أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ برحق مومن ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت والی روزی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ برحق مومن ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت والی روزی ہے “

مہاجرین اور انصار کی تعریف و توصیف 

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں تکرار ہے کیونکہ آیت 72 میں بھی یہی مضمون بیان فرمایا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت 72 سے مقصود یہ تھا کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان ولایت کو بیان کیا جائے اور اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ مہاجرین اور انصار کی تعریف و توصیف کی جائے کیونکہ ان کا ایمان کامل ہے اور یہ برحق مومن ہیں۔ مہاجرین اولین نے ایمان کے تقاضوں پر عمل کیا، انہوں نے اسلام کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا، عزیز و اقارب کو چھوڑا، مال و دولت اور مکانوں اور باغات کو چھوڑا۔ اسی طرح انصار نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کے لیے اپنے دیدہ و دل کو فرش راہ کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 74