حدیث نمبر 89

روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فجر پڑھی تو دونوں رکعتوں میں سورۂ بقر پڑھی ۲؎(مالک)

شرح

۱؎ آپ عروہ بن زبیر ہیں،قریشی ہیں،اسدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،مدینہ کے بڑے فقیہ اورمحدث ہیں،صائم الدہر تھے،صدیق اکبر کے نواسے ہیں،حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کے فرزند، ۲۲ھ ؁ میں ولادت ہوئی، ۹۴ھ ؁ میں وفات پائی، آپ کا ایک باغ اور کنواں مدینہ منورہ میں اب تک مشہور ہے لوگ برکت کے لیے اس کا پانی پیتے ہیں۔فقیر نے بھی وہاں حاضری دی ہے،بیرعروہ کے نام سے مشہور ہے۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے کچھ رکوع رکعت اول میں پڑھے اور کچھ دوسری رکعت میں اور ہوسکتا ہے کہ پوری سورۂ بقر پڑھی،آدھی پہلی رکعت میں اور آدھی دوسری میں۔یہ بھی بیان جواز کے لیے ہے ورنہ فجر کی نماز میں چالیس سے ساٹھ آیتوں تک پڑھنا مستحب ہے۔