أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَـيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّـلۡعَبِيۡدِۙ ۞

ترجمہ:

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تم نے پہلے کیے تھے اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تم نے پہلے کیے تھے اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے 

دعا میں اصولی طور پر دو چیزیں طلب کی جاتی ہیں مضر چیزوں سے نجات اور مفید چیزوں کا حصول یعنی دفع ضرر اور جلب منفعت۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا میں پہلے یہ کہا کہ ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ دعا کے اس حصہ میں اپنی امت کے لیے ہلاکت اور عذاب سے نجات کو طلب کیا اور دعا کے دوسرے حصہ میں کہا اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں ‘ اور اس میں جلب منفعت کی اور مفید چیزوں کو طلب کیا اور دنیا اور آخرت کی خیر اور حسنہ کو طلب کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس آیت میں تلقین فرمائی ہے :

ومنھم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ (البقرہ : ٢٠١)

اور ان میں سے بعض یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما۔

دنیا کی بھلائی کیا ہے اور آخرت کی بھلائی کیا ہے ؟ علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ٢٥٤ ھ نے لکھا ہے ” دنیا کی بھلائی سے مراد ہے پاکیزہ حیات اور اعمال صالحہ اور آخرت کی بھلائی سے مراد ہے۔ جنت ‘ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور دنیا کی نیکیوں پر ثواب “ اور زیادہ عمدہ بات یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی سے مراد نعمت اور عبادت ہے اور آخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے اور اس کے علاوہ اور کیا بھلائی ہوسکتی ہے ! (البحرالمحیط ج ٥‘ ص ١٩٠) علامہ بیضادی متوفی ٢٨٦ ھ نے لکھا ہے ” دنیا کی بھلائی سے مراد اچھی زندگی اور عبادت کی توفیق ہے اور آخرت کی ھلائی سے مراد جنت ہے “۔ (الکازرونی مع الیضاوی ج ٣‘ ص ٦٤) علامہ ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد گناہوں کی بخشش ہے۔ (جامع البیان جز ٩‘ ص ١٠٥) علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد مغفرت اور جنت ہے۔ علامہ قرطبی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور آخرت کی بھلائی سے مراد اس کی جزا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٧‘ ص ١٥٧) باقی مفسرین نے بھی تقریبا اسی طرح لکھا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی تھی کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی لکھ دے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ بھلائی ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو رسول امی کی پیروی کریں گے جن کا ذکر تو رات اور انجیل میں ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے سید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی عطا کردی۔

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم اپنی سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض)  بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو سوال کیا تھا کہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لکھ دے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لے منظور نہیں کیا اور فرمایا کہ یہ میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو عطا کروں گا۔

(جامع البیان جز ٩‘ ص ١٠٩‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥‘ ص ١٥٨٠)

اب یہاں پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو تفسیر علامہ ابو الحیان اندلسی ‘ علامہ بیجاوی ‘ علامہ ابن جریر اور علامہ قرطبی وغیرہ ہم نے کی ہے کہ دنیا کی بھلائی سے مراد اعمال صالحہ ہیں اور اخرت کی بھالائی سے مراد جنت ہے ‘ اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی کیا خصوصیت ہے۔ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اعمال صالحہ کریں گی اور جنت میں جائیں گی جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 51