أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ‌ؕ هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں تو بیشک اللہ آپ کو کافی ہے وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی تائید فرمائی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں تو بیشک اللہ آپ کو کافی ہے وہی ہے جس نے اپنی مدد اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی تائید فرمائی 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ابی حاتم رازی متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں :ـ

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کو خطبہ دیا اور فرمایا : تم جب مصر سے روانہ ہوئے تو تمہارے پاس قوم فرعون کی امانتیں تھیں اور عاریتہ لی ہوئی چیزیں تھیں اور میرا خیال ہے وہ چیزیں تمہارے پاس ہیں اور میں ان امانتوں کو اور مانگی ہوئی چیزوں کو تمہارے لیے حلال نہیں قرار دیتا۔ اب ہم وہ چیزیں ان کو واپس تو نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم ان چیزوں کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ پھر حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے ایک گڑھا کھودنے کا حکم دیا اور قوم کو حکم دیا کہ جس شخص کے پاس بھی ان امانتوں اور مانگی ہوئی چیزوں میں سے جو کچھ بھی ہے وہ اس میں لا کر ڈال دے۔ جب لوگوں نے سب کچھ ڈال دیا تو حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے اس میں آگ لگا دی اور فرمایا یہ چیزیں ان کے لیے رہیں نہ ہمارے لیے ہوں گی۔ اور سامری کا اس قوم سے تعلق تھا جو بیل کی عبادت کرتی تھی۔ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا ان کا پڑوسی تھا۔ اس نے بھی وہی مصائب اٹھائے تھے جو بنو اسرائیل نے اٹھائے تھے۔ اس کے لیے یہ مقدر کردیا گیا تھا کہ اس نے حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) کی سواری کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا اور اس سے ایک مٹھی خاک کی اٹھالی تھی۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے اس سے پوچھا کہ تیری مٹھی میں کیا ہے اس نے کہا : میں اس وقت تک نہیں بتائوں گا جب تک کہ آپ یہ دعا نہ کریں کہ جب میں اس مٹھی کو ڈالوں تو جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ بن جائے۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے فرمایا : تم اس کو گرا دینا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس نے کہا میں بیل بنانا چاہتا ہوں اس نے اس گڑھے میں سے تمام لوہے پیتل اور زیورات وغیرہ کو نکالا تو وہ ایک کھوکھلا بیل بن گیا اور اس سے بیل کی سی آواز آرہی تھی۔

قتادہ نے کہا : جب سامری نے بچھڑا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت اور خون کا بنادیا اور اس سے آواز آرہی تھی۔

سعید بن جیر نے کہا : بہ خدا وہ بچھڑا از خود آواز نہیں نکالتا تھا لیکن اس کی دبر (مقعد، مبرز) سے ہوا اس کے اندر داخل ہوتی تھی اور اس کے منہ سے نکل جاتی تھی اور اس ہوا کے گزرنے سے وہ آواز پیدا ہوتی تھی۔

سعید بن جیر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کرتے ہیں کہ جب وہ آواز نکالتا تو بنو اسرائیل سجدہ میں گرجاتے اور جب وہ خاموش ہوتا تو وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھا لیتے تھے۔

ضحاک سے روایت ہے کہ اس نے صرف ایک بارآواز نکالی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ان سے بات کرتا تھا نہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا (لیکن یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ بار بار بیل کی سی آواز نکالنا اس کے بات کرنے یا کسی بات کے جواب دینے کے ہم معنی نہیں ہے) ۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥ ص ١٥٦٩۔ ١٥٦٧، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 62