہا ہاں یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ۱؎ آپ نے فرمایا کہ سواء سورۂ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کروکیونکہ جو فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۲؎(ابوداؤد)اور(ترمذی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا کہ میں دل میں سوچتا تھا کہ مجھ پر قرآن کیوں بھاری پڑرہا ہے لہذا جب میں آواز بلند سے قرأت کروں تو الحمد کے سوا کچھ نہ پڑھو۳؎

شرح

۱؎ معلوم ہوا کہ مقتدی کی غلطی کا امام پر اثر پڑتا ہے۔دیکھو مقتدیوں نے اپنے دل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کی جس کا اثر یہ ہوا کہ حضور کو لقمہ لگ گیا جیسے اگر مقتدی کی طہارت درست نہ ہو تو امام کو لقمہ لگتا ہے۔

۲؎ یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جو امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں کیونکہ اس میں صراحتًامقتدیوں کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا لیکن اس میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ یہ حدیث ابوہریرہ کی حدیث کے خلاف ہے جو ابھی اس کے بعد آرہی ہے جس میں جہری نمازوں میں مقتدی کو مطلقًا قرأت سے منع کردیا گیا۔دوسرے یہ کہ یہ حدیث حضرت جابر،علقمہ،عبداﷲ ابن مسعود،عبداﷲ ابن عباس،زید ابن ثابت،عبداﷲ ابن علی،علی مرتضیٰ،حر ت عمر کی ان احادیث کے خلاف ہے جن میں امام کے پیچھے مطلق خاموشی کاحکم دیا گیا ہے۔تیسرے یہ کہ یہ حدیث حکم قرآنی کے بھی خلاف ہے،رب نے فرمایا:”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا”۔چوتھے یہ کہ اس حدیث کے متعلق امام ترمذی نے فرمایا کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں صرف اتنا ہے “لَاصَلوٰۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَءْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ” یعنی اس میں مقتدی کا ذکر نہیں لہذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے یا منسوخ ہے۔

۳؎ یہ الفاظ بظاہر ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہیں کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جہری نماز میں میرے پیچھے صرف الحمد پڑھا کرو اور اخفا کی نماز میں الحمد اور سورت سب پڑھ لیا کرو حالانکہ وہ حضرات بھی مقتدی کو سورت پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔