أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! جب تمہارا مخالف فوج سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا بہ کثرت ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب تمہارا مخالف فوج سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا بہ کثرت ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو 

امام بخاری نے اس واقعہ کو ایک اور سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب ص سے روایت کیا ہے اس میں اس طرح ہے :

جب انہوں نے صلح نامہ لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی کفار مکہ نے کہا ہم اس کو نہیں مانتے اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو منع نہ کرتے ‘ لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں ‘ آپ نے فرمایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور میں محمد بن عبداللہ ہوں ‘ پھر آپ نے حضرت علی سے کہا رسول اللہ (کے الفاظ) کو مٹا دو ‘ حضرت علی نے کہا نہیں ! خدا کی قسم ! میں آپ (کے الفاظ) کو نہیں مٹائوں گا ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مکتوب کو پکڑا اور لکھا : وہ یہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٩٩)

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ ان احادیث پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حضرت براء کی روایت میں اضطراب ہے اور راویوں نے حضرت براء کے جوں کے توں الفاظ نقل نہیں کیے۔ کسی روایت میں لکھنے کا مطلقاً ذکر نہیں ‘ کسی میں صرف ” کتب “ ہے اور کسی میں ہے ” لیس یحسن یکتب “۔

تفہیم القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٧١٤‘ ملحصا ‘ مطبوعہ ادارہ ترجمن القرآن) 

یعنی بعض روایات میں ہے۔ آپ نے لکھا اور بعض روایات میں ہے آپ اچھی طرح یعنی مہارت سے نہیں لکھتے تھے۔ 

سید مودودی کا اس اختلاف کا اضطراب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ یہ ایسا اختلاف نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے ان روایات کا معنی مضطرب ہوجائے۔ اگر اس قسم کی اختلاف کو اضطرا کہا جائے تو پھر تمام احادیث ساقط الاستدلال قرار پائیں گی۔

علاوہ ازیں جن احادیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لکھنے کا ثبوت ہے وہ اور بھی صحابہ کرام سے مروی ہیں اور ان میں ” کتب “ اور ” لیس یحسن یکتب “ کا اختلاف بھی نہیں ہے۔ اب ہم دوسرے صحابہ کی روایات کو پیش کر رہے ہیں :

سعید بن جیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) عنما نے کہا جمعرات کا دن ! کیسا تھا وہ جمعرات کا دن ! پھر وہ رونے لگے حتی کہ ان کے آنسوئوں سے سنگریزے بھیک گئے۔ پس میں نے کہا اے ابن عباس ! جمعرات کے دن میں کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور زیادہ ہوگیا تھا ‘ آپ نے فرمایا میرے پاس (قلم اور کاغذ) لائو میں تمہیں ایک ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ پس صحابہ میں اختلاف ہوگیا اور نبی (علیہ السلام) کے پاس اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا ‘ صحابہ نے کہا آپ کا کیا حال ہے ؟ کیا آپ بیماری میں کچھ کہہ رہے ہیں ؟ آپ سے پوچھ لو۔ (الحدیث) 

مسلم کی ایک روایت (٤١٥٢) میں ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ان کا اختلاف اور شور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہوگیا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٣١‘ صحیح مسلم ‘ الوصیۃ ‘ ٢٠‘ (١٦٣٧) ٤١٥٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٢٩ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں۔ کہ رول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض میں مجھ سے فرمایا میرے لیے ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلائو حتی کہ میں ایک مکتوب لکھ دوں ‘ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے الا کہے گا میں ہی (خلافت کا) مستحق ہوں ‘ اور اللہ اور مومنین ابوبکر کے غیر پر انکار کردیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ فضائل الصحابتہ ١١‘ (٢٣٨٧) ٦٠٦٤ )

حضرت انس بن مالک ص بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روم کی طرف مکتوب لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ نے کہا وہ صرف اسی مکتوب کو پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی گویا کہ میں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں دیکھ رہا تھا اس پر نقش تھا ” محمد رسول اللہ “۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥‘ صحیح مسلم ‘ لباس ‘ ٥٦‘ (٢٠٩٢) ٥٣٧٩‘ سنن التسائی رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم (الحدیث : ٨٨٤٨ )

حضرت انس ص بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسری کی طرف ‘ قیصر کی طرف ‘ نجاشی کی طرف اور ہر جابر بادشاہ کی طرف مکاتب لکھے۔ آپ ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور یہ وہ نجاشی نہیں ہے جس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز جنازہ پڑھتی تھی۔ 

(صحیح مسلم ١ الجہادو السیر ٧٥‘ (١٧٧٤) ٤٥٢٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٢٣‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٤٧ )

امام بخاری اور امام مسلم نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں اور امام ابو دائود اور امام داری نے صرف اس واقعہ کو روایت کیا ہے :

حضرت ابو حمید ساعدی ص بیان کرتے ہیں کہ یلہ کے بادشاہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا اور ایک سفید خچر آپ کو ہدیہ میں بھجی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کو خط لکھا اور اس کو ایک چادر ہدیہ میں بھجی ‘ اور آپ نے حکم دیا کہ وہ سمندر کے ساتھ جس شہر میں رہتے ہیں اس میں ان کو جزیہ پر رہنے دیا جائے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٨‘ صحیح مسلم ‘ فضائل ‘ ١٢‘ (١٣٩٢) ٥٨٣٩‘ سسن ابودائود رقم الحدیث : ٣٠٧٩‘ سنن واری رقم الحدیث : ٢٤٩٥‘ مسند احمد ج ٥‘ ص ٤٢٥ )

حضرت سہل بن ابی حشمہ ص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل اور حضرت محیصہ کسی کام سے خیبر گئے ‘ پھر حجرت محیصہ کو خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن سہل کو تقل کر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ‘ وہ یمود کے پاس گئے ‘ (الی ان قال) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو یمود تمہارے مقتول کی دیت ادا کریں گے اور یا وہ اعلان جنگ کو قبول کرلیں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ (فیصلہ) یمود کی طرف لکھ کر بھیج دیا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٩٢‘ صحیح مسلم الحدود ‘ ٦ (١٦٦٩) ٤٧٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٢١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٧٢٥۔ ٤٧٢٤‘ موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٣٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 45