أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور اس نے مسلمانوں کے درمیان الفت پیدا کی، اگر آپ تمام روئے زمین کی چیزوں کو بھی خرچ کردیتے تو (از خود) ان کے درمیان الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا کی، بیشک وہ بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے مسلمانوں کے درمیان الفت پیدا کی، اگر آپ تمام روئے زمین کی چیزوں کو بھی خرچ کردیتے تو (از خود) ان کے درمیان الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت پیدا کی، بیشک وہ بہت غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے 

ابوبکر بن عبداللہ المزلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے جانے بعد سامری حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے پاس آکر کہنے لگا ہم نے قطبیوں کی عید کے دن ان سے بہت سے زیورات عاریتہ لیے تھے اور جو لوگ آپ کے پاس ہیں وہ جلدی جلدی ان زیورات کو بیچ کر خرچ کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ فرعون کی قوم سے عاریتہ لیتے تھے اور اب وہ زندہ نہیں ہیں کہ ہم ان کو وہ زیورات واپس کردیں اور ہم کو پتا نہیں کہ آپ کے بھائی اللہ کے نبی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جب آئیں گے تو ان کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہوگی یا تو وہ اس کی قربانی پیش کریں گے پھر آگ اس کو کھاجائے گی اور یا ان کو صرف فقراء کے لیے وقف کردیں گے۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : تم نے ٹھیک سوچا اور ٹھیک کہا۔ پھر آپ نے ایک منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جس شخص کے پاس آل فرعون کے جتنے بھی زیورات ہیں وہ ہمارے پاس لے آئے۔ وہ ان کے پاس تمام زیورات لے آئے حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : اے سامری ! تم اس خزانے کو رکھنے کے زیادہ حق دار ہو۔ سامری نے ان زیورات پر قبضہ کرلیا اور وہ خبیث دشمن خدا سونے کو ڈھالنے والا تھا اس نے اس سے ایک بچھڑے کا مجسمہ بنا لیا اس نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے گھوڑے کے نشان سے ایک مٹھی بھر مٹی لی تھی اس نے اس بچھڑے کے کھوکھلے پیٹ میں مٹی ڈال دی تب وہ مجسمہ بچھڑے کی سی آواز نکالنے لگا۔ اس نے صرف ایک بار یہ آواز نکالی تھی۔ سامری نے کہا تیس راتوں کے بعد جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نہیں آئے تو وہ دراصل اسی کو ڈھوڈ رہے تھے۔ قرآن پاک میں ہے :

فاخرج لھم عجلا جسدا لہ خوار فقالوا ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی۔(طہ : ٨٨)

سامری نے ان کے لیے بچھڑے کا بےجان مجسمہ بنا کر نکالا لوگوں نے کہا : یہ ہے تمہارا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا معبود موسیٰ ( علیہ السلام) تو بھول گئے۔

سامری یہ کہتا تھا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تو بھول گئے تمہارا اصل خدا تو یہ ہے۔

(جامع البیان جز ٩ ص ٦٦۔ ٦٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

سامری کے متعلق علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

سامری کا نام موسیٰ ( علیہ السلام) بن ظفر تھا وہ سامرہ نامی ایک بستی کی طرف منسوب تھا۔ جس سال بنو اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کیا گیا تھا وہ اسی سال پیدا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے اس کو پہاڑ کی ایک غار میں چھپا دیا تھا۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) اس کا غذا پہنچاتے رہے تھے اس وجہ سے وہ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) کو پہچانتا تھا جب حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) سمندر کو عبور کرنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر جارہے تھے تاکہ فرعون بھی سمندر میں آجائے تو سامری نے گھوڑے کے پائوں کے نیچے سے کچھ مٹی اٹھا لی تھی۔ قرآن پاک کی حسب ذیل آیت کا یہی معنی ہے :

قال فما خطبک یسامری۔ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذلک سولت لی نفسی۔ (طہ : ٩٦۔ ٩٥)

(موسیٰ ( علیہ السلام) نے سامری) سے) کہا : اے سامری تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے رسول (جبرائیل ( علیہ السلام) کی سواری) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر میں نے اس کو (بچھڑے کے پتلے میں) ڈال دیا اور میرے دل میں اسی طرح آیا تھا۔

(الجامع لاحکام القرآن جزیر ص ٢٥٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 63