أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلاً طَيِّبًا ۖ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞

ترجمہ:

پس تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا ہے اس میں سے کھاؤ وہ حلال اور طیب ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا ہے اس میں سے کھاؤ وہ حلال اور طیب ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

پانچوں کا کعین (ٹخنوں) سے نیچا ہونا جسے عربی میں اسبال کہتے ہیں اگر براہ عجب وتکبر ہے تو قطعاً ممنوع و حرام ہے اور اس پر وعید شدید وارد۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تکبر کی وجہ سے اپنی چادر کو لٹکایا قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ امام ابودائود، امام بن ماجہ، امام نسائی اور امام ترمذی نے بھی الفاظ متقاربہ کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے اور اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکم ظاہر احادیث مردوں کو بھی جائز ہے جیسے کہ تکبر کی قید سے تم کو خود معلوم ہوگا حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ازار ایک جانب سے لٹک جاتی ہے فرمایا تو ان میں سے نہیں ہے جو ایسا براہ تکبر کرتا ہو احادیث میں جو اس پر وعید ہے اس سے یہی صورت مراد ہے کہ بہ تکبر اسبال کرتا ہو ورنہ ہرگز یہ ووعید شدید اس پروارد نہیں مگر علماء در صورت عدم تکبر حکم کراہت تنزیہی دیتے ہیں۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے اگر اسبال تکبر سے نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح غرائب میں ہے۔

بالجملہ اسبال اگر براہ عجب وتکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولیٰ نہ حرام و مستحق وعید اور یہ بھی اس صورت میں ہے کہ پائنچہ جانب پاشنہ نیچے ہوں اور اگر اس طرف کعین سے بلند ہیں گوپنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہرگز کچھ مضائقہ نہیں اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس (رض) بلکہ خود حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔ امام ابودائود نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ عکرمہ نے دیکھا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے چادر باندھی اور اگلی جانب سے چادر ان کے قدم کی پشت پر تھی اور چادر کی پچھلی جانب اوپر اٹھی ہوئی تھی میں نے پوچھا آپ نے اس طرح چادر کیوں باندھی ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح چادر باندھے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٠٩٦) اس حدیث کے تمام راوی ثقہ اور عدول ہیں جن سے امام بخاری روایت کرتے ہیں۔ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعتہ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں اس جگہ سے معلوم ہوا کہ اسبال کی نفی میں ایک جانب سے اونچا کرنا کافی ہے۔ عالمگیری میں ہے کہ ہاں اس میں شبہ نہیں کہ نصف ساق تک پانچوں کا ہونا بہتر و عزیمت ہے اکثر ازار پر انوار سید الابرار یہیں تک ہوتی تھی۔

(فتاوٰی رضویہ ج ١٠ ص ١٢٥ ایضاً ص ١١٠، ٢٩٥ مطبوعہ ادارہ تصنیفات امام احمد رضا کراچی ١٩٨٨ ئ)

تکبر کے بغیر ٹخنوں سے نیچے لباس رکھنے کے جواز پر شافعی مالکی اور حنبلی فقہاء کی تصریحات :

علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیی الشافعی المتوفی ٧٤٢ ھ لکھتے ہیں :

امام شافعی نے یہ تصریح کی ہے کہ کپڑا لٹکانے کی تحریم تکبر کے ساتھ خاص ہے۔ ظواہر احادیث کا یہی تقاضا ہے اور اگر بغیر تکبر کے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکائے تو پھر یہ مکروہ تنزیہی ہے۔

(شرح الطیسی ج ٨ ص ٢٠٨ مطبوعہ ادارہ القرآن کراچی ١٢١٣ ھ)

علامہ نووی شافعی اور علامہ کرمانی شافعی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔

(شرح مسلم ج ٢ ص ١١٥ مطبوعہ کراچی شرح کرمانی للبخاری ج ٢١ ص ٥٣ مطبوعہ بیروت)

حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

(موطا امام مالک کی) یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے بغیر تکبر کے اپنے تہبند کو گھسیٹا (یعنی تہبند اتنا دراز تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا) اور نہ اس میں کوئی اکڑ تھی تو اس کو وعید مذکور لاحق نہیں ہوگی۔ البتہ تہبند قمیص اور باقی کپڑوں کو گھسیٹتے ہوئے چلنا ہرحال میں مذموم ہے اور جو تکبر سے کپڑا گھسیٹے اس کو یہ وعید بہرحال لاحق ہوگی۔

(التمید ج ٣ ص ٢٤٤ مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ لاہور فتح المالک بتبویب التمید لابن عبدالبرج ٩ ص ٣٨٦ مطبوعہ دارالکتب العلیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

نیز حافظ ابن عبدالبر مالکی الاستذکار میں تحریر فرماتے ہیں :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص نے اپنے تہبند یا کپڑے کو تکبر یا اکڑ سے نہیں گھسیٹا تو اس کو یہ وعید مذکور لاحق نہیں ہوگی اور خیلاء اور بطر کا معنی ہے تکبر کرنا اکڑ کر چلنا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

(الاستذکا رج ٢٦ ص ١٨٧ : ١٨٦ مطبوعہ موسسہ الرسالہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 69