أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ‌ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ۞

ترجمہ:

ان کی عادت فرعون کے متبعین اور ان سے پہلے لوگوں کی مثل ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کی عادت فرعون کے متبعین اور ان سے پہلے لوگوں کی مثل ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے 

علامہ ابوالحسن الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

کلبی نے کہا اس سے مراد زلزلہ ہے۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد موت ہے۔ وہ سب مرگئے تھے پھر ان کو زندہ کیا۔ فراء نے کہا وہ ایک آگ تھی جس نے ان جو جلا ڈالا تھا۔ حضرت موسیٰ کا یہ گمان تھا کہ یہ ہلاک ہوگئے ہیں لیکن وہ ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ 

(النکت و العیون ج ‘ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ لکھتے ہیں :

الرجفہ سے مراد ہے حرکت شدید اور ان کو حرکت شدیدہ نے جو اپنی گرفت میں لیا تھا اس کے سبب کے متعلق چار قول ہیں 

١۔ حضرت علی ص نے فرمایا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حضرت ہاروں (علیہ السلام) کے قتل کا الزام لگایا تھا۔ 

٢۔ ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے دعا میں حد سے تجاوز کیا تھا ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی نعمت مانگی تھی جو پہلے کسی کو ملی ہو نہ آئندہ ملے۔

٣۔ قتادہ اور ابن حریج نے کہا یہ لوگ نیکی کا حکم دیتے تھے نہ برائے سے روکتے تھے۔

٤۔ سدی اور ابن اسحاق نے کہا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کا مطالبہ کیا اور اللہ کا کلام سننے کے بعد کہا ہم اس کو دیکھے بغیر اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (زاد المسیرج ٣‘ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ المکتب السلامی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ ستر اسرائیلوں کی وجہ سے ان کو ہلاکت میں مبتلا کرے گا ؟

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو دعا نقل فرمائی : کیا تو ہم میں سے ان نادانوں کے کاموں کی وجہ سے ہم کو ہلاک کرے گا ؟ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے جرم کی سزا دوسرے کو نہیں دیتا۔ قرآن مجید میں ہے :

ولا تیزو وازرۃ وزر اخری (الذمر : ٧)

اور کوئی بوجھ اٹھانے وال کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے 

تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے متعلق کیسے یہ گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان ستر اسرائیلوں کے قصور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہلاکت میں مبتلا کرے گا۔ امام رازی اس اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا جیسے کہتے ہیں : کیا تم اپنی خدمت کرنے والے کی بےعزتی کرو گے ! یعنی تم ایسا نہیں کرو گے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کا معنی یہ ہے کہ تو ہم کو ہلاکت میں نہیں ڈالے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٥‘ ص ٣٧٧)

اس اعتراض کا یہ جواب بھی نہیں دیا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ گمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی پیریشانی میں مبتلا کرے گا۔ یہ وپنے اس کلام سے ان ستر اسرائیلوں کو شفاعت کرنا چاہتے تھے جو اپنی نادانی اور حماقت کی وجہ سے رعد کی کڑک میں مبتلا ہو کر مارے گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنی ذات کو درمیان میں ڈالا کہ یہ تو قصور وار ہیں لیکن اگر ان کی سزا برقرار رکھی گئی تو میں پریشانی میں مبتلا ہوں گا اور بنو اسرائیل انکے متعلق مجھ سے سوال کریں گے سو تو مہربانی فرما اور میری خاطر ان کو زندہ کردے۔

اللہ کے معاف کرنے اور مخلوق کے معاف کرنے میں فرق 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا میں کہا تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے کیونکہ مخلوقات میں سیجب کوئی کسی کو بخشتا ہے تو یا تو دنیا میں اس سے اپنی تعریف و توصیف کا طالب ہوتا ہے یا آخرت میں ثواب کا طلب گار ہوتا ہے یا معافی مانگنے والے کے حال کو دیکھ کر اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔ دل سے اس رقت کو زائل کرنے کے لیے وہ معاف کردیتا ہے یا یہ نیت ہوتی ہے کہ آج میں اس کو معاف کروں گا تو کل مجھے معاف کردے گا۔ یاماضی میں کبھی اس نے اس کو معاف کیا ہو تو اس کا احسان چکانے کے لیے وہ اس کو معافت کردیتا ہے۔ غرض معاف کرنے سے مخلوق کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور بےغرض اور بلا عوض معاف کرنے والا صرف اللہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 52