أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَبَقُوۡا‌ ؕ اِنَّهُمۡ لَا يُعۡجِزُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور کافر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ نکل گئے، بیشک وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ نکل گئے، بیشک وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تورات کی الواح کو زمین پر ڈال دینا ان کے شدت غضب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ انسان اس قسم کا اقدام اسی وقت کرتا ہے جب وہ شدت غضب سے مدہوش ہوجائے۔ روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے تورات کی تختیاں زمین پر ڈالیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔ اس کے کل سات اجزاء تھے چھ اس وقت اٹھالیے گئے اور صڑف ایک حصہ باقی رہ گیا۔ جو اجزاء اٹھا لیے گئے ان میں ہر چیز کی تفصیل تھی اور جو ایک حصہ باقی رہ گیا اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔

اور کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ قرآن مجید میں صرف یہ ہے کہ انہوں نے تورات کی تختیاں (زمین پر) ڈال دیں۔ رہا یہ کہ انہوں نے تورات کی تختیوں کو اس طرح پھینکا کہ وہ ٹوٹ گئیں یہ قرآن مجید میں نہیں ہے اور یہ کہنا اللہ تعالیٰ کی کتاب پر سخت جرأت ہے اور قسم کا اقدام انبیاء ( علیہ السلام) کے لائق نہیں ہے۔

(تفسیر کبیرج ٥ ص ٣٧٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

قاضی ناصرالدین نے کہا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے شدت غضب فرط صدمہ اور حمیت دین کی وجہ سے تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور جب انہوں نے وہ تختیاں پھینکیں تو ان میں سے بعض ٹوٹ گئیں۔ علامہ صبغتہ اللہ آفندی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حمیت دین کا تقاضا یہ ہے کہ کتاب اللہ کا احترام کیا جائے اور اس سے حفاظت کی جائے کہ وہ گر کر ٹوٹ جائے یا اس میں کوئی نقصان ہو یا اس کی بےحرمتی ہو اور صحیح بات یہ ہے کہ شدت غضب اور فرط غم کی وجہ سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بےقابو ہوگئے اور غیر اختیاری طور پر ان کے ہاتھوں سے یہ تختیاں گرگئیں اور چونکہ ان سے ترک تحفظ صادر ہوا تھا تو اس ترک تحفظ کو تغلیظا ڈال دینے سے تعبیر فرمایا اور ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے درجہ میں گناہ کا حکم رکھتی ہیں۔

علامہ آلوسی فرماتے ہیں توجیہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس فعل پر کوئی عتاب نہیں کیا گیا حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ ان کے ترک تحفظ کو تغلیظا ڈال دینے سے تعبیر فرمایا اور یہ کہا جائے کہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے درجہ میں گناہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ان آیات میں صرف حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم پر زجروتوبیخ کی گئی ہے اور میرے نزدیک اس مقام کی تقریر یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے شرک کو دیکھا تو وہ حمیت دین کی وجہ سے سخت غضب میں آگئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ کو جلد فارغ کرنے کے لیے عجلت سے وہ الواح زمین پر رکھ دیں تاکہ وہ اپنے بھائی کا سر پکڑ سکیں جس کو قرآن مجید نے ڈالنے سے تعبیر فرمایا اور اس میں کسی وجہ سے بھی تورات کی تختیوں کی اہانت نہیں ہے اور وہ جو طبرانی وغیرہ کی روایت میں ہے کہ بعض تختیاں ٹوٹ گئیں تو وہ عجلت سے زمین پر رکھنے کی وجہ سے ٹوٹیں اور یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی غرض نہ تھی اور نہ ان کو یہ گمان تھا کہ ایسا ہوجائے گا۔ یہاں پر صرف دینی حمیت اور فط غض کی وجہ سے بہ عجلت ان تختیوں کو زمین پر رکھنا مراد ہے اور بعض علماء نے تختیوں کے ٹوٹنے کے واقعہ کا انکار کیا ہے (جیسے امام رازی) ہرچند کہ یہ روایت مسند بزار مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں ہے۔

(روح المعانی جز ٩ ص ٦٧۔ ٦٦ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 59