تارک نماز کا حشر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضورﷺ نے ایک دن نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ جس نے ان نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کیا وہ نماز اس شخص کے لئے قیامت کے دن نور حجت اور نجات ہوگی اور جس شخص نے نمازوں کو ادا نہ کیا قیامت کے دن نماز اس کے لئے نور،حجت اور نجات نہ ہو گی اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبیَ بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (طبرانی)

بعض علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ : ان لوگوں کے ساتھ تارک نماز اس لئے اٹھایا جائے گا کہ اگر اس نے اپنے مال و اسباب میں مشغولیت کی بنیاد پر نماز کو ترک کیا تو وہ قارون کی طرح ہو گیا اور اسی کی طرح اٹھایا جائے گا اور اگر ملک کی مشغولیت کی بنیاد پر نماز نہ پڑھی تو وہ فرعون کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اگر وزارت کی مشغولیت نماز سے مانع ہوئی تو وہ ہامان کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھے گا اور اگر تجارت کی مشغولیت کی وجہ سے نماز نہ پڑھی تو وہ اُبیَ بن خلف کی طرح ہے اور اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آج تجارت کی مشغولیت نیز اقتدار کا غرور اور حاکم کی چاپلوسی انسان کواتنا مصروف کر دیتی ہے کہ انسان فرائض سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ خبر دار! تجارت و ملازمت میں اتنے مصروف نہ ہو جائو کہ اللہدکی بارگاہ میں سر جھکانے کا وقت بھی نہ نکال سکو ورنہ فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ قیامت میں رکھا جائے گا جو اللہد کے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ ہیں اور جن پر رب قدیر دجلال کی نظر فرمائے گا اور دونو ںجہاں میں وہ ذلت اور رسوائی کے حقدار ہیں اور وہ ایسے ذلیل ہیں کہ ان کے نام پر اور ان کے کردار پر قیامت تک لعنت و ملامت کی جاتی رہے گی اور بندگان خدا اور غلامان رسول ا ان سے پناہ مانگتے رہیں گے جن کا ذکر اللہ کے حبیب ا نے مذکورہ حدیث شریف میں کیا یعنی فرعون، ہامان، قارون اور اُبیَ بن خلف ان کا نام سنتے ہی نفرت پیدا ہوتی ہے۔ کوئی بھی عاشق رسول ا ان کے ساتھ اپنا حشر پسند نہیں کرسکتا لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ نماز کے پابند بن جائیں تاکہ اللہدنیک لوگوں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے اورخدائے تعالیٰ اپنے دشمنوں کے ساتھ حشر سے ہمیں بچائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔