حدیث نمبر 79

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہ پڑھی جو زیادہ مشابہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بمقابلہ فلاں کے ۱؎ سلیما ن نے فرمایا کہ میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں دراز کرتے تھے اور آخری رکعتیں ہلکی اور عصر کی ہلکی پڑھتے تھے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے اور عشاء میں وسط مفصل صبح میں طوال مفصل۲؎(نسائی)اور ابن ماجہ نے یہاں تک روایت کی کہ عصر ہلکی پڑھتے تھے۔

شرح

۱؎ فلاں سے مراد حضرت علی مرتضیٰ ہیں یا عمرو ابن سلمہ ابن نفیع یا کوئی اورشخص جو مروان ابن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کا والی تھا،بعض لوگوں نے کہا ہے کہ فلاں سے مراد عمر ابن عبدالعزیز ہیں مگر یہ غلط ہے کیونکہ آپ کی ولادت ۶۱ھ ؁ میں ہے اور حضرت ابوہریرہ کی وفات ۵۷ھ ؁ یا ۵۸ھ ؁ میں لہذا ابوہریرہ کی ملاقات آ پ سے نہیں ہوئی۔(مرقات)

۲؎ قرآن کریم کے ایک حصہ کا نام مِائین ہے ایک کا مثانی اور ایک حصہ کا نام مفصل۔سورۂ حجرات سے والناس تک مفصل کہلاتا ہے،اس کے پھر تین حصے ہیں:حجرات سے بروج تک طوالِ مفصل،بروج سے لَمْ یَکُن تک اوساط مفصل اور لَمْ یَکُن سے والنّاس تک قصار۔فجر اور ظہر میں طوال پڑھنا اور عصر و عشاء میں اوساط،مغرب میں قصار پڑھنا مستحب ہے،اس مسئلہ کا ماخذیہ حدیث بھی ہے۔