حدیث نمبر 83

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا کہ اس کی پیروی کی جائے ۱؎ تو جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ا ور جب تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی مقتدی پر اعمال نماز میں امام کی پیروی واجب ہے نہ کہ اقوال میں لہذا جو کام کر رہا ہو مقتدی پربھی کرنا واجب ہیں حتی کہ حنفی مقتدی شافعی امام کے پیچھے نماز فجر پڑھے،امام بعد رکوع قنوت نازلہ پڑھے تو حنفی مقتدی پر اس وقت کھڑا رہنا واجب ہے اگرچہ قنوت نہ پڑھے،اس کا ماخذ یہی حدیث ہے۔یہاں اقوال کی پیروی کسی کے نزدیک مراد نہیں۔

۲؎ یعنی امام کے پیچھے قرآن بالکل نہ پڑھو نہ فاتحہ نہ دوسری سورت،خواہ امام آہستہ تلاوت کررہا ہو یا زور سے،خواہ تم تک اس کی آواز پہنچ رہی ہو یا نہ۔یہ حدیث ابوہریرہ مسلم میں بھی ہے جیسا کہ پہلی فصل میں گزر چکا۔اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا”اسی پر جمہورصحابہ کا عمل ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرآن بالکل نہ پڑھتے تھے۔یہ حدیث امام اعظم ابوحنیفہ کی قوی دلیل ہے،اسی حدیث کی بنا پر امام مالک و احمد جہری نمازوں میں مقتدی کو خاموشی کا حکم دیتے۔بعض حنبلی لوگ فرماتے ہیں کہ مقتدی امام کے سکتوں میں الحمد کی آیتیں پڑھے،بعض کے نزدیک امام الحمد پڑھ کر خاموش رہے،پھر مقتدی پڑھے۔حتی کہ امام شافعی کا ایک قول ہے کہ جہری نماز میں مقتدی خاموش رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کتنی اہم ہے اور امام اعظم کا مذہب کتنا قوی ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔