أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَـكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا‌ ۚ وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰى قَوۡمٍۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّيۡثَاقٌ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کی اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ فراہم کی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی، وہ اس وقت تک تمہاری ولایت میں بالکل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کرلیں، اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے ماسوا اس قوم کے جس کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو اور تم جو کام بھی کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کی اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ فراہم کی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی، وہ اس وقت تک تمہاری ولایت میں بالکل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کرلیں، اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے ماسوا اس قوم کے جس کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو اور تم جو کام بھی کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے “

عہد رسالت میں مومنین کی چار قسمیں 

اس آیت (الانفال :72) میں اور اس سورت کی آخری آیت (الانفال :75) میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایمان لانے والوں کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں (1) مہاجرین اولین، ان کا ذکر آیت 72 کے اس حصہ میں ہے۔ (1) ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (2) انصار، ان کا ذکر آیت مذکورہ کے اس حصہ میں ہے، وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا۔ (3) جن مومنین نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی ان کا ذکر الانفال : 75 کے اس حصہ میں ہے والذین امنوا من بعد وھاجروا وجاھدوا معکم۔ (4) ۔ وہ مومنین جنہوں فتح مکہ تک ہجرت نہیں کی ان کا ذکر (الانفال :72) کے اس حصہ میں ہے، وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا۔

مہاجرین اولین کی دیگر مہاجرین اور انصار پر فضیلت 

مہاجرین اولین نے اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے جہاد کیا۔ کیونکہ جب وہ اپنے وطن کو چھوڑ آئے تو ان کے تمام مال و دولت اور ان کے مکانوں اور تجارت پر کفار مکہ نے قبضہ کرلیا۔ پھر انہوں نے مکہ سے مدینہ آنے کے لیے اور غزوات میں شرکت کرنے کے لیے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اور انہوں نے اپنی جانوں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا، کیونکہ انہوں نے بغیر ہتھیاروں اور بغیر عددی قوت اور بغیر تیاری کے غزوہ بدر میں کفار کے خلاف جہاد کیا۔ اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم پر عمل کرنے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے مقابلہ میں ان کو اپنا مال عزیز تھا نہ جان، اور چونکہ وہ ہجرت کرنے میں اور اللہ کی راہ میں مال اور جان کرچ کرنے میں بعد کے مسلمانوں پر سابق او اول تھے اس لیے ہجرت اور جہاد میں وہ بعد کے مسلمانوں کے لیے امام، پیشوا اور مقتدا بن گئے اس لیے ان کا مرتبہ اور اجر وثواب بعد میں ہجرت کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

السابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان (رض) ور ضو عنہ (التوبہ :100)

مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے، اور جن لوگوں نے نیک کامون میں ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ 

لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقو من بعد وقاتلو وکلا وعد اللہ الحسنی (الحدید :10)

جن لوگوں نے فتح (مکہ) سے پہلے (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور جہاد کیا ان کے برابر وہ لوگ نہیں ہوسکتے جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا اور جہاد کیا، ان لوگوں کا بہت بڑا درجہ ہے اور اللہ نے ان سب سے اچھے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ 

السابقون السابقون۔ اولئک المقربون (الواقعہ :10 ۔ 11) 

سبقت کرنے والے، سبقت کرنے والے ہیں وہی (اللہ کے مقرب ہیں۔ 

مہاجرین اولین سابقین نے سب مسلمانوں سے پہلے ہجرت کرکے اللہ کی راہ میں کرچ کرکے اور اس کی راہ میں جہاد کرکے بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے اس نیک عمل کی راہ دکھائی اس لیے قیامت تک کے مسلمانوں کی ان نیکیوں کا اجر ان کے نامہ اعمال کی زینت ہوگا، حدیث شریف میں ہے : 

حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کسی نیک کام کی ابتداء کی اس کو اپنا اجر بھی ملے گا اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا، اور بعد والوں کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور جس شخص نے اسلام میں کسی برے کام کی ابتداء کی اس کو اپنے کام کا گناہ بھی ہوگا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے اعمال کا گناہ بھی ہوگا اور ان کے اپنے کاموں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم الزکوۃ 69 (1017) 2313 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 2554 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 203 ۔ مسند احمد ج 4، ص 359، 357 ۔ المعجم الکبیر، ج 2، رقم الحدیث : 2445، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : 21025 ۔ سنن کبری للبیہقی، ج 4، ص 175، کنز العمال رقم الحدیث :43078)

لوگوں کی عادت ہے کہ جب وہ اپنی نوع کے لوگوں کو کوئی نیک کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی اس نیک کام کرنے کا جذبہ اور داعیہ پیدا ہوتا ہے خواہ وہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ اور لوگوں پر کوئی مشکل کام اس وقت آسان ہوجات ہے جب وہ اور لوگوں کو بھی وہ کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ سو اس اعتبار سے مہاجرین اولین کو بعد کے مسلمانوں پر بہت بڑی فضیلت حاسل ہے۔

مومنین انصار کو بھی بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کے ساتھ ان کی طرف ہجرت کی تھی تو اگر وہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مدینہ میں جگہ نہ دیتے اور آپ کی مدد نہ کرتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی جان اور اپنے مال کے نذرانے پیش نہ کرتے اور مشکل مہمات میں اصحاب رسول کا ساتھ نہ دیتے تو ہجرت کے مقاصد پورے نہ ہوتے۔ اس کے باوجود مہاجرین اولین کا مرتبہ انصار مدینہ سے کوئی وجہ سے افضل ہے۔ 

1 ۔ مہاجرین سابقین اولین ایمان لانے میں انصار اور باقی سب مسلمانوں سے افضل ہیں۔ اور ایمان لانا ہی تمام فضیلتوں کا مبدء اور منشاء ہے۔ 

2 ۔ مہاجرین اولین مسلسل تیرہ سال کفار قریش کی زیادتیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوتے رہے اور تمام سختیوں پر صبر کرتے رہے۔ 

3 ۔ انہوں نے اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر اپنا وطن چھوڑا، عزیز و اقارب کو چھوڑا، اگھر، تجارت اور باغات کو چھوڑا اور اسلام کی خاطر یہ تمام مصائب مہاجرین نے برداشت کیے۔ 

4 ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام اور آپ کے دین اور آپ کی شریعت کو قبول کرنے کا دروازہ مہاجرین اولین نے کھولا۔ انصار نے ان کی اقتداء کی اور ان کی مشابہت اختیار کی اور مقتدیٰ مقتدی سے افضل ہوتا ہے۔ 

مہاجرین اور انصار کے درمیان پہلے وراثت کا مشروع پھر منسوخ ہونا 

اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اس جگہ مفسرین کا اختلاف ہے کہ ولایت سے مراد وراثت ہے یا ولایت سے مراد ایک دوسرے کی نصرت اور معاونت ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس ولایت سے مراد وراثت ہے اور اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا وارث کردیا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی، وہ اس وقت تک تمہاری ولایت میں نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کرلیں اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک وہ ہجرت نہ کرلیں ان کو وراثت نہیں ملے گی اور جب اللہ تعالیٰ نے اس سوت کے آخرت میں فرمایا اور اللہ کی کتاب میں قرابت دار (بہ طور وراثت) ایک دوسرے کے زیادہ ھق دار ہیں تو اس آیت نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ اور اب قرابت وراثت کا سبب ہے اور ہجرت وراثت کا سبب نہیں ہے۔ مجاہد، ابن جریج، قتادہ، عکرمہ، حسن بصری، سدی اور زہری سے بھی اسی قسم کے اقوال مروی ہیں۔ (جامع البیان جز 10، ص 69، 67 ۔ مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں پر نسخ نہیں ہے اور ولایت کا معنی نصرت اور اعانت ہے، اور یہی تفسیر راجح ہے۔ 

ولایت کا معنی بیان کرتے ہوئے علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

ولایت کا معنی 

ولاء اور تو الی کا معنی یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ یزوں کا ایسا حصول ہو جو پہلے حاصل نہ تھا۔ 

اور اس کا قرب کے لیے استعارہ کیا جاتا ہے۔ خواہ قرب بہ حیثیت مکان ہو یا قرب بہ حیثیت نسب ہو یا قرب بہ حیثیت دین ہو یا بہ حیثیت دوستی قرب ہو یا بہ حیثیت نصرت اور اعتقاد قرب ہو۔ 

اور ولایت (واؤ کی زیر کے ساتھ) کا معنی نصرت ہے اور ولایت (واؤ کی زبر کے ساتھ) کا معنی ہے کسی امر کا والی ہونا اور اس میں تصرف کرنا۔ او ولی اور مولی ان میں سے ہر معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسم فاعل کے معنی میں یعنی ناصر، اور کارساز اور اسم مفعول کے معنی میں یعنی منصور واللہ والی المومنین (آل عمران :68) اس کا معنی ہے اللہ مومنین کا ناصر اور کارساز ہے اور مومنین اللہ کے ولی ہیں یعنی اللہ کے منصور ہیں اللہ ان کی نصرت اور مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے درمیان ولایت کی نفی کردی ہے یا ایہا الذین امنوا لاتتخذوا الیہود والنصارا اولیاء (المائد :51) یعنی یہود اور نصاری کو اپنا ناصر اور مددگار نہ بناؤ۔ اسی طرح طرح فرمایا مالکم من ولایتہم من شیء (الانفال :72) یعنی تم ان کی مطلقان نصرت نہ (المفردات، ج 2، ص 692 ۔ 963، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ۔ )

علامہ مجد الدین ابو السعادات المبارک بن محمد بنا الاثیر جزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کے اسماء میں ولی سے اس کا معنی ہے ناصر اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے تمام عالم اور مخلوقات کا مربی اور منتظم، اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے والی ہے اس کا معنی ہے تمام اشیاء کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا اور ولایت کا لفظ تدبیر، قدرت اور فعل کی خبر دیتا ہے اور جب تک کسی چیز میں یہ معانی جمع نہ ہوں اس پر والی کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ حدیث میں لفظ مولی بہ کثرت استعمال ہوا ہے اور یہ ان معانی میں ہے : رب، مالک، سید، منعم، معتق (آزاد کرنے والا) ناصر، محبت، تابع، پڑوسی، عم زاد، حلیف، عقید (جس سے معاہدہ کیا ہو) سسرالی رشتہ دار، غلام، آزاد کردہ، ان میں سے اکثر معنی میں مولی کا لفظ حدیث میں وارد ہے، اور حدیث کا سیاق وسباق جس معنی کا مقتضی ہو مولی کا لفظ اسی معنی پر محمول کیا جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو کسی چیز کا مالک ہو یا اس کا انتظام کرے وہ اس کا مولی اور ولی ہے، اور کبھی ان اسماء کے مصادر مختلف المعنی ہوتے ہیں۔ پس ولایت (زبر کے ساتھ) کا معنی نسب میں قریب اور نصر اور آزاد کرنے والا ہے اور ولایت (زیر کے ساتھ) کا معنی امارت ہے اور ولاء کا معنی آزاد شدہ ہے۔ (النہایہ ج 5، ص 197 ۔ 198، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

چونکہ ولایت کا معنی نسبی قرابت بھی ہے اس لیے اس آیت میں وراثت کے معنی کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن قرآن مجید میں کم سے کم نسخ کو ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو نصرت کے معنی پر محمول کیا جائے اور سیاق وسباق سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ 

کفار سے معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے دار الحرب کے مسلمانوں کی مدد نہ کرنا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ ماسوا اس قوم کے جس کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو۔ 

یعنی جن مسلمانوں نے دار الحرب سے در الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی، پھر انہوں نے دار الحرب سے رہائی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں سے ان کی فوجی قوت یا مال سے مدد طلب کی تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو ناامید اور نامراد نہ کریں۔ ہاں اگر وہ کسی ایسی کافر قوم کے خلاف تم سے مدد طلب کریں جس قوم کے ساتھ ایک مدت معین تک کا تمہارا معاہدہ ہو تو پھر تم اس معاہدہ کو نہ توڑو، جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ 

حجرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین شرائط پر صلح کی۔ مشرکین میں سے جو شخص مسلمانوں کی طرف آئے گا وہ اس کو انہیں واپس کردیں گے، اور مسلمانوں کی طرف سے جو مشرکین کے پاس جائے گا وہ اس کو واپس نہیں کریں گے، اور یہ کہ اگلے سال مسلمان عمرہ کے لیے آئیں گے اور صرف تین دن مکہ مکرمہ میں ٹھہریں گے اور اپنے ہتھیاروں کو میان میں رکھک کر آئیں گے مثلاً تلوار اور تیر کمان وغیرہ۔ پھر حضرت ابوجندل بیڑیوں میں چلتے ہوئے مسلمانوں کی طرف آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں مشرکین کی طرف واپس کردیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2700، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

امام ابن ہشام متوفی 218 ھ لکھتے ہیں : 

جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سہیل بن عمرو صلح نامہ لکھ رہے تھے اس وقت سہیل کے بیٹے حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو (رض) اپنی بیڑیوں میں گھسیٹتے ہوئے آئے اور اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آگئے اور رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو انی فتح کے متعلق کوئی شک نہیں تھا اور اس کا سبب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خواب تھا۔ اور جب انہوں نے صلح اور رجوع کا معاملہ دیکھا اور یہ دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شرائط مان لی ہیں تو ان کو اتنا زیادہ رنج اور قلق ہوا کہ لگتا تاھ وہ شدت غم سے ہلاک ہوجائیں گے جب سہیل نے اپنے بیٹے ابوجندل کو دیکھا تو ان کے پاس گیا اور ان کے منہ پر تھپڑ مارے، اور ان کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگا اور اس نے کہا یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اور آپ کے درمیان اس کے آنے سے پہلے معاہدہ مکمل ہوچکا ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا۔ پھر وہ حضرت ابوجندل کو گریبان سے پکڑ گھسیٹنے لگا تاکہ ان کو قریش کی طرف لے جائے اور حضرت ابوجندل بلند آواز سے فراید کرنے لگے اے مسلمانو ! کیا میں مشرکین کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا، یہ مجھے میرے دین کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کریں گے۔ مسلمانوں کو ان کی فریاد کی وجہ سے اور زیادہ قلق ہوا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوجندل ! صبر کرو اور اجر وثواب کی نیت کرو، تمہیں اور دوسرے کمزور مسلمانوں کو اللہ نجات دینے والا ہے اور ان کے لیے کشادگی کرنے والا ہے، اور میں ان لوگوں سے صلح کا معاہدہ کرچکا ہوں اور میں ان سے عہد شکنی نہیں کروں گا۔ پھر حضرت ابوجندل دل شکستہ ہو کر اپنے باپ کے ساتھ چلے گئے اور معاہدہ پورا ہوگیا۔ (سیرت ابن ہشام ج 3، ص 347، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

نیز امام ابن ہشام لکھتے ہیں :

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچے تو آپ کے پیچھے ابوبصیر عتبہ بن اسید بھی مدینہ پہنچ گئے یہ ان مسلمانوں میں سے تھے جن کو مکہ میں قید کرکے رکھا گیا تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچے تو ان کی بازیابی کے لیے ازہر بن عبد عوف اور اخنس بن شریق نے آپ کو خط لکھا اور بنو عامر بن لوی کے ایک شخص اور ان کے آزاد کردہ غلام کو انہیں لینے کے لیے مدینہ منورہ بھیجا۔ وہ دونوں ازہر اور اخنس کا خط لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابو بصیر ! ہم نے ان لوگوں سے جو معاہدہ کیا ہے وہ تم کو معلوم ہے اور ہمارے دین میں عہد شکنی کی گنجائش نہیں ہے اور اللہ تمہارے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے نجات اور کشادگی کی صورت پیدا کرنے والا ہے، تم اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاؤ۔ حضرت ابوبصیر نے کہا یا رسول اللہ ! آپ مجھے مشرکین کی طرف لوٹا رہے ہیں وہ مجھے میرے دین کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کردیں گے ! آپ نے فرمایا اے ابوبصیر ! تم واپس جاؤ عنقریب اللہ تمہاری رہائی کی صورت پیدا کردے گا۔ (سیرت ابن ہشام ج 3، ص 352، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

امام محمد بن سعد متوفی 230 ھ لکھتے ہیں : 

ابوجندل بن سہیل بن عمرو مکہ میں بہت پہلے اسلام لا چکے تھے ان کے باپ سہیل نے ان کو زنجیوں سے باندھ کر مکہ میں قید کیا ہوا تھا اور ان کو ہجرت کرنے سے روک دیا تھا۔ حدیبیہ کی صلح کے بعد یہ رہا ہو کر مقام العیص میں پہنچ گئے اور حضرت ابوبصیر سے مل گئے۔ (حضرت ابوبصیر کو جو دو آدمی لینے آئے تھے، انہوں نے ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرا مکہ بھاگ گیا تھا۔ وہ پھر مدینہ گئے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدہ کی پاس داری کی وجہ سے ان کو قبول نہیں کیا۔ پھر یہ مدینہ سے نکل کر مقام العیص پہنچ گئے حضرت ابوجندل بھی ان سے آ ملے۔ اس طرح وہاں تقریباً ستر مسلمان مکہ سے بھاگ کر ان کے پاس آگئے ان کو مکہ سے آنے والا جو کافر ملتا یہ اس کو قتل کردیتے اور کفار کے جو قافلے وہاں سے گزرتے ان کو لوٹ لیتے۔ حتی کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا کہ وہ مکہ سے آنے والے مسلمانوں کو واپس کرنے کی شرط سے دست بردار ہوتے ہیں تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مدینہ آنے کی اجازت دے دی اور یہ لوگ مدینہ آگئے۔ (سیرت ابن ہشام، ج 3، ص 352، 353) ۔ پھر حضرت ابوجندل، حضرت ابوبصیر کے پاس رہے حتی کہ حضرت ابوبصیر وہاں وفات پا گئے اور حضرت ابوجندل دیگر مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ پہنچ گئے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ جہاد کرتے رہے اور حضرت عمر بن الخطاب کے دور خلاف میں 18 ھ کو شام میں فوت ہوگئے۔ (الطبقات الکبری ج 7، ص 284، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 72