أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّـعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ‌ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ ۞

ترجمہ:

یہ اس لیے ہے کہ اللہ جس قوم کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس وقت تک وہ اس نعمت کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں، اور بیشک اللہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اس لیے ہے کہ اللہ جس قوم کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس وقت تک وہ اس نعمت کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں، اور بیشک اللہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) بشر اور بشیر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے حضرت ہارون ( علیہ السلام) اپنے تخت پر لیٹ گئے اللہ تعالیٰ نے ان پر وفات طاری کردی۔ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) واپس آئے تو بنو اسرائیل نے ان سے پوچھا حضرت ہارون ( علیہ السلام) کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔ بنو اسرائیل نے کہا آپ نے ان کو قتل کیا ہے آپ ان پر حسد کرتے تھے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ بہت نرمی کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تم تصدیق کے لیے جن کو چاہو منتخب کرلو۔ انہوں نے ستر آدمی منتخب کیے اور جب وہ اس مقررہ وقت پر پہنچے تو انہوں نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے پوچھا : اے ہارون ! تم کو کس نے قتل کیا ہے ؟ حضرت ہارون نے کہا مجھے کسی نے قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے وفات دی ہے۔ تب بنو اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ! ہم آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٣‘ مبطوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے شان نزول میں اسی روایت کا ذکر کیا ہے۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ٧‘ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

دوسری روایت یہ ہے : امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

علی بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفیسر میں فرمایا اللہ عزوجل نے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو منتخب کیا تاکہ وہ اپنے رب سے دعا کریں اور انہوں نے اللہ عزوجل سے یہ دعا کی اے اللہ ! ہمیں وہ نعتیں عطا فرما جو تو نے ہم سے پہلے کسی کو نہیں دیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو وہ نعمتیں دینا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ دعا ناگوار گزری تب ان کو ایک زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ (تفسیر امام ابن حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٤‘ جامع البیان جز ٩‘ ص ٩٩۔ ٩٨‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو الحیان اندلسی المتوفی ٧٥٤ ھ نے ان دونوں روایتوں کا اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

(البحر المحیط ج ٥‘ ص ١٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

امام فختر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ ـ‘ امام الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ ‘ حافظ اسماعیل بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ ‘ علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ اور بہت مفسرین نے امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ کی اس روایت پر اعتماد کیا ہے۔

امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور بچھڑے کی عبادت کرنے پر بنو اسرائیل کو ملامت کی اور بچھڑے کو جلا کر اس کے ذرات کو سمندر میں ڈال دیا۔ پھر حضرت موسیٰ نے اپنی امت میں سے انتہائی نیک افراد جن کی تعداد ستر تھی ‘ سے فرمایا تم میرے ساتھ اللہ سے ملاقات کے لیے چلو اپنی اس گئو سالہ پرستی پر اللہ تعالیٰ سے معذرت کرو۔ جب حضرت موسیٰ ان کو لے کر پہاڑ طور پر گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو ایک بادل آیا اور اس نے پورے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ حضرت موسیٰ اس بادل میں داخل ہوگئے اور قوم سے کہا کہ تم قریب آجائو جب حضرت موسیٰ اپنے رب سے ہم کلام ہوتے تو ان کی پیشانی پر بہت چمکدار نور ظاہر ہوتا جس کو دیکھنے کو کوئی انسان تاب نہیں لاسکتا تھا۔ تو وہ اپنی پیشانی پر نقاب ڈال لیتے تھے۔ جب قوم اس بادل سے اندر داخل ہوئی تو سجدہ میں گرگئی۔ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہتے تھے اور وہ سن رہے تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور بادل چھٹ گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہنے لگے ہم ہرگز اللہ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو بالکل ظاہر عیاں اور بیاں دیکھ نہ لیں ‘ اس وقت ان پر بچجلی کی ایک کڑک آ پڑی اور وہ سب مرگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور عرض کیا اے اللہ اگر تو چاہتا تو ان کو پہلے ہی ہلاک کردیتا ‘ جب میں اپنی قوم کے پاس جائوں گا تو میرے کیسے تصدیق کریں گے کہ وہ سڑک سے ہلاک ہوگئے اور آئندہ مجھ پر کب اعتماد کریں گے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل دعا کرتے رہے ‘ بالا آخر اللہ تعالیٰ نے ان میں روحیں لوٹا دیں۔ پھر بنو اسرائیل نے جو بچھڑے کی پرستش کی تھی اس پر توبہ کی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب تک کہ یہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے ‘ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا۔

(جامع البیان ج ١‘ ص ٢٣٢ أ ٢٣١‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ تفسیر کبیرج ٥‘ ص ٣٧٦‘ معالم التزیل ج ٢‘ ص ١٧٠‘ تفسیرابن کثیر ج ٣‘ روح المعانی جر ٩‘ ص ٧٢‘ تفسیر الیضادی مع الکزرونی ج ٣‘ ٦٣ )

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ ان کو بجلی کی کڑک نے پکڑلیا جس سے وہ مرگئے پھر ان کو زندہ کیا۔ نیز امام ابن ابی حاتم نے سعید بن حیان سے روایت کیا ہے کہ ان ستر اسرائیلیوں کو بجلی کر کڑک نے اس لیے بلاک کیا تھا کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کا حکم دیا تھا نہ اس سے منع کیا تھا۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٧٥‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

سورۃ بقرہ میں الصاعقہ اور سورة الاعراف میں الرجفہ فرمانے کی توجیہ 

سورة البقرہ میں فرمایا تھا ان کو ” الصاعقہ “ نے پکڑ لیا (البقرہ : ٥٥) اور اس سورت میں فرمایا ہے ان کو ” الرجفہ “ نے پکڑ لیا۔ الصاعقہ کے معنی ہیں رعد یا بجلی کی کڑک اور الرجفہ کے معنی ہیں زلزلہ۔ علامہ بیضاوی اور علامہ آلو سی نے لکھا ہے اس سے مراد الصاعقہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بجلی اس زور سے کڑکی ہو کہ پہاڑ میں زلزلہ آگیا ہو اس لیے ایک جگہ اس کو الصاعقہ سے تعبیر فرمایا اور دوسری جگہ الرجفہ سے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 53