أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ۞

ترجمہ:

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو (اپنا زور اور قوت) دکھاتے ہوئے نکلے وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ ان کے تمام کاموں کا احاطہ کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو (اپنا زور اور قوت) دکھاتے ہوئے نکلے وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ ان کے تمام کاموں کا احاطہ کرنے والا ہے 

علامہ سید محمود آلو سی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ امی کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

زجاج نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امی اس لیے کہا ہے کہ آپ امت عرب کی طرف منسوب ہیں جس کے اکثر افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اور امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عمر (رض) سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ اہم امی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ گنتی کرتے ہیں۔ امام باقر نے کہا ہے کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ کے رہنے والے تھے اس لیے آپ کو امی فرمایا ‘ آپ اپنی ام (ماں) کی طرف منسوب تھے ‘ یعنی آپ اسی حالت پر تھے جس حال پر اپنی ماں سے پیدا ہوئے تھے ‘ آپ کا یہ وصف اس تنبیہہ کے لییبیان کیا گیا ہے کہ ٓپ اپنی پیدائشی حالت پر قائم رہنے (یعنی کسی سے پڑھنا ‘ لکھنا نہ سیکھنے) کے باوجود اس قدر عظیم علم رکھتے تھے سو یہ آپ کا معجزہ ہے۔ امی کا لفظ صرف آپ کے حق میں مدح ہے اور باقی کسی کے لیے ان پڑھ ہونا باعث فضلیت نہیں ہے ‘ جیسا کہ تکبر کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے باعث مدح ہے اور دوسروں کے حق میں باعث مذمت ہے۔ 

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی وقت لکھنے کا صدور ہوا ہے یا نہیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ ہاں صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح نامہ لکھا اور یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے اور احادیث ظاہرہ کا بھی یہی تقاضا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ آپ نے بالکل نہیں لکھا اور آپ کی طرف لکھنے کی نسبت مجاز ہے ‘ اور بعض اہل بیت سے روایت ہے کہ آپ لکھے ہوئے الفاظ کو دیکھ کر پڑھتے تھے لیکن اس روایت کی کوئی معتمد سند نہیں ہے ‘ ہاں ابو الشیخ نے اپنی سند کے ساتھ عقبہ سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک آپ نے پڑھا اور لکھا نہیں ‘ شعبی نے اس روایت کی تصدیق کی ہے۔ (روح المعانی ‘ ج ٩‘ ص ٧٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لکھنے اور پڑھنے پر قرآن مجید سے دلائل 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وما کنت تتلومن قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک اذا الار تاب المبطلون۔ (العنکبوت : ٤٨ )

اس (کتاب کے نزول) سے پہلے آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ‘ ایگر ایسا ہوتا تو باطل پرستوں کو شبہ پڑجاتا !

اس آیت کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی استاد سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا ‘ قریش مکہ کے سامنے آپ کی پوری زندگی تھی ‘ آپ کے اہل وطن اور رشتہ داروں کے سامنے ‘ روز پیدائش سے اعلان نبوت تک آپ کی ساری زندگی گزری اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ نے کبھی کوئی کتاب پڑھی نہ قلم ہاتھ میں لیا اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آسمانی کتابوں کی تعلیمات ‘ گزشتہ انبیاء ورسل کے حالات ‘ قدیم مذاہب کے عقائد ‘ تاریخ ‘ تمدن ‘ اخلاق اور عمرانی اور عائلی زندگی کے جن اہم مسائل کو یہ امی شخص انتہائی فصیح وبلیغ زبان سے بیان کر رہے ہیں ‘ اس کا وحی الہٰی کے سوا اور کوئی سبب نہیں ہوسکتا ‘ اگر انہوں نے کسی مکتب میں تعلیم پائی ہوتی اور گذشتہ مذاہب اور تاریخ کو پڑھا ہوتا تو پھر اس شبہ کی بنیاد ہوسکتی تھی کہ جو کچھ یہ بیان کر رہے ہیں وہ دراصل ان کا حاصل مطالعہ ہے۔ ہرچند کہ کوئی پڑھا لکھا انسان بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے آدمی مل کر اور تمام علمی وسائل بروئے کار لا کر بھی ایسی بےنظیر کتاب تیار نہیں کرسکتے ‘ تاہم اگر آپ نے اعلان نبوت سے پہلے لکھنے پڑھنے کا مشغلہ اختیار کیا ہوتا تو جھوٹوں کو ایک بات بنانے کا موقع ہاتھ لگ جاتا ‘ لیکن جب آپ کا امی ہونا ‘ فریق مخالف کو بھی تسلیم تھا تو اس سر سری شبہ کی بھی جڑ کٹ گئی اور یوں کہنے کو تو ضدی اور معاند لوگ پھر بھی یہ کہتے تھے :

وقالو اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا (الفرقان : ٥)

اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے لکھے ہوے قصے ہیں جو اس (رسول) نے لکھوا لیے ہیں ‘ سو وہ صبح و شام اس پر پڑھے جاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 47