أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لَوۡ تَرٰٓى اِذۡ يَتَوَفَّى الَّذِيۡنَ كَفَرُوا‌ ۙ الۡمَلٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡۚ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ۞

ترجمہ:

اور کاش تم (وہ منظر) دیکھتے جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں، ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضرب لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لو اب جلنے کا عذاب چکھو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کاش تم (وہ منظر) دیکھتے جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں، ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضرب لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لو اب جلنے کا عذاب چکھو 

حضرت بریدہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی امتوں کی ہوں گی۔

(اسنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٨٩‘ مسند احمد ج ٥‘ ص ٣٤٧‘ سنن الداری ج ٢‘ رقم الحدیث ٢٨٣٥‘ المسدرک ج ا ‘ ص ٨٢‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٥٩٤٤‘ کتاب الذہدلابن المبارک رقم الحدیث : ١٥٧٢‘ کنزالعمال رقم الحدیث ٣٤٥١٣‘ کامل ابن عدی ج ٣‘ ص ٨٥٥‘ ج ٤‘ ص ١٤٢٠‘ مجمع الزوائد ج ١٠‘ ص ٧٠‘ ٤٠٣) ۔

اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس آیت میں دنیا کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں احکام شرعیہ آسان ہوں۔ کیونکہ بنو اسرائیل پر بہت مشکل احکام تھے۔ ان کی توبہ یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کردیں۔ ان کو تیمم کی سہولت حاصل نہیں تھی۔ مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ مال غنیمت حالال نہیں تھا ‘ قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ کپڑے یا بدن پر جس جگہ نجاست لگ جائے اس کا کاٹنا پڑتا تھا۔ گنہ گار اعضا کو کاٹنا ضروری تھا ‘ قتل خطا اور قتل محمد عمد میں قصاص لازمی تھا دیت کی رخصت نہ تھی۔ ہفتہ کے دن شکار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ روزہ کا دورانیہ رات اور دن کو محیط تھا اور بہت سخت احکام تھے ‘ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ چاہا کہ دنیا میں ان کے لیے احکام شرعیہ آسان ہوجائیں۔ یہ دنیا کی بھلائی تھی اور آخرت کی بھلائی یہ تھی کہ کم عمل پر اللہ تعالیٰ زیادہ اجرعطا فرمائے۔ ان کو ایک نیکی پر ایک ہی اجر ملتا تھا۔ حضرت موسیٰ چاہتے تھے کہ ایک نیکی دس گنا یا سات سو گنا اجر عطا کیا جائے اور اس معنی میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی اللہ تعالیٰ نے سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لیے مخصوص کردی تھی۔ اس لیے یہ بھلائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی بجائے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کردی اس لیے فرمایا میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بھلائی ان لوگوں کو دوں گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اس عظیم رسول نبی امی کی پیروی کریں گا جس وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہو اپاتے ہیں ‘ جو ان کو نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا جو ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کا حلال کرے گا اور ناپاک چیزوں کو حرام کرے گا جون ان سے بوجھ اتار دے گا ‘ اور انکے گلوں میں پڑے ہوئے طوق اتارے گا ‘ سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم کی اور اس کی نصرت اور حمایت کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (الاعراف : ١٥٧ )

اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نواد صاف ذکر کیے گئے ہیں (١) نبی (٢) رسول (٣) امی (٤) آپ کا تو رات میں مکتوب ہونا (٥) آپ کا انجیل میں مکتوب ہونا (٦) امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا (٧) پاکیزہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام کرنا (١٨) ان سے بوجھ اتارنا (٩) ان کے گلے میں پڑے ہوئے طوق اتارنا۔

نبی اور رسول کے معنی 

علامہ مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں۔

رسول وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی طرف تبلیغ کے لیے بھیجا اور کبھی اس میں کتاب کی شرط بھی لگائی جاتی ہے۔ اس کے بر خلاف نبی عام ہے خواہ اس کے پاس کتاب ہو یا نہ۔ (شرح عقائد صفی ‘ ص ١٤)

اس تعریف پر یہ اعتراض ہے کہ رسول تین سو تیرہ ہیں اور کتابیں اور صحائف ملا کر ایک سو چودہ ہیں۔ اور باقی رسولوں کے پاس کتاب نہیں تھی۔ اس لیے علامہ آلو سی نے لکھا ہے کہ تحقیق یہ ہے کہ نبی وہ انسان ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی بغیر کسی بشر کے واسطے کے خبر دے اور ان امور کی خبر دے جن کو محض عقل سے نہیں جانا جاسکتا۔ اور رسول وہ ہے جو ان اوصاف کے علاوہ مرسل الیہم کی اصلاح پر بھی مامور ہو۔ (روح المعانی جز ٩‘ ص ٧٩) لیکن یہ فرق بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی بھی انسانوں کی اصلاح پر مامور ہوتا ہے۔ اس لیے صحیح جواب یہ ہے کہ رسول کے پاس کتاب ہونا ضروری ہے خواہ کتاب جدید ہو یا کسی سابق رسول کی کتاب ہو۔ دوسرافرق یہ ہے کہ رسول کے لیے ضروری ہے کہ اس پر فرشتہ وحی لائے اور نبی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے یہ جائز ہے کہ اس کے دل پر وحی کی جائے۔ یا خواب میں اس پر وحی کی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 50