أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

ترجمہ:

اے نبی ! آپ کو اللہ کافی ہے اور آپ کی اتباع کرنے والے مومنین کو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نبی ! آپ کو اللہ کافی ہے اور آپ کی اتباع کرنے والے مومنین کو 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا تھا جو ناحق تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کے اسی تکبر اور تکذیب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اپنی آیات سے پھیردیا اب وہ تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے وہ نیکی کا راستہ دیکھنے کے باوجود اختیار نہیں کریں گے۔ اور اگر وہ برائی کا راستہ دیکھیں تو فوراً اس کی طرف لپک پڑیں گے اس مقام پر ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہتا کہ ان میں سے بعض کافروں نے کچھ نیک عمل بھی تو کیے تھے مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ماں باپ کی خدمت کمزوروں کی مدد ناداروں یتیموں اور بیوائوں کی کفالت رفاہ عامہ کے کام مثلاً کنوئیں کھدوانا سرائے بنانا سڑکیں بنانا آیا ان کو ان نیک کاموں کی کوئی جزا ملے گی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : چونکہ انہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا اس لیے ان کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اعمال صالحہ کے قبولیت کی شرط ایمان ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

من عمل صالحا من ذکر اوانثی اھو ومن فلنجینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون۔ (النحل : ٩٧)

مرد ہو یا عورت جس نے بھی نیک عمل کیا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے اور ہم ضرور ان کو ان کے کیے ہوئے نیک کاموں کا اجر عطا فرمائیں گے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم کافروں کے تمام اعمال کو ضائع فرما دیں گے۔

وقد منا الی ماعملوامن عمل فجعلنہ ھباء منثورا۔ (الفرقان : ٢٣ )

کفار ہمارے پاس جو بھی اعمال لے کر آئیں گے ہم ان کو (فضا میں) بکھرے ہوئے غبار کے ذرے بنادیں گے۔

من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ۔ (المائدہ : ٥)

جس نے ایمان لانے سے انکار کیا اس کا عمل ضائع ہوگیا ۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کفار کی نیکیوں کی وجہ سے آخرت میں ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

فلا یخفف عنھم العذاب ولاھم ینصرون۔(البقرہ : ٨٦)

کفار کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ عمل اس کو نفع دے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عمل اس کو نفع نہیں دے گا اس نے ایک دن بھی نہیں کہا : اے میرے رب میری خطائوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔(صحیح مسلم الایمان : ٣٦٥، (٢١٤) ٥٠٧)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال یت نمبر 64