أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡئٰـنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا‌ؕ فَاِنۡ يَّكُنۡ مِّنۡكُمۡ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ‌ۚ وَاِنۡ يَّكُنۡ مِّنۡكُمۡ اَلۡفٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَيۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو (کافروں پر) غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صبر کرنے والے) ہوں تو وہ اللہ کے اذن سے دو ہزار (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو (کافروں پر) غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صبر کرنے والے) ہوں تو وہ اللہ کے اذن سے دو ہزار (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے 

شیخ انور شاہ کا شمیری ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے نزدیک کپڑے کو گھسیٹنا مطلقاً ممنوع ہے اور امام شافعی نے ممانعت کو تکبر کی صورت میں منحصر کیا ہے اور اگر تکبر کے بغیر کپڑا گھسیٹا جائے تو وہ جائز ہے اور اس وقت یہ حدیث احکام لباس سے نہیں ہوگی اور حق کے زیادہ قریب فقہاء احناف کا مذہب ہے کیونکہ تکبر فی نفسہ ممنوع ہے اور اس کی کپڑا گھسیٹنے کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے جو فرمایا تھا کہ تم تکبر کی وجہ سے تہبند نہیں گھسیٹتے تو اس میں تکبر کو ایک مناسب علت کے طور پر بیان فرمایا ہے ہرچند کہ تکبر پر ممانعت کا مدار نہیں ہے اور حضرت ابوبکر (رض) کے لیے تہبند گھسیٹنے کے جواز کی علت یہ تھی کہ جب تک وہ خوب احتیاط سے تہبند باندھیں ان کا تہبند پھسل جاتا تھا۔ البتہ عدم تکبر کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زائد علت کے طور پر بیان فرمایا جو جواز کی مفید ہے اور اس کی تاکید کرتی ہے اور حضرت ابوبکر (رض) کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ کو پوچھنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ممانعت بہ طور عموم تھی۔ (یعنی تکبر ہو یا نہ ہو گھسیٹنا ممنوع ہے) اور اگر ان کے نزدیک یہ ممانعت تکبر کی وجہ سے ہوتی تو پھر ان کے سوال کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

حضرت ابوبکر (رض) نے یہ سوال کیا تھا کہ یارسول اللہ ! میرے تہبند کی ایک جانب پھسل جانتی ہے ال یہ کہ میں اس کو خوب احتیاط سے باندھوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ؤ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٤) اور کسی مناسب امر کو بہ طور علت بیان کرنا معروف طریقہ ہے اور ہمارے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ تکبر سے تہبند گھسیٹنا اس شخص کے لیے ممنوع ہے جو مظبوطی سے تہبند باندھ سکتا ہو اس لیے فقط تکبر پر ممانعت کا مدار نہیں ہے۔

شیخ بدر عالم میرٹھی اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں :

میں یہ کہتا ہوں کہ شریعت نے صرف گھسیٹنے کو تکبر قرار دیا ہے کیونکہ جو لوگ اپنے کپڑوں کو گھسیٹتے ہیں وہ صرف تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور ہم نے اپنے زمانہ میں بھی اس کا تجربہ کیا ہے (مشاہدہ لکھنا چاہیے تھا۔ سعیدی غفرلہ) اور اگر ہمارے زمانہ میں اس طرح نہ ہوتا ہو تو عرب میں بہرحال اس طرح ہوتا تھا اور اب اس حکم میں سبب کو مسبب کے قائم مقام کرنا ہے (کپڑا گھسیٹنا سبب ہے اور تکبر مسبب ہے اور کپڑا گھسیٹنے سے اس لیے منع کیا ہے کہ وہ تکبر کا سبب ہے۔ سعیدی غفرلہ) جیسے نیند حدث (وضو ٹوٹنا) نہیں ہے لیکن وہ پٹھوں کے ڈھیلے ہونے کا سبب ہے جس سے عموماً ہواخارج ہوجاتی ہے اس لیے نیند کو حدث کا سبب قرار دے دیا۔ اسی طرح سفر مشقت کے قائم مقام ہے اور مباشرت فاحشہ بھی کسی چیز کے نکلنے کا عادتاً سبب ہے اس لیے مباشرت فاحشہ کو حدث اکبر کا سبب قرار دے دیا۔ اسی طرح کپڑا گھسیٹنا بھی تکبر کا سبب ہے اور یہ ایک پوشیدہ چیز ہے جس کا ادراک کرنا مشکل ہے جیسے سفر میں مشقت اور نیند میں حدث اور مباشرت فاحشہ میں کسی چیز کا نکلنا۔ اس لیے کپڑا گھسیٹنے پر ممانعت کا حکم لگا دیا گیا علاوہ ازیں ہم نے تجربہ کیا ہے کہ ظاہر کا باطن میں اثر ہوتا ہے اسی وجہ سے نیک اور اچھے نام رکھنے کا حکم ہے اور جس شخص نے کپڑا گھسیٹا وہ اس بات سے محفوظ نہیں ہے کہ اس کے باطن میں تکبر سرایت کرجائے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے کہ نصف پنڈلیوں تک تہبند باندھو۔ اور اگر تم انکار کرو تو ٹخنوں میں تمہارا حق نہیں ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٣ سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٣٤٤ )

اس میں یہ دلیل ہے کہ یہ حدیث احکام لباس سے ہے اور ٹخنوں سے نیچے ہمارا حق نہیں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ممانعت میں تکبر کی خصوصیت نہیں ہے اور اس سے بھی زیادہ واضح یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو بھی ایک بالشت سے زیادہ لباس لٹکانے کی اجازت نہیں دی حالانکہ ان کو لباس لٹکانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں تکبر یا عدم تکبر کا فرق نہیں کیا۔

(فیض الباری مع الحاشیہ ج ٤، ص ٣٧٤، ٣٧٣ مطبوعہ مجلس علمی سورت ھند ١٣٥٧ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 66