💥 وائرس کا خوف 🗯️

تاتاریوں نے بغداد پر حملہ‌کرنے سے پہلے ایسا خوف طاری کیاتھا کہ‌لاکھوں لوگ بغیر اف کیے ، گاجر مولی کی طرح کٹ گئے ۔

کہا جاتا ہے کہ اگر ایک تاتاری سو آدمی کے سر ، پتھر پر رکھ کر کہتا:

یہاں سے ہلنے کی کوشش نہ‌کرنا ، میں اپنا کام نمٹا کے تمھیں قتل کرتا ہوں ؛ تو وہ سارے اس کے آنے تک اپنے سر جھکائے رکھتے ، اور وہ آکر ذبح کردیتا ۔ ( واللہ اعلم )

خوف اور وہم‌ دو ایسی چیزیں ہیں جو اچھے بھلے انسان کو مفلوج کرکے رکھ دیتی ہیں ، اس کی طاقت سَلب ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حواس تک کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں ۔

¹ کرونا وائرس وبا کی صورت میں ظاہر ہوا ، یہی مشیت الہی تھی ۔

جب تک اللہ چاہے گا یہ رہے گا ، اور جب اللہ پاک کا حکم ہوگا یہ ختم ہوجائے گا ۔

ہم اللہ کریم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں !!

ہمیں اس کا ایسا خوف اپنے اوپر مسلط نہیں کرلینا چاہیے کہ اگر اس کا گزر بھی ہمارے قریب سے ہو تو ہم دہشت سے ہلاک ہوجائیں ۔

اور نہ‌ہی اس کے آگے سرجھکا دینا چاہیے کہ جب چاہے ہلاک کردے ۔

بیماری ہو یا دشمن ، اس کے ساتھ آخری حد تک لڑتے رہیں ؛ پھر……………………….نجات یا شہادت !!

² اٹلی وغیرہ ممالک ، جہاں وائرس نےشدت سے حملہ کیا ہے ، وہاں کی تصویریں اور مریضوں کی تعداد بار بار شئیر کرنا کوئی عقل مندی نہیں ؛ یہ چیزیں خوف پھیلانے کا سبب بنتی ہیں ۔

دیکھیے ، ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہماری کس طرح نفسیاتی تربیت فرمائی ہے ۔

آپ فرماتے تھے:

اگر کوئی مکروہ( ناپسندیدہ ، ڈراؤنا ) خواب دیکھو تو اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرو ، ( ایسا کرو گے تو ) وہ خواب تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔

انظر: سنن الترمذی ، ر 2277 ، قال الترمذی: ھذا حدیث حسن صحیح ۔

جب ڈراؤنے خواب بھی کسی کے سامنے بیان کرنے کی‌اجازت نہیں ، تو دہشت زدہ کرنے والی خبریں بیان کرنا کب درست ہوگا !!

لوگوں کو خوش خبریاں سنانی چاہییں تاکہ‌وہ سکون کی زندگی جی سکیں اور کچھ کرسکیں ، انھیں ڈرا ڈرا کے ہلاکت کے دہانے نہیں پہنچا دینا چاہیے ۔

ہمارا مہربان رب ﷻ ، ہماری غلطیاں معاف فرمائے ، رحمۃ للعالمینﷺ کے صدقے ہم پر رحم فرمائے ۔

✍️لقمان شاہد

23-3-20 ء