حدیث نمبر 87

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہ میں تشریف لائے تو ان کے سامنے اول سے آخر تک سورہ ٔالرحمٰن پڑھی ۱؎ صحابہ خاموش رہے ۲؎ تو حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ سورت شب جن میں۳؎ جنات پر پڑھی تو وہ تم سے اچھے جواب دینے والے تھے میں جب اس قول پر پہنچا “فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ”تو کہتے نہیں اے مولا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تعریف ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ یعنی نماز کے علاوہ۔اس سے معلوم ہوا کہ دوستوں سے ملاقات کے وقت قرآن شریف پڑھنا اور سننا سنت ہے،عرب شریف میں اب بھی یہ دستور ہے۔

۲؎کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تلاوت قرآن کے وقت خاموشی فرض ہے،قرآن کی یہ آیت ان کے سامنے تھی “وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ” الخ۔

۳؎ جب کہ جنات وفد کی شکل میں ایمان لانے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ واقعہ کئی بار ہوا ہے ان میں سے کسی ایک رات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۂ رحمان سنائی۔

۴؎ یعنی جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ کر خاموش ہوتے تب وہ یہ عرض کرتے نہ کہ عین تلاوت کی حالت میں،لہذا ان کا یہ عمل حکم قرآنی کے خلاف نہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن سنتے وقت رونا،جھومنا اورکچھ پیارے کلمات کہنا جو مضمون آیت کے مطابق ہوں بہت بہتر ہے مگر یہ سب کچھ قاری کی خاموشی کی حالت میں ہے۔