لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍۙ-وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍۙ-اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْــٴًـا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ(۲۵)

بےشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی (ف۴۹) اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اِترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی (ف۵۰) اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی (ف۵۱) پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے

(ف49)

یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات میں مسلمانوں کو کافِرو ں پر غلبہ عطا فرمایا جیسا کہ واقعۂ بدر اور قُریظہ اور نُضَیر اور حُدیبیہ اور خیبر اور فتحِ مکّہ میں ۔

(ف50)

حُنین ایک وادی ہے طائف کے قریب ، مکّۂ مکرّمہ سے چند میل کے فاصلہ پر ۔ یہاں فتحِ مکّہ سے تھوڑے ہی روز بعد قبیلۂ ہوازن و ثقیف سے جنگ ہوئی ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کثیر بارہ ہزار یا اس سے زائد تھی اور مشرکین چار ہزار تھے جب دونوں لشکر مقابل ہوئے تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے اپنی کثرت پر نظر کر کے یہ کہا کہ اب ہم ہرگز مغلوب نہ ہوں گے ، یہ کلمہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت گِراں گزرا کیونکہ حضور ہر حال میں اللہ تعالٰی پر توکُّل فرماتے تھے اور تعداد کی قلت و کثرت پر نظر نہ رکھتے تھے ۔ جنگ شروع ہوئی اور قتالِ شدید ہوا مشرکین بھاگے اور مسلمان مالِ غنیمت لینے میں مصروف ہو گئے تو بھاگے ہوئے لشکر نے اس کو غنیمت سمجھا اور تیروں کی بارش شروع کر دی اور تیر اندازی میں بہت مہارت رکھتے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس ہنگامے میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے ، لشکر بھاگ پڑا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سوائے حضور کے چچا حضرت عباس اور آپ کے ابنِ عم ابوسفیان بن حارث کے اور کوئی باقی نہ رہا ۔ حضور نے اس وقت اپنی سواری کو کُفّار کی طرف آگے بڑھایا اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ وہ بلند آواز سے اپنے اصحاب کو پکاریں ، ان کے پکارنے سے وہ لوگ لبّیک لبّیک کہتے ہوئے پلٹ آئے اور کُفّار سے جنگ شروع ہوگئی جب لڑائی خوب گرم ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک میں سنگ ریزے لے کر کُفّار کے مونہوں پر مارے اور فرمایا ربِّ محمّد کی قسم بھاگ نکلے ، سنگریزوں کا مارنا تھا کہ کُفّار بھاگ پڑے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں کو تقسیم فرما دیں ۔ ان آیتوں میں اس واقعہ کا بیان ہے ۔

(ف51)

` اور تم وہاں نہ ٹھہر سکے ۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶)

پھر اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر (ف۵۲) اور مسلمانوں پر (ف۵۳) اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے (ف۵۴) اور کافروں کو عذاب دیا (ف۵۵) اور منکروں کی یہی سزا ہے

(ف52)

کہ اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے ۔

(ف53)

کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پکارنے سے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے ۔

(ف54)

یعنی فرشتے جنہیں کُفّار نے ابلق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے ، عمامہ باندھے دیکھا ، یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے ۔ اس جنگ میں انہوں نے قتال نہیں کیا ، قتال صرف بدر میں کیا تھا ۔

(ف55)

کہ پکڑے گئے ، مارے گئے ، ان کے عیال و اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۷)

پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا (ف۵۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف56)

اور توفیقِ اسلام عطا فرمائے گا چنانچہ ہوازن کے باقی لوگوں کو توفیق دی اور وہ مسلمان ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور نے ان کے اسیروں کو رہا فرما دیا ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ-وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۲۸)

اے ایمان والو مشرک نرے(بالکل)ناپاک ہیں (ف۵۷) تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں (ف۵۸) اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے (ف۵۹) تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے (ف۶۰) بےشک اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف57)

کہ ان کا باطن خبیث ہے اور وہ نہ طہارت کرتے ہیں ، نہ نجاستوں سے بچتے ہیں ۔

(ف58)

نہ حج کے لئے نہ عمرہ کے لئے اور اس سال سے مراد ۹ ہجری ہے اور مشرکین کے منع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان ان کو روکیں ۔

(ف59)

کہ مشرکین کو حج سے روک دینے سے تجارتوں کو نقصان پہنچے گا اور اہلِ مکّہ کو تنگی پیش آئے گی ۔

(ف60)

عِکرمہ نے کہا ایسا ہی ہوا ، اللہ تعالٰی نے انہیں غنی کر دیا ، بارشیں خوب ہوئیں ، پیداوار کثرت سے ہوئی ۔ مقاتل نے کہا کہ خطّۂ ہائے یمن کے لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اہلِ مکّہ پر اپنی کثیر دولتیں خرچ کیں (اگرچاہے) فرمانے میں تعلیم ہے کہ بندے کو چاۂے کہ طلبِ خیر اور دفعِ آفات کے لئے ہمیشہ اللہ کی طرف متوجہ رہے اور تمام امور کو اسی کی مشیّت سے متعلق جانے ۔

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠(۲۹)

لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر (ف۶۱) اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۶۲) اور سچے دین (ف۶۳) کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دئیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر (ف۶۴)

(ف61)

اللہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ اس کی ذات اور جملہ صفات و تنزیہات کو مانے اور جو اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت نہ کرے اور بعض مفسِّرین نے رسولوں پر ایمان لانا بھی اللہ پر ایمان لانے میں داخل قرار دیا ہے تو یہود و نصارٰی اگرچہ اللہ پر ایمان لانے کے مدَّعی ہیں لیکن ان کا یہ دعوٰی باطل ہے کیونکہ یہود تجسیم و تشبیہ کے اور نصارٰی حلول کے معتقِد ہیں تو وہ کس طرح اللہ پر ایمان لانے والے ہو سکتے ہیں ، ایسے ہی یہود میں سے جو حضرت عزیر کو اور نصارٰی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اللہ پر ایمان لانے والا نہ ہوا ، اسی طرح جو ایک رسول کی تکذیب کرے وہ اللہ پر ایمان لانے والا نہیں ۔ یہود و نصارٰی بہت انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں لہٰذا وہ اللہ پر ایمان لانے والوں میں نہیں ۔

شانِ نُزول : مجاہد کا قول ہے کہ یہ آیت اس وقت نازِل ہوئی جب کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روم سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا اور اسی کے نازِل ہونے کے بعد غزوۂ تبوک ہوا ۔ کلبی کا قول ہے کہ یہ آیت یہود کے قبیلۂ قُریظہ اور نُضَیر کے حق میں نازِل ہوئی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے صلح منظور فرمائی اور یہی پہلا جزیہ ہے جو اہلِ اسلام کو ملا اور پہلی ذلّت ہے جو کُفّار کو مسلمانوں کے ہاتھ سے پہنچی ۔

(ف62)

قرآن و حدیث میں اور بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ معنی یہ ہیں کہ توریت و انجیل کے مطابق عمل نہیں کرتے ، ان کی تحریف کرتے ہیں اور احکام اپنے دل سے گڑھتے ہیں ۔

(ف63)

اسلام دینِ الٰہی ۔

(ف64)

معاہد اہلِ کتاب سے جو خراج لیا جاتا ہے اس کا نام جزیہ ہے ۔

مسائل : یہ جزیہ نقد لیا جاتا ہے اس میں ادھار نہیں ۔

مسئلہ : جزیہ دینے والے کو خود حاضر ہو کر دینا چاہئے ۔

مسئلہ : پیادہ پا لے کر حاضر ہو کرکھڑے ہو کر پیش کرے ۔

مسئلہ : قبولِ جزیہ میں تُرک و ہندو وغیرہ اہلِ کتاب کے ساتھ ملحق ہیں سوا مشرکینِ عرب کے کہ ان سے جزیہ قبول نہیں ۔

مسئلہ : اسلام لانے سے جزیہ ساقط ہو جاتا ہے ۔ حکمت جزیہ مقرر کرنے کی یہ ہے کہ کُفّار کو مہلت دی جائے کہ تاکہ وہ اسلام کے محاسن اور دلائل کی قوت دیکھیں اور کتبِ قدیمہ میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہونے کا موقع پائیں ۔