أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ‌ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ‌ۚ وَكُلٌّ كَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(ان کا معاملہ) فرعون کے متبعین اور ان سے پہلے لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رب کی آیات کی تکذیب کی تو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا اور ہم نے فرعون کے متبعین کو غرق کردیا اور وہ سب ظالم تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان کا معاملہ) فرعون کے متبعین اور ان سے پہلے لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رب کی آیات کی تکذیب کی تو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا اور ہم نے فرعون کے متبعین کو غرق کردیا اور وہ سب ظالم تھے 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں۔

اس حدیث میں اس پر ظاہر دلالت ہے کہ اگر انسان سو مرتبہ یا ہزار مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ بار گناہ کا تکرار کرے اور ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوگی اور اس کے گناہ ساقط ہوجائیں گے اور اگر تمام گناہوں سے ایک بار ہی توبہ کرے تو اس کی تو بہ صحیح ہے اور یہ جو فرمایا ہے جو مرضی آئے کرو اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک تم گناہوں پر توبہ کرتے رہوگے میں تم کو بخشتا رہوں گا۔

(صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ج ١١ ص ٦٨٨٢۔ ٦٨٨١ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کے عفو و مغفرت کی وسعت اور اس کے رحم و کرم کے عموم وشمول میں بہت احادیث ہیں ہم یہاں پر صرف ایک حدیث اور پیش کررہے ہیں۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! تو نے مجھ سے دعا کی اور دعا قبول ہونے کی امید رکھی میں نے تیری پچھلی سب خطائیں بخش دیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے کو بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! اگر تو تمام روئے زمین کے برابر بھی گناہ کرکے آئے بہ شرطی کہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس تمام روئے زمین جتنی مغفرت لے کر آئوں گا۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث ٣٥٤٧ جامع الاصول ج ٨ رقم الحدیث ٥٨٧٧)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو انہوں نے (تورات کی) تختیاں اٹھالیں جن کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٤ ) ۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا اپنے غصہ کی تلافی کرنا :

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جب یہ جان لیا کہ بھائی حضرت ہارون ( علیہ السلام) سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تھی اور ان کا عذر صحیح تھا تو انہوں نے تورات کی جو تختیاں ڈالی تھیں وہ اٹھالیں اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے لیے دعا کی۔ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو غصہ آیا تھا اس وقت بھی انہوں نے غصہ میں دو کام کیے تھے۔ تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دی تھیں اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔ اور جب غصہ ٹھنڈا ہوگیا تب بھی انہوں نے اس کی تلافی میں دو کام کیے۔ تورات کی تختیاں زمین سے اٹھالیں اور اپنے بھائی کے لیے دعا کی۔

تورات کی تختیاں ٹوٹی تھیں یا نہیں :

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے الالواح سے مراد وہی الواح ہیں جو انہوں نے ڈالیں تھیں۔ (گویا الف لام عہد خارجی کا ہے) اور اس میں یہ ظاہر دلیل ہے کہ ان تختیوں میں سے کوئی تختی ٹوٹی تھی نہ باطل ہوئی تھی اور وہ جو بعض روایات میں ہے کہ تورات کے سات اجزاء میں چھ اجزا اٹھا لیے گئے تھے اور صرف ایک جز باقی رہ گیا تھا وہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے وہ تختیاں زمین پر ڈالیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے چالیس دن روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے ان تختیوں کو لوٹادیا اور ان میں بعینہ وہ سب کچھ مذکور تھا جو پہلی تختیوں میں تھا اس تقدیر پر وفی نسختھا کا معنی یہ ہوگا اس میں جو کچھ لکھا ہوا تھا وہ ہدایت اور رحمت تھی اور اگر ہم یہ کہیں کہ وہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے تختیاں ڈالنے کے بعد بعینہ ان ہی تختیوں کو اٹھا لیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تھیں اور اب بھی فی نسخہ تھا کا یہی معنی ہوگا کہ اس کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (تفسیر کبیرج ٥ ص ٣٧٤ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) ۔

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے اس میں نیک کاموں کی ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریقوں اور صالح حیات کے لیے اس میں مکمل دستور العمل ہے اور اگر اس میں کوئی کوتاہی ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 54