*فلسفۂ معراجِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم*

از افادات: *حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی* (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

مرتب: *وسیم احمد رضوی*، مالیگاؤں

الحمد للّٰہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین و الصلوٰۃ و السلام علیٰ سید الانبیاء و المرسلین۔

قال اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فی القرآن المجید و الفرقان الحمید

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔

سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت۱)

صدق اللّٰہ مولانا العظیم و صدق رسولہ النبی الکریم الرؤف الرحیم

اللّٰہم نوِّر قلوبنا بالقرآن و زیِّن اخلاقنا بالقرآن واخدلناالجنۃ بالقرآن و نجنا من النار بالقرآن

قال اللّٰہ تعالیٰ و تبارک فی شان حبیبہٖ

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْنَّبِیِّ یٰا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا محبوبَ ربِّ العلمین

الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا حبیبَ اللّٰہ

الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا نبیَ الرحمۃ

تمام حمد و ثناء تعریف و توصیف اللہ جل مجدہٗ الکریم کی ذات با برکات کے لیے، جو خالقِ کائنات بھی ہے اور مالک شش جہات بھی۔ اللہ جل و اعلیٰ کی حمد و ثناء کے بعد حضور نبی اکرم، شفیعِ اُمم، رسولِ محتشم، نبیِ مکرم، اللہ کے پیارے، امت کے سہارے، رب کے محبوب، دانائے غیوب، مالکِ اُمم، فخرِ عرب و عجم، والیِ کون و مکاں، سیاحِ لامکاں، سیدِ اِنس و جاں، سرورِ لالہ رُخاں، نیّرِ تاباں، سر نشینِ مہ وَشاں، ماہِ خوباں، شہنشاہِ حسیناں، تتمۂ دوراں، سرخیلِ زُہرہ جمالاں، جلوۂ صبح ازل، نورِ ذاتِ لم یزل، باعثِ تکوینِ عالم، فخرِ آدم و بنی آدم، نیّرِ بطحا، راز دارِ ما اوحی ٰ ،شاہدِ ماطغیٰ، صاحبِ الم نشرح، معصومِ آمنہ، احمدِ مجتبیٰ، حضرتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ناز میں اپنی عقیدتوں، ارادتوں اور محبتوں کا خراج پیش کرنے کے بعد!

معزز، محترم،محتشم سامعین، عالی مرتبت علمائے کرام، منتظمینِ فہمِ دین کورس، خواتین و حضرات ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ!

سورہ بنی اسرائیل سے پہلی آیت ؛ جس کو آیتِ معراج بھی کہتے ہیں ؛ آپ کے سامنے تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا۔ اسی کے ضمن و ذیل میں کچھ باتیں آپ کے گوش گذار کروں گا۔ اللہ تعالیٰ میری زبان پہ کلمۃ الحق جاری فرمائے۔

ارشاد فرمایا : سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْْلاً پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ وہ مسجد جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے۔ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے۔

معراج میرے اور آپ کے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا دوسرا بڑا معجزہ ہے۔ سب سے بڑا معجزہ جو حضور کو عطا کیا گیا ؛ وہ ’’معجزۂ قرآن‘‘ ہے۔ اور دوسرا بڑا معجزہ جو حضور کو عطا ہوا وہ’’ معجزۂ معراج‘‘ ہے۔ معجزے کے حوالے سے ایک اور بات ہمیں ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کی یہ عادت رہی ہے کہ ہر نبی کو معجزہ اس کے دور کے تقاضوں کے مطابق دیا گیا۔ مثال کے طور پہ حضرت داؤد علیہ السلام جس دور میں تشریف لائے؛ یہ لوہے کی صنعت کے عروج کا دور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ معجزہ دیا کہ وہ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجاتا۔ لوگ تو گرم کرتے پھر نرم کرتے پھر ڈھال کر زِرہیں، آلاتِ حرب ، جو بھی بنانا چاہتے وہ بناتے۔ لیکن اللہ کے نبی جب لوہے کو ہاتھ میں پکڑتے تو وہ موم بن جاتا، موم کی طرح نرم ہوجاتا۔ اس کو ڈھال دیتے، جو شکل بنانا چاہتے بنالیتے۔ چوں کہ یہ لوہے کی صنعت کا دور تھا ؛ جو معجزہ دیا گیا اسی قبیل کا تھا۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو یہ فنِ جادو گری کے عروج کا دور تھا۔ گھر گھر جادو گر موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ’’عصاء‘‘ عطا کیا۔ جو کبھی چھوٹا ہوجاتا ہے کبھی بڑا ہوجاتا ہے، کبھی اس سے پتے جھاڑتے ہیں کبھی بکریاں ہانکتے ہیں، کبھی ٹیک لگا کے کھڑے ہوجاتے، سوتے ہیں تو وہ پہرے دار بن کے پہرا دیتا ہے اور اگر جادوگر مَنوں ٹَنوں کے حساب سے رسیاں پھینک دیتے ہیں تو یہ اژدہا بن جاتا ہے اور ساری رسیوں کو نگل لیتا ہے۔ جب سمٹتاہے تو عصاء کا عصاء؛ نہ قد میں اضافہ ہوتا ہے نہ حجم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ اس کے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ چوں کہ جادوگری کا دور تھا ؛ جو معجزہ دیا گیا وہ جادو کے فخر کو بھی توڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے ؛ یہ طبِ یونانی کے عروج کا دور تھا۔ حکیم بقراط، سقراط، افلاطون، حکیم جالینوس بڑے بڑے حکما اپنا سکہ جماچکے تھے۔ اور طبِ یونان میں ہر مرض کی تدبیر تشخیص اور علاج معالجہ دریافت ہوگیا تھا ؛ سوائے تین امراض کے۔ تین امراض کا علاج طبِ یونانی میں نہیں تھا؛ مادَر زاد اندھے کی آنکھوں میں روشنی نہیں بھر سکتے تھے، دوسرا ان کے پاس کوڑھی کے جسم کے لیے کوئی دوا نہیں تھی، تیسرا موت کا علاج نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان تینوں امراض کا علاج دے کر مبعوث کیا۔ وہ مادر زاد اندھے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہیں ؛ روشنی اتر آتی ہے۔ کوڑھی کے جسم پر ہاتھ رکھتے ہیں؛ شفا ہوجاتی ہے۔ اور مُردے کو ٹھوکر مارتے ہیں ؛ وہ اُٹھ کے باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ہر دور میں جو نبی کو معجزہ دیا؛ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھ لیںپھر نبی کو دیا گیا معجزہ دیکھیں؛ مطابقت کر لیں۔ اگر لوگ پتھروں سے چیزیں تراشنے کے عادی ہیں تو حضرت صالح علیہ السلام کو یہ معجزہ دیا جاتا ہے کہ وہ پتھر سے زندہ اونٹنی نکالتے ہیں۔

جب میرے اور آپ کے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے؛ یہ زبان و بیان کے عروج کا دور تھا۔ گھر گھر شاعر، ادیب، نثر نگار پائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو سب سے بڑا معجزہ ’’معجزۂ قرآن‘‘ دیا۔ اور پھر ان شاعروں ادیبوں نثر نگاروں کو کہا کہ قرآن کی مثل ایک سورۃ ہی لے آؤ۔ امام جلال الدین سیوطی الاتقان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں: اگر قرآن کی مثل لایا جانا ممکن ہوتا تو بدر و اُحد کی لڑائیاں نہیں ہوتیں۔ سیدھی سی بات تھی کہ قرآن کی مثل ایک سورۃ لے آتے اور اسلام و پیغمبرِ اسلام کی تکذیب کردیتے؛ لیکن ایسا ممکن نہیںتھا۔کسی کے اندر یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ قرآن کی مثل لے آئے۔ سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

ترے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے

کوئی جانے منھ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں

ہر نبی کو معجزہ اس کے دور کے مطابق دیا گیا۔ تو حضور علیہ السلام کا دور تو بڑا طویل دور ہے۔ قیامت تک حضور کا دور ہے۔ لہٰذا صرف زبان و بیان ہی نے عروج حاصل نہیں کرنابلکہ کئی چیزوں نے اپنے اپنے دور میں عروج پانا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی معجزات دیے۔ تاکہ کسی دور کا مسلمان احساسِ کم تری میں مبتلا نہ ہو اپنے دور کی اُٹھان دیکھیں؛ پھر نبی کے معجزہ کی فہرست دیکھیں۔ اسے کوئی نہ کوئی معجزہ اس کے دور کا فخر توڑتاہوا دکھائی دے گا۔ لیکن دو دَور حضور کے انتہائی اہم ہیں۔دورِ آغاز ؛ جب زبان و بیان کو عروج تھا تو ’’قرآن‘‘ دیا گیا۔ اور دوسرا قربِ قیامت کا دور؛ اس میں سائنس نے عروج پانا تھا ، لوگوں نے Apollo XIکے ذریعے چاند پر جانے کی بات کرنی ہے، مریخ پر سفر کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ تو دوسرا بڑا معجزہ ’’معراج‘‘ دیا۔ یہ سائنس داں اُلٹی چھلانگیں بھی لگاتے رہیں؛ جہاں میرے محبوب کے قدم چلے گئے ہیں وہاں کسی کا خیال بھی نہیں جاسکتا۔

کوئی حد ہے ان کے عروج کی؟

بلغ العلیٰ بکمالہٖ

اب اس آیتِ کریمہ کی ترتیب دیکھیں تو بالکل سائنسی طریقۂ کار کے مطابق ہے۔ چوں کہ یہ سائنس کا چیلنج ہے کہ ہم بہت بلند گئے؛ اللہ نے اپنے محبوب کو یہ دوسرا بڑا معجزہ دیا تاکہ اس سے افتخار کا سر توڑا جائے … آنا جانا، سیر و سیاحت، سفر؛یہ ہمارا روز مرہ ہے۔ فلسفے اور سائنس کی زبان میں اسے حرکت کہتے ہیں۔ اور حرکت پر سائنس کے ۶؍ سوالات ہیں۔ محرک کون ہے؟ متحرک کون ہے؟ زمانۂ حرکت کیا ہے؟ مبدائِ حرکت کیا ہے؟ منتہاے حرکت کیا ہے؟ اور وجہِ حرکت کیا ہے؟… یعنی حرکت کس نے دی؟ حرکت کس کو دی؟ حرکت کب دی؟ حرکت کہاں سے دی؟ حرکت کہاں تک دی؟اور حرکت کیوں دی؟

جب حرکت کی بات چھِڑتی ہے تو سائنس یہ چھ سوالات کرتی ہے۔ اب دیکھیے!معراج کا یہ جو سفر ہے جسے سائنس حرکت کہتی ہے ؛ ان چھ سوالوں کے ترتیب سے جواب موجود ہے۔محرک کون ہے؟ حرکت کس نے دی؟ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا: سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی حرکت کس کو دی؟ بِعَبْدِہِ حرکت کب دی؟ لَیْْلاً حرکت کہاں سے دی؟ مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حرکت کہاں تک دی؟ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی حرکت کیوں دی؟ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا چھ سوالوں کا ترتیب کے ساتھ جواب اس ایک آیت کے اندر موجود رکھ دیا گیاہے۔

پھر حرکت کی دو قسمیں ہیں۔ حرکت بالذات اور حرکت بالعرض۔ حضور کا یہ سفرِ معراج ؛ حرکت بالذات ہے یا حرکت بالعرض؟ یہ جو سفر کا لفظ ہم بول رہے ہیں یہ روز مرہ ہے؛ ورنہ قرآن مجید نے اسے سفر نہیں کہا ’’ سیر‘‘ کہا ہے۔اور اتنی سریع ہے کہ آنکھ جھپکنے سے پہلے گئے بھی اور آئے بھی، بستر بھی گرم، پانی ابھی بہہ رہا ہے، زنجیر ابھی ہل رہی ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں یہ کیسے ہوا؟ عقلیں حیران ہیں۔ ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محبوب کے اتنی سرعت کے ساتھ آنے جانے کو سفر نہیں کہا سیر کہا ہے۔ حالاں کہ سیر اور سفر میں فرق ہوتا ہے۔ جو سفر ہوتا ہے وہ تیز تیز ہوتا ہے۔ اور جو سیر ہوتی ہے وہ بہت متین ہوتی ہے۔ بندہ چلتا ہے، راستے میں کوئی منظر ہو کوئی پھل کھلا ہو اس کے اوپر پڑی ہوئی شبنم ہو تو رک جاتا ہے۔ سیر آہستہ آہستہ اور سفر تیز۔ اور اتنی جلدی گئے اور پلٹ کے آئے؛ اس کو رب نے سفر نہیں کہا سیر ہے۔ کہا کیا سمجھو گے میرے نبی کو! میرے نبی کی سیر کو نہیں سمجھ سکتے ؛ جس کی سیر اتنی تیز ہے تواس کا سفر کتنا تیز ہوگا؟ … کہا جاتا ہے کہ جب دکھ میں امتی نبی کو پکارتا ہے تو مدینے سے اتنی جلدی نبی کیسے آجاتا ہے؟ تو ہم کہتے ہیں یہ تو نبی کی سیر ہے جو سمجھ میں نہیں آتی اور جب امتی دکھ میں پکارتا ہے پھر نبی سیر کرتا تو نہیں آتا؛ سفر کرتا آتا ہے۔جس کی سیر سمجھ نہیں آتی اس کا سفر سمجھ میں کیسے آسکتا ہے؟ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

واللہ! وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے

اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کررے دل سے

سیرِ معراج جس کو اغلب سفرکہا جاتا ہے؛ اس کو علما نے چھ مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ ان پر بحث کرنے سے قبل معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو موقف ہے ان کا مختصر جائزہ لے کے ہم اپنے مضمون کی طرف آئیں گے۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تین موقف پائے جاتے ہیں۔ایک موقف تو یہ ہے کہ معراج کا واقعہ ہوا ہی نہیں۔ یہ محض افسانہ ہے۔ مستشرقین، مخالفینِ اسلام یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں بلکہ یہ محال ہے۔علما کہتے ہیں: یہ محال ہے تو عادتاً محال ہے یا عقلاً محال ہے؟ اب وہ عقلاً محال تو نہیں کہتے؛ عادتاً محال کہتے ہیں۔ تو اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ جو چیز عادتاً محال ہو وہ فی نفسہٖ ممکن ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ آج سے صدیوں قبل اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ اتنے ٹن لوہا ہوا میں پھر پھڑا رہا ہے، پرواز کررہا ہے۔ تو کوئی ماننے کو تیار نہ ہوتا۔ یہ محالات میں سے تھا۔ عادتاً کبھی ایسا ہوا نہیں تھا۔لیکن جب جہاز ایجاد ہوگئے؛ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔… تو جب حضور نہیں گئے تھے تو محال تھا اور جب حضور گئے تو وقوع پذیر ہوگیا۔… اس لیے کہ جو عادتاً محال ہوتا ہے وہ ممکن ہوتا ہے۔

دوسرا موقف ؛ وہ کہتے ہیں معراج ہوا ضرور ہے ۔ کیوں کہ قرآن کہتا ہے انکار نہیں ہوسکتا۔ لیکن خواب میں ہوا ہے۔ سوے، خواب دیکھا، اُٹھے اور بیان کردیا۔ بس اتنی سی کہانی ہے؛ اس کو زیادہ طول دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بس یہ ہے دوسرا موقف۔ اس پروہ دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ ما فقدت جسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مَیں نے حضور کا جسم معراج کی رات بستر سے الگ نہیں پایا۔ بلکہ مَیں نے دیکھا کہ بستر پر ہی موجود رہا۔ تو پھر حضور جسم کے بغیر گئے ہوںتو خواب میںگئے ہوں گے۔ یہ موقف پیش کیا جاتا ہے اور ایسی ہی ایک روایت حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پیش کی جاتی ہے۔

حضرت امام عبدالوہاب شعرانی الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد الاکابر میں لکھتے ہیں کہ حضور کو ایک معراج نہیں ہوا۔ بلکہ حضور کو ۳۴؍معراج ہوئے۔ ان میں سے ایک معراج یہ جس کو قرآن نے بیان کیا۔ یہ جسم و روح کے ساتھ ہوئی۔ اور باقی جو ۳۳؍ معراج ہیںوہ منامی روحانی تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کسی اُس معراج کی کہانی سُنارہی ہیںچوں کہ یہ جو معراج ہے یہ سفرِ طائف کے بعد ہوا ہے۔اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مدینہ کی ہجرت کے بعد حضور کے گھر میں آئیں۔ تو وہ کہیں کہ مَیں حضور کے جسم کو بسترسے الگ نہیں پایا تو یہ مدینے کی کہانی ہے مکہ کی نہیں ہے۔اور یہ معراج مکہ میں ہوا ہے۔ لہٰذا وہ کسی اور معراج کی بات کررہی ہیں ۔ اور جب یہ معراج ہوا ہے اس وقت تو سیدہ حضور کے نکاح میں بھی نہیں آئی تھیں۔

دوسری بات ؛ باقی رہی بات حضرت امیر معاویہ کا کہنا تو وہ بھی کسی اور معراج کی بات کررہے ہیں۔اس وقت وہ کلمہ پڑھ کے مومن بھی نہیں ہوئے تھے جب یہ معراج ہوا۔ اس لیے یہ کسی اورمعراج کی کہانی سُنا رہے ہیں۔ یہ جو معراج ہے ؛ سر کی آنکھوں سے حضور نے اپنے رب کو دیکھا۔

علامہ محمود آلوسی شکری بغدادی علیہ الرحمۃ تفسیرِ روح المعانی میں لکھتے ہیں: اگر یہ خواب میں معاملہ ہوا فمست حال القریش؟ تو قریش نے اسے محال کیوں جانا؟ اگر مَیں کہوں کہ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد مَیں مرکز(مرکزالمصطفیٰ) سے نکلا۔ راستے میں میری آنکھ لگ گئی۔ بس مَیں آسمان پہ چلا گیا۔ ستارے توڑ توڑ کے جیبیں بھرتا رہا۔ سورج چاند کو لپیٹ کے مَیں نے گود میں رکھ لیاپھر موڑ پہ میری آنکھ کھل گئی اور مَیں یہاںآگیا۔ اگر مَیں یہ کہوں تو کوئی اس کا انکار کرے گا؟ کیوں کہ خواب کی بات کی ہے نا! کہ مَیں نے خواب دیکھا اور چلا گیا۔ کوئی بھی انکار نہیں کرے گا۔ اور اگر مَیں یوںکہوں کہ مغرب پڑھ کے نکلا تھا؛ یہاں موڑنا بھول گیا،آگے چلا گیاپھر مریدکے (پاکستان کا ایک مقام) سے آگے گیا، پھر مجھے یاد آیا پھر مَیں واپس پلٹ آیا۔ تو اس بات کو کوئی نہیں مانے گا کہ اتنی جلدی آپ کیسے آسکتے ہیں؟ ابھی نماز پڑھ کے فارغ ہوئے تلاوت بھی نہیں ہوئی ، آپ پہنچ گئے اور آپ کہتے ہیں مَیں مرید کے سے ہوکر آگیا ہوں۔ یہ جاگتے ہوئے بات کی تو کوئی مانتا نہیں۔اور آسمان پر جانے کی بات خواب میں کی اس کو سارے مان رہے ہیں۔ معلوم ہوا خواب کا انکار نہیں ہوتا بیداری کا انکار ہوتا ہے۔

قریشِ مکہ جو انکار کررہے تھے ؛ حضور نے عالمِ بے داری میں جانے کا کہا۔بلکہ سب سے پہلے حضور نے جب واقعۂ معراج اپنی چچا زاد ہم شیرہ حضرت اُمِ ہانی کو بتایا ؛ جن کے گھر سے معراج کا آغاز ہوا۔ حضرت ام ہانی کو بتایا ؛ انہوں نے کہا کہ یہ بات قریش کو نہ بتائیں ۔ وہ مذاق اڑائیں گے، انکار کریں گے، اذیت دیں گے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں تو ضرور بتاؤں گا۔ انہوں نے انکار کیا۔حضور چل پڑے۔ اُمِ ہانی نے حضور کا دامن پکڑ لیا۔ کہا مَیں آپ کو نہیں جانے دوں گی۔ پھر فرماتی ہیں؛ خود روایت کرتی ہیں کہ حضور نے جھٹکا دے کر مجھ سے اپنا دامن چھڑایا۔ تو مَیں نے کیا دیکھا کہ حضور کے سینے سے ایک نور نکلا جو آسمان تک چلا گیا،اور اس نور کو دیکھ کر مَیں سجدے میں گر گئی، مَیں نے سجدے سے سر اٹھایا تو حضور جاچکے تھے۔ مَیں نے اپنی لونڈی نبیہا سے کہا جاؤ ان کے پیچھے اور دیکھو کہ یہ کیا کہتے ہیں اور قوم کیا جواب دیتی ہے… تو حضرت ام ہانی جو روک رہی ہیں؛ اگر یہ خواب کی کہانی تھی تو اس قدر ایسا کیوں ہوا؟؟

امام آلوسی لکھتے ہیں انہوں(قریش) نے اس پر بڑی بحث کی۔ وہ جانتے تھے کہ حضور کبھی مسجد اقصیٰ نہیں گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: پھر آپ مسجد اقصیٰ کے بارے میں نشانیاں بتاؤ۔حضور نے فرمایا پوچھوں مَیں نے تو دیکھا ہوا ہے… اب ظاہر ہے حضور مسجد اقصیٰ کو سرسری نگاہ سے دیکھ آئے تھے۔ لیکن انہوں نے وہ تفصیلات پوچھنا شروع کردی جس نقطۂ نظر سے بندہ دیکھا نہیں کرتا… آپ درسِ قرآن میں آئے ہیں۔ میرا حلیہ، ناک نقشہ، درسِ قرآن کا ماحول ، اس ہال کا ماحول ، اس کی ہیئت؛ آپ کو کوئی پوچھے آپ بلا تامل بتادیں گے۔ لیکن کچھ سوال ایسے ہیں جن کے بارے میں آپ نہیں بتاسکتے۔مثال کے طور پر اس کے اندر بلب کتنے لگے ہوئے ہیں؟ ٹائلیں کتنی لگی ہوئی ہیں؟ کتنی کرسیاں لگی ہوئی ہیں؟ یہ وہ تفصیلات ہے کہ بندہ اس تفصیل ، دقتِ نظر اور زاویۂ نگاہ سے نہیں دیکھا کرتا۔ فرماتے ہیں کہ جب مَیں نے کہا کہ پوچھ لو تو انہوں نے وہ باتیں پوچھنا شروع کردیں؛ جس نگاہ سے مَیں نے مسجد اقصیٰ کو نہیں دیکھا تھا۔ شہ تیر کتنے تھے؟ بھالے کتنے تھے؟کھڑکیاں کتنی تھیں؟ فرماتے ہیں مَیں دو لمحوں کے لیے تو خاموش ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کو میرے لیے ایسا کیاجس طرح میرے چچا ابو طالب کا گھر ہوتا ہے۔ اور مَیں دیکھتا جاتا اور ایک ایک نشانی کو بتاتا جاتا۔ جب ساری تفاصیل رکھ دی ان کے سامنے تو وہ کہنے لگے نقشہ بیان کرنے میں تو آپ بڑے ماہر ہیںچوں کہ آپ نے پروگرام بنایا تھا؛ پہلے کسی ذمہ دار شخص کو بھیج کر ساری تفصیلات منگوائی ہیں، پھر ازبر کیا ہے، ہم نے پوچھا ہے تو بتادیا ہے۔ حضور نے کہا کہ پہلے کہتے تھے کہ اگر بتادو گے تو ہم مان جائیں گے ؛ بتایا تو یہ بہانہ تراش لیا۔ کوئی اور بات پوچھو۔ کفارکہنے لگے ہاں ہاں! ہمارے کچھ قافلے شام کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ اورظاہر ہے آپ مسجد اقصیٰ گئے ہیں تو شام کے راستے سے گزر کے گئے ہوں گے؛ اُن قافلوں کے بارے میں اگر آپ خبر دے دیں ؛وہ خبر تازہ ہوگی۔ وہ کسی کو بھیج کر آپ نے منگوائی نہیں ہوگی۔ اخبر عن عیننا ہمارے قافلوں کے بارے میں خبر دیں۔

حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ بھی پوچھ لو۔تمہارا فلاں قافلہ مجھے مقامِ روحہ پہ ملا تھا۔فلاں قافلہ مقامِ تنعیم پہ ملا تھا۔ فلاں قافلے کے قریب سے میرا براق گزرا تو ان کا اونٹ بدک گیا؛ سوار گر گیا بازو ٹوٹ گیا۔ قافلہ پلٹے تو پوچھ لینا کسی کا بازو ٹوٹا تھا یا نہیں ٹوٹا تھا؟کفار کہنے لگے یہ تو ایک نشانی ہوگئی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ فلاں قافلہ مکے کے بالکل قریب آگیا ہے اور آج شام سورج غروب ہوتے ہی وہ حدودِ مکہ میں داخل ہوجاے گا۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ آگے آگے بھورے رنگ کے دو اونٹ چل رہے ہیں جن کے اوپر دھاری دار بوریاں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ہتھیلی پر سر سو جمانے جیسی بات ہے۔ آج شام کو ہی دیکھ لیتے ہیں۔

اب سورج غروب ہونے کے قریب تھا کفار ان پہاڑوں پہ کھڑے ہیں جس سمت سے حضور نے قافلہ کے آنے کی نشان دہی کی تھی۔ حضور کے غلام(صحابہ) بھی موجود ہیں۔سورج درد غروب سے زرد ہوا جارہا ہے لیکن آثارِ قافلہ ابھی تک دکھائی نہیں دیا۔ کافروں کے دل بِلّیوں اچھل رہے تھے۔ کہ قافلہ لیٹ ہوگیا اور ہم تکذیب کریں۔حضور کے کسی غلام کو تشویش ہوئی، بھاگا بھاگا خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا ۔ عرض کیا حضور سورج تو غروب ہوا جارہا ہے اور قافلہ ابھی تک نظر نہیں آیا! … آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دلِ نازک پر گرانی اللہ تعالیٰ کو بھلا کیسے گواراہے۔ فوراً جبریل امین تشریف لائے؛ کہا اگر قافلہ نہیں آیا محبوب پریشان نہیں ہونا جب تک قافلہ نہیں آئے گا سورج کو غروب ہی نہیں ہونے دوں گا۔

اہلِ سِیَر نے اس واقعہ کو اپنی کتب میں بیان کیا کہ جب سورج اپنی آخری کرنیں لپیٹ رہا تھا تو کفار نے شور کیا قد غربت الشمس وہ دیکھو سورج غروب ہوگیا مسلمانوں نے کہا ذرا نظر ادھر بھی تو اٹھاؤ قافلہ بھی نظر آگیا۔ اور جب قافلہ بالکل قریب آگیا جو نشانیاں آقا کریم نے بتائی تھیں وہ ساری نشانیاں پائی گئیں۔ اب کوئی بات نہ آئی تو کہنے لگے ھذا سحر ابن ابی کبشۃ یہ ابو کبشہ کے بیٹے کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ …تو یہ اتنا کچھ ہوا ؛ … علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ اگر یہ ’خواب‘ کی کہانی ہوتی تو یہ اتنا سب کچھ کیوں ہوا؟ حضور نے خواب میں جانے کی بات نہیں کی تھی عالمِ بیداری میں جانے کی بات کی تھی۔

واقعۂ معراج کو جو منامی یا روحانی سفر قرار کردیتے ہیں ؛ دلائل تو وہ بھی بڑے دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ یہاں زمین سے لے کر ۴۷؍ میل تک ہوا ہے۔ یہ سائنس دان بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد پھر خلاء ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلِ محبت امام الشاہ احمد رضا خاں محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : خلاء فی نفسہٖ ممکن ہی نہیںہے۔ سائنس دان کہتے تو ہے کہ خلاء ہے لیکن خلاء ممکن نہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ آپ فرماتے ہیں یہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ہمارا راکٹ وہاں پرواز کرگیا چلا گیاہے۔ چیزیں تو ردِ عمل کے طور پر چلتی ہیں۔ چپوؤ سے پانی کو پیچھے ڈھکیلا جاتا ہے ردِ عمل کے طور پر کشتی آگے بڑھ جاتی ہے۔ پرندہ پروں سے ہوا کو نیچے کرتا ہے خود اوپر چلا جاتا ہے۔ ہم اپنے پاؤں سے زمین کو پیچھے ڈھکیلتے ہیں خود آگے چلے جاتے ہیں۔ اگر پھسلن ہو تو ہم آگے نہیں جاسکتے؛ زمین ڈھکیلیں گے پھر آگے جائیں گے؛ ردِ عمل کے طور پہ۔ اور وہاں راکٹ چلا گیا۔ اگر وہاں کچھ ہے ہی نہیں تو ردِ عمل کیسے پیدا ہوا؟ اس لیے خلاء فی نفسہٖ ممکن ہی نہیں۔ ہاں! وہاں ہواؤں کا دباؤ اتنا کم ہے؛ جس کو سائنس دان خلاء کہتے ہیں۔ پہلے ہوا ، ہوا کے بعد خلاء۔ اور خلاء کے بعد کہتے ہیں کرۂ ضم حریر ہے؛ جہاں اولے برستے ہیں اور کتنی ٹھنڈک ہے کہ وہاں اعضاء شل ہوجاتے ہیں۔ بندہ پرواز ہی نہیں کرسکتا۔

اس کے بعد پھر کرۂ نار ہے۔ اور یہاں اتنی حدت ہے وہاں سے فولاد کو بھی گزارا جاے تو وہ بھی نہ گزر پائے۔ پھر اس کے بعد آسمان ہے۔ اور آسمان کے بارے میں فلسفیوں ، سائنس دانوں کا موقف ہے کہ یہ بسیط ہے۔ اور بسیط کا معنیٰ ہے: ما لا جزء لہ جس کے اجزا نہ ہوں۔ لہٰذا نہ اس میں سراخ ہوسکے نہ اس میں پھٹن ہو سکے۔ لہٰذا اس سے کیسے گزرگئے؟ پہلے ۴۷؍ میل ہوامیں کیسے پرواز کیے؟ پھر اس کے بعد کرۂ خلاء میں بغیر آکسیجن کے سلینڈر کے کیسے گئے؟ پھر کرۂ ضم حریر میں تو اعضا ہی شل ہوجائیں۔ پھر کرۂ نار میں تو ہڈیاں اور لوہا بھی پگھل جائے؛ کیسے چلے گئے؟ پھر کرۂ نار کے بعد آسمان بسیط ہے اس سے کیسے پرواز کر گئے؟

علما فرماتے ہیں کہ اگر یہ اعتراض کسی کافر کے ہوں تو پھر اس کو اور طرح سے جواب دیں گے۔ لیکن اگر کسی کلمہ گو کا یہ اعتراض ہو تو اسے کہیں گے کہ حضرت آدم مع حضرت حوا زمین پر کیسے آگئے؟ اگر اوپر جانے کے لیے یہ رکاوٹ ہے تو وہی رکاوٹ اوپر والے کے لیے بھی تو ہے۔تو جب حضور جا نہیں سکتے ہیں تو حضرت آدم و حوا آ کیسے سکتے ہیں؟ دوسری بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے عیسائیوں کا عقیدہ عقیدۂ کفارہ کہ انہیں پھانسی چڑھایا گیااور اپنے نہ کردہ اور ہمارے گناہوں کی سزا پائی۔ قیامت تک عیسائی جو مرضی کرتے رہیں؛ حضرت عیسیٰ سزا بھگت گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ان کے اس عقیدۂ باطلہ کی نفی کی ۔ اور فرمایا انہیں نہ قتل کیا گیا نہ سولی چڑھایا گیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھالیا۔ اب آسمان پر موجود ہیں۔ قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ حضرت امام مہدی کے ساتھ مل کے جہاد کریں گے۔ ان کے انفاسِ قدسہ سے نمک کی طرح دجال پگھلے گا۔ شادی کریں گے۔ اولاد ہوں گی۔ خیزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کے نشان کو توڑیں گے۔ پھر اس کے بعد جب اسلام غالب ہوجائے گا پھر وہ حضور کے روضے پہ جائیں گے اور فرمایا و الذی نفسی بیدہٖ لینزلن عیسیٰ ابن مریم ثم لئن قام علیٰ قبری فیقول یا محمد! لأجیبنہ۔ فرمایا مجھے قسم ہے اس رب کی ؛ جس کے قبضے میں میری جان ہے قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، میری قبر کے پاس کھڑے ہوں گے اور مجھے یا محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ کے آواز دیں گے اور مَیں قبر سے جواب دوں گا۔ پھر آپ کا انتقال ہوگا۔ انتقال کے بعد گنبدِ خضریٰ میں ایک خالی جگہ موجودہے؛ حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق کے ساتھ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی۔ اب وہ آسمان پہ ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان پہ گئے تو یہ ۴۷؍ میل ہوا،یہ کراۂ خلاء، یہ کرۂ ضم حریر، یہ کرۂ نار اور یہ آسمانوں کا بسیط ہونا ؛ کیا یہ ان کے راستے میں رکاوٹ بن کے نہ کھڑا ہوا جو میرے رسول کے راستے میں کھڑا ہے! … تو جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جا سکتے ہیں اور حضرت آدم و حوا آ سکتے ہیں تو کیا یہ ساری رکاوٹیں میرے نبی کے راستے میں کھڑی ہیں؟

تو یہ تیسرا موقف اہلِ حق کا ہے کہ حضور مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے جہاں تک خدا نے چاہا جاگتے ہوئے عالمِ بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ اور کوئی رکاوٹ حضور کے راستے میں کھڑی نہ ہوپائی۔ اور ہمارے آقا نے سر کی آنکھوں سے اپنے رب کا دیدار کیا۔

سفرِ معراج کو علما نے ۶؍ مراحل پر تقسیم کیا ہے۔ یہ مضمون تو کافی لمبا ہے لیکن وقت کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں کہ مَیں اس کو تفصیل سے عرض کرپاؤں۔ دوسرے مضمون پر کافی وقت لگ گیا۔خیر! پہلے مرحلے میں حضور براق پر مسجد حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک گئے۔ دوسرا مرحلہ؛ مسجد اقصیٰ سے پہلے آسمان تک نور کی سیڑھی پہ گئے۔ پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے پروں پر گئے۔ ساتویں آسمان سے سدرہ تک جبریل امین کے پروں پر گئے۔ اور سدرہ سے نہ جانے کہاں تک رَف رَف ایک سبز نوری تخت تھا اس پہ تشریف لے گئے۔ پھر حیرت کی وادی آئی۔ اور پھر حضور کا ذاتی سفر شروع ہوا۔ ادنو منی یا احمد کی سدائیں آنے لگیں۔ اور امام شعرانی فرماتے ہیں حضور جھومنے لگے؛ جس طرح بادِ نسیم سے شاخ جھومتی ہے۔اور پھر کیا ہوا؟ حضور فرماتے ہیں کہ مَیں نے ایک قدم اُٹھایا؛ مسجدِ حرام سے لے کر ان مرحلوں میں کل جتنا فاصلہ طے ہوا تھا ایک قدم میں اتنا فاصلہ طے ہوگیا۔

اب عقل یہاں بھی آکھڑی ہوئی؛ اتنے مختصر عرصے میں اتنا فاصلہ کیسے طے ہوگیا؟ امام رازی جن کی تفسیر تفسیرِ قرآن کا انسائیکلوپیڈیا ہے؛اقبالؔ کے مرشد مرشدِ رومیؔ بھی کہتے ہیں کہ ؎

گر بہ استدلال کارِ دیں بدی

فخر رازی راز دارِ دیں بدی

وہ فرماتے ہیں اتنی جلدی حضور کیسے چلے گئے؟ اتنی سرعتِ رفتار ؟ اگر کافر کی عقل اعتراض کرے تو بات اور ہوگی اگر مومن کی عقل اعتراض کرے تو اسے کہا جائے گا سورۃ النمل کھول۔ آصف بن برخیاکہنے لگا: حضرت ! مَیں تختِ بلقیس آنکھ جھپکنے سے قبل ہی قدموں میں حاضر کردیتا ہوں۔ ایک مہینہ جاتے ہوئے لگتا تھا، ایک مہینہ آتے ہوئے لگتا تھا۔ اور سات کوٹھڑیوں میں مقفل تھا، تالے لگے ہوئے تھے، پہرے دار کھڑے تھے۔ اور آصف بن برخیا بولے ؛ جن کے سینے میں زبور کی کچھ آیتیں تھیں۔ قَالَ الّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ اَنْ یَرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ۔ (سورۃ النمل، آیت۴۰)حضرت مَیں ابھی لے آتا ہوں۔ اور حضرت سلیمان نے ابھی آنکھ نہیں جھپکی تھی؛ تخت قدموں میں پڑاہوا تھا۔ بنی اسرائیل کے نبی کے امتی کا کمال ہے؛ آنکھ جھپکنے سے قبل اتنا فاصلہ طے کرلے تو امام الانبیاء کی رفتار کا عالم کیا ہوگا۔ …پھر کہاں تک پہنچے؟ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے

پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سراغِ این و متیٰ کہاں تھا نشانِ کیف و اِلیٰ کہاں تھا

نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے

کمانِ امکاں کے جھوٹے نکتو! تم اول آخر کے پھیر میں ہو

محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر

اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوطِ واصل

کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

پھر کہاں تک گئے؟ عقلِ انسانی تھک جاتی ہے۔ یہاں کسی کے تخیل کا مرغ پرواز نہیں کرسکتا… حضور قربِ خاص میں پہنچے۔ دَنَا فَتَدَلَّیٰ کی منزل بھی آئی، قَابَ قَوْسَیْن کی آغوش بھی ملی، اَوْحَیٰ کے مراحل بھی آئے؛ پھر اللہ نے اپنے محبوب کے دامن میں بہت کچھ ڈالا۔ اپنا سب کچھ حضور نے پیش کیا۔ احادیث میں ۲۲؍ تشہد منقول ہیں۔ہم جو پڑھتے ہیں نماز میں یہ ہیــ’’ تشہدِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘۔ یہ معراج کی حکایت ہے۔ ہم اس کو بطورِ انشاء پڑھے ہیں؛ لیکن یہ حکایتِ معراج ہے۔ حضور نے سب کچھ پیش کیا۔ میری مالی، بدنی، جانی ساری عبادتیں تیرے لیے ہیں۔اور مالک نے جواباً کہا: السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہٗ۔ اگر محبوب نے سب کچھ پیش کیا تو مالک نے کہا : محبوب میری سلامتیاں بھی، میری رحمتیں بھی، میری برکتیں بھی تیرے لیے ہیں۔ اور پھر محبوب علیہ السلام کی جھولی میں بہت کچھ ڈالا۔ ملا جیون نے بھی لکھا، امام رازی نے بھی لکھااور باقی مفسرین نے بھی تفاسیر کے اندر لکھاکہ ستّر ہزار اسرار، ستّر ہزار حکایتیں، ستّر ہزار رموز حضور کی جھولی میں ڈال کر پھر خود کہا: بما اشرفک یا احمد؟ اے محبوب ! خود بتا اب مَیں تجھے کیا عطا کروں؟تُو اپنی چاہت بھی بتا۔سب کچھ مرضی سے دے کر کہا۔ اب تُو بتا تیری ڈیمانڈ کیا ہے؟

کسی شخص کے سوال سے اس کی شخصیت نکل کر سامنے آجاتی ہے۔ مجھے اور آپ کو اگر اختیار دیا جاتا کہ مانگ لو کیا مانگنا ہے؟ تو ہمارے لبوں پر جو سوال آئے گا؛ اُس سے ہمارے اندر کا پتا چل جائے گا۔ دولت کے پجاری ہیں یا عہدوں کے خواہش مند ہیں۔ ہماری تمنا کیاہے؟ آرزوکیا ہے؟ کسی شخص کی سوچ اور ذہنی Approchکا علم سوال سے ہوتا ہے۔ اب رب نے کہا بما اشرفک یا احمد؟ محبوب! بتا تجھے کس چیز سے نواز وں؟اب محبوب نے بھی جواباًعرض کیا نسبت الیک شرفنی بالعبودی۔ اے اللہ! ساری زندگی مَیں نے کہا ہے کہ تو میرا رب ہے۔ یہ بات میں نے حِل و حرم میں کہی،مطاف و حطیم میں کہی، یہ بات مَیں نے طائف کے بازاروں میں برستے ہوئے پتھروں کے سائے میں کہی؛ہر جگہ مَیں نے کہا کہ تو میرا رب ہے، تو میرا معبود ہے؛ آج تُو بھی تو کہہ دے کہ تُو میرا بندہ ہے۔ نسبت الیک شرفنی بالعبودی۔ مجھے’’ عبدیت‘‘ سے نواز دے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو پچاس نمازوں کا تحفہ دیا؛ یہ آپ علما سنتے ہیں کہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مداخلت سے وہ پانچ رہ گئیں؛ باربارگئے، آئے۔سوال یہ ہے کہ اللہ کے علم میں نہیں تھا کہ بالآخر پانچ نمازیں رہ جائیں گی۔ پتا تھا نا اللہ کو؛ کہ بالآخر پانچ رہ جائیں گی۔ کیوں کہ اس کا علم جو ہے وہ حضوری اور قدیم ہے ؛ حصولی اور حادث نہیں۔ اس کو پتا تھا کہ بالآخر پانچ رہ جانی ہے؛ دیتا ہی پانچ۔ تاکہ بار بار نہ جانا پڑتا۔ لا تبدیل لکلمات اللہ اللہ کی باتیں نہیں بدلتی۔ اور یہاں ۹؍ مرتبہ بات بدلی۔ یہ مسئلہ بھی نہ پیش آتا۔ دیتا ہی پانچ۔ لیکن اگر اللہ دیتا ہی پانچ تو لوگوں کو نبی کی عظمت کا پتا کیسے چلتا؟ … دوسری بات ضابطہ دے دیا مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عِشْرُ اَمْثَالِہَا۔ (سورۃ الانعام، آیت ۱۶۰)جو ایک نیکی کرے؛ دس کا ثواب دیں گے۔ تم پڑھو گے پانچ لیکن ثواب ہم پچاس کا ہی عطا فرمائیں گے؛ کیوں کہ اس کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔

اب حضور پانچ نمازوں کا تحفہ لے کر امت تک پہنچے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو ویسے عرض کیا تھا کہ حضور ایک چکر اور لگائیں؛ لیکن حضور نے فرمایا کہ اب مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہے۔ یعنی توقع وابستہ کی حضور نے امت سے کہ امت اتنی نکمی تو نہیں کہ پانچ بھی نہ پڑھے گی۔ اب مَیں اور آپ دیکھیں کہ ہم اس تمنا اور آرزو پر پورا اتر رہے ہیں؟ فرمایا حبب الیی من دنیاکم ثلاث۔ مجھے تمہاری دنیا سے صرف تین چیزیں پسند ہیں: الطِّیب النساء وجعلت قرۃ عینی فی الصلوٰۃ۔ خوشبو، منکوحہ عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں رکھی ہے۔ اور فرمایا میرا معراج تو یہ ہے کہ سرِ عرش پہنچا۔ لیکن تمہارا معراج کیا ہے الصلوٰۃ معراج المؤمنین۔ تُو پیشانی سجدے میں رکھ مومن کا یہی معراج ہے۔

اللہ اکبر! کتنی کرم نوازیاں ان لوگوں پر ہیں؛ جو اپنی پیشانیاں اس کے حضور جھکاتے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب بندہ نماز کے کے لیے پیشانی سجدے میں رکھتا ہے؛ اس سے قبل ہی جب وہ کھڑے ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرا بندہ میرے حضور جھکنے کے لیے حاضر ہورہا ہے۔ اب جب یہ کھڑا ہو تو اس کے بدن سے جو گناہ ہے وہ نکا ل کے ایک سمت رکھ دو۔ تاکہ میرا بندہ ستھرا ہو کے میرے حضور پیش ہو سکے۔ بندے کے سارے گناہ ایک سمت اتار لیے جاتے ہیں اور بندہ نماز پڑھنے میں مشغول ہوتا ہے۔ جب سلام پھَیر کے جانے لگتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں مالک ! جو گناہ اس کے اتارے تھے اب دوبارہ اس کے سر لگادیں؟ اللہ ارشاد فرماتا ہے اترے ہیں تو اب اترے رہنے دو۔ میرے بندے کو پاک صاف ہوکے گھر جانے دو۔ … کتنی بد بختی ہے کہ بندہ اللہ کے حضور سجدہ بھی کر سکنے کی توفیق نہ پائے! ؎

ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

صبح سے لے کر شام تک کس کس کو Sluteمارتے پھرتے ہو۔اگر تُواس کے حضور جھکنا جانتا تو اللہ تعالیٰ جل شانہٗ تیرے لیے رحمت کے سارے دروازے کھول دیتا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جارہے تھے۔ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں کوئی اور ہیں۔ دونوں جاتے جاتے؛ راستے میں ایک درخت آیا جس کی ایک شاخ جھکی ہوئی تھی اور اس کے اوپر زرد پتے تھے۔ حضرت ابو ذر غفاری آگے بڑھے اور اس شاخ کو پکڑ کے جھٹکا دیا۔ پتوں کا سارا گہنا جو تھا وہ اتر گیا اور شاخ عریاں ہوگئی۔ حضرت عثمان اس منظر کو دیکھتے رہے ؛ بعد میں حضرت ابو ذر غفاری پوچھنے لگے اے عثمان! تُو نے مجھے پوچھا نہیں کی مَیں نے اس شاخ کو یہ جنبش کیوں دی؟ حضرت عثمان نے کہا اچھا آپ بتادیں آپ نے کیوں جنبش دی؟کہا ایک دن مَیں حضور کے ساتھ جارہا تھا۔ ایسے ہی ایک درخت آیا شاخ اس کی لٹک رہی تھی ، جس پر پتوں کا گہنا تھا،لیکن پتے زرد تھے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور شاخ کو جنبش دی تو وہ شاخ بالکل اسی طرح عریاں ہوگئی۔ پھر مجھے کہنے لگے اے ابوذر! تُو نے پوچھا نہیں کہ مَیں نے شاخ کو جنبش کیوں دی ہے؟ مَیں نے عرض کی حضور آپ بتادیں کہ آپ نے جنبش کیوں دی ہے۔ کہا اے ابوذر! جس طرح مَیں نے شاخ کو جنبش دی اور کوئی پتا باقی نہ بچا۔ جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے؛ سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔

نماز معراج کا تحفہ ہے۔ عزم کریں کہ آج کے بعد نماز نہیں چھوڑیں گے۔ اتنی زور سے ان شاء اللہ کہیں کہ شیطان کا کلیجہ پھٹ جائے۔ یہ ہوئی ایک بات ؛ کہ میرا اورآپ کا عزم کہ آج کے بعد ایک بھی نماز نہیں چھوڑیں گے۔ … دوسری بات ؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن محبوبِ خدا کا دریائے رحمت جوش میں آگیا۔ فرمایا عائشہ! جو مانگنا ہے مانگ لو۔ ع

ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ

عرض کی حضور ! اگر اجازت ہو تو مَیں اپنے باپ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ ) سے مشورہ نہ کرلو! کہا جاؤ کرلو۔ فُل طغیانی میں تھا نا دریا؛ کہا جاؤ پوچھ لو۔ گئیں حضرت صدیق اکبر کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں۔ کہا کہ آج حضور کا دریا جوش میں ہے، آقا کریم نے فرمایا عائشہ جو مانگنا ہے مانگ لو ؛ مجھے بتایا جائے کہ مَیں حضور سے کیا مانگوں؟ حضرت ابوبکر نے کہا کہ حضور سے عرض کرنا کہ معراج کی قربتِ خاص میں اللہ نے آپ سے خاص راز کی باتیں کی تھیں ؛ ان میں سے ایک بات بتادیں۔ یہی میری ڈیمانڈ ہے یہی میری چاہت ہے۔ اور سنو! حضور جب بتائیں گے نا تو مجھے بھی بتانا کہ حضور نے کیا کہا… اللہ اکبر!… مانگا تو علم مانگا … امام ہندی نے کنزالعمال میں لکھا ہے : اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو تین چیزوں میں اختیار دیا؛ یا دولت لے لو، یا حکومت لے لو، یا علم لے لو۔ کوئی ان میں سے ایک لے لو۔ انہوں نے کہا اے اللہ مجھے علم دے دے۔ اللہ نے کہا جا اس کے صدقے باقی دو بھی عطا فرمادیے۔

تو حضرت عائشہ صدیقہ حاضر ہوئیں۔ حضور نے فرمایا مشورہ ہوگیا؟ کہا ہاں ہوگیا۔ کہاپھر مانگو کیا مانگنا ہے۔ کہا معراج کی قربتِ خاص میں رب نے آپ سے جو خاص باتیں کی تھیں ؛ ان باتوں میں سے ایک بات بتادیں۔ حضور مسکرانے لگے۔ شاید اس بات پہ مسکرائے ہوں گے کہ میرے یارِ غار کا انتخاب کیسا ہے۔ اور وجہِ مسکراہٹ یہ بھی ہوگی کہ اگر راز کی بات بتادوں تو پھر راز راز تو نہ رہا؛ لیکن وعدہ کیا ہوا تھا۔ کہا عائشہ سنو! جب مَیں قربتِ خاص میں پہنچا تو میرے رب نے کہا کہ اے محبوب ! تیری امت میں سے اگر کوئی شخص کسی شخص کا ٹوٹا ہوا دل جوڑ دے گا تو میرے اوپر لازم ہے بغیر حساب کے اسے جنت عطا فرمادوں گا۔(اللہ تعالیٰ پر ویسے کوئی شئے واجب نہیں؛ وہ خود واجب کر لے تو اس کی مرضی ہے۔ ) کسی کا قرض اتاردیا، کسی کی مصیبت میں کام آ گئے، بعض اوقات کسی کا دُکھڑا بیٹھ کے سن لیں نا تو اس کے دل کی ڈھارس بند جاتی ہے۔ کہا یہ تو بخشش کا بہانا ہاتھ آگیا۔ اپنے والد گرامی کو سنانے کے لیے دوڑی دوڑی آئیں۔ حضور نے یہ بتایا ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے سنا اور زار و قطار رونے لگے۔ کہا ابا جی ! یہ تو خوش ہونے والی بات ہے اور آپ رو رہے ہیں؟ یہ تو بخشش کا بہانا ہاتھ آگیاہے۔ کہا عائشہ ! اسے معکوس پڑھو! تصویر کا دوسرا رخ بھی تو دیکھو! اگر کوئی کسی کا ٹوٹا ہوا دل جوڑ دے تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ اور اگر کوئی کسی کا دل توڑ بیٹھے توسیدھا جہنم میں جائے گا۔ اس لیے مَیں ڈرتا ہوں کہ کسی کا دل نہ ٹوٹ جائے۔

تو یہ دوچیزیں اس درس میں یاد کرلیں؛ایک توآج کے بعد نماز نہیں چھوڑیں گے اور دوسرا آج کے بعد کسی کا دل نہیں توڑیں گے۔ اگر ان دو چیزوں پہ مَیں اور آپ عمل کرلیتے ہیں تو ہمارے لیے فائدہ بخش ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو اپنی رحمتوں کے حصار اور پناہوں میں رکھے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!