أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡهُ تَكُنۡ فِتۡنَةٌ فِى الۡاَرۡضِ وَفَسَادٌ كَبِيۡرٌؕ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان میں سے بعض، بعض کے ولی ہیں، اگر تم ان احکام پر عمل نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان میں سے بعض، بعض کے ولی ہیں، اگر تم ان احکام پر عمل نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا “

دو مختلف ملتوں کے ماننے والوں کے مابین دوستی اور وراثت جائز نہیں 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے درمیان ولایت (نصرت اور وراثت) کو منقطع کردیا ہے۔ اور مومنوں کو مومنوں کا ولی بنایا اور کافروں کو کافروں کا ولی بنایا۔ کفار اپنے دین اور معتقدات کے اعتبار سے ایک دوسرے کی نصرت کرتے ہیں اگر کسی کافر عورت کا مسلمان بھائی ہو تو وہ اس کا ولی نہیں ہے اور وہ اس کا نکاح نہیں کرسکتا، کیونکہ ان کے درمیان ولایت نہیں۔ اس کا نکاح اس کا ہم مذہب ولی کرے گا۔ جس طرح مسلمان عورت کا نکاح صرف مسلمان ولی ہی کرسکتا ہے، اگر اس کا باپ یا دادا کافر ہو تو وہ اس کا نکاح نہیں کرسکتا اسی طرح کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ حضرت سامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہ مسلمان کافر کا وارث ہوگا اور نہ کافر کا مسلمان کا وارث ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4282، 4283 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 2909 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2114 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2729)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔ (سنن ابو داود رقم الھدیث : 2901، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1414 ھ)

حضرت ابوحاتم مزنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس ایسے رشتہ کا پیغام آئے جس کے دین اور خلق پر تم راضی ہو تو اس کے ساتھ نکاح کردو، اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں بہت فتنہ اور فساد ہوگا، (سنن الترمذی رقم الحدیث : 1086، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1967)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال  آیت نمبر 73