حدیث نمبر 76

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور کی اونٹنی کی مہارکھینچ رہا تھا کہ مجھ سے فرمایا اے عقبہ کیا میں تمہیں بہترین دو سورتیں نہ بتاؤں جو پڑھی جاتی ہیں مجھے “قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ”اور”قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ”سکھائی ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سورتوں کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھاتو جب نمازصبح کے لیے اترے تو انہیں دو سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی جب فارغ ہوئے تومیری طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اے عقبہ تم نے کیسا دیکھا ۲؎(احمد، ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ کیونکہ یہ دونوں سورتیں کلام الٰہی بھی ہیں،دعا بھی اور مخلوق کے شر سے امن بھی،ہرمسلمان کو خصوصًا مسافر کو بہت مفید ہیں۔خیال رہے کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے ثواب اور فائدے کے لحاظ سے اعلیٰ ہیں اگرچہ سب کلام اﷲ ہیں جیسے کہ کعبہ معظمہ کا رکن اسود باقی عمارت سے افضل اگرچہ سارا کعبہ بیت اﷲ ہے۔

۲؎ کہ یہ دو سورتیں فجرجیسی اہم نماز میں کافی ہوگئیں اور ان بڑی سورتوں کے قائم مقام ہوگئیں جو فجر میں پڑھی جاتی ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ان سورتوں کو نماز میں پڑھنے کی وجہ سے حضرت عقبہ پر ان کے اسرار کھل گئے تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقبہ کچھ دیکھ لیا یہ سورتیں ایسی ہیں۔