أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوۡمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذۡ اِلَيۡهِمۡ عَلٰى سَوَآءٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡخَآئِنِيۡنَ۞

ترجمہ:

اور آپ کو جس قوم سے عہد شکنی کا خدشہ ہو تو ان کا عہد برابر برابر ان کی طرف پھینک دیں، بیشک اللہ عہد شکنوں کو پسند نہیں کرتا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کو جس قوم سے عہد شکنی کا خدشہ ہو تو ان کا عہد برابر برابر ان کی طرف پھینک دیں، بیشک اللہ عہد شکنوں کو پسند نہیں کرتا 

علامہ سید محمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

حافظ ابن قیم حنبلی نے غضبناک شخص کی طلاق کے متعلق ایک رسالہ لکھا ہے اس میں یہ کہا ہے کہ غضبان شخص کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ اس کو مبادی غضب حاصل ہوں یعنی غضب کی ابتدائی کیفیت ہو اس کی عقل متغیر نہ ہو اور اس کو علم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا قصد کررہا ہے۔ اس قسم میں کوئی اشکال نہیں ہے دوسری قسم یہ ہے کہ وہ انتہائی غضب میں ہو اور اس کو علم نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور نہ اس کا ارادہ ہو۔ اس قسم میں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اقوال نافذ نہیں ہوں گے اور تیسری قسم وہ ہے جو ان دونوں کے درمیان متوسط ہوبایں طور کہ وہ مجنون کی مثل نہ ہو یہ قسم محل نظر ہے اور دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے اقوال بھی نافذ نہ ہوں۔ حافظ ابن قیم کا کلام ختم ہوا لیکن صاحب الغایہ حنبلی نے اس تیسری قسم میں حافظ ابن قیم کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں اقوال نافذ ہوں گے اور اس کی طلاق واقع ہوجائے گی اور یہ ہمارے موقف کے مطابق ہے جیسا کہ ہم نے مدہوش کی بحث میں لکھا ہے۔ (الی قولہ) پس اس مسئلہ میں مدہوش کی تعریف پر اعتماد کرنا چاہیے اور اسی پر حکم دائر کرنا چاہیے۔ اور جس شخص کے اقوال اور افعال میں اکثر وبیشتر خلل رہتا ہو یا بڑھاپے یا بیماری کا کسی آفت کی وجہ سے کسی کی عقل میں خلل آگیا ہو تو جب تک اس کی یہ کیفیت رہے (یعنی الٹی سیدھی باتیں کرتا ہو اور الٹے سیدھے کام کرتا ہو) اس کے اقوال اور افعال کا اعتبار نہیں کیا جائے گا خواہ اس کو اس کو ان اقوال اور افعال کا علم ہو اور اس نے ان کا ارادہ کیا ہو کیونکہ اس کا یہ علم اور ارادہ معتبر نہیں ہے کیونکہ اس کو ادراک صحیح حاصل نہیں ہے۔ آخر میں علامہ شامی نے یہ لکھا ہے کہ جب کوئی شخص شدید غضب کی حالت میں طلاق دے اور بعد میں اس کو یاد نہ رہے کہ اس نے کیا کہا تھا اور دو آدمی یہ گواہی دیں کہ اس نے طلاق دی تھی تو اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔ ہاں اگر اس کی عقل میں خلل ہو اور اس کی زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوں جن کو وہ سمجھتا ہو نہ ان کا ارادہ کرتا ہو تو یہ جنون کا اعلیٰ مرتبہ ہے اس میں طلاق واقع نہیں ہوگی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ والوالجیہ میں مذکور ہے کہ اگر وہ غضب کی ایسی حالت میں ہو کہ اس کی زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوں جو اس کو بعد میں یاد نہ رہیں تو دو گواہوں کے قول پر اعتماد کرنا جائز ہے کہ یہ عبادت ہمارے بیان کی صراحتاً تائید کرتی ہے۔

(ردالمحتارج ٢ ص ٤٢٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 58