وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ﰳابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْۚ- یُضَاهِــٴُـوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُؕ-قٰتَلَهُمُ اللّٰهُۚ-اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(۳۰)

اور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (ف۶۵) اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں (ف۶۶) اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۶۷)

(ف65)

اہلِ کتاب کی بے دینی کا جو اوپر ذکر فرمایا گیا یہ اس کی تفصیل ہے کہ وہ اللہ کی جناب میں ایسے فاسد اعتقاد رکھتے ہیں اور مخلوق کو اللہ کا بیٹا بنا کر پوجتے ہیں ۔

شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہود کی ایک جماعت آئی ، وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم آپ کا کس طرح اِتّباع کریں آپ نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا اور آپ حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف66)

جن پر نہ کوئی دلیل نہ برہان اور پھر اپنی جہل سے اس باطلِ صریح کے معتقِد بھی ہیں ۔

(ف67)

اور اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر حُجّتیں قائم ہونے اور دلیلیں واضح ہونے کے باوجود اس کُفر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَۚ-وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًاۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۳۱)

انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا (ف۶۸) اور مسیح ابن مریم کو (ف۶۹) اور انہیں حکم نہ تھا (ف۷۰) مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے ان کے شرک سے

(ف68)

حکمِ الٰہی کو چھوڑ کر ان کے حکم کے پابند ہوئے ۔

(ف69)

کہ انہیں بھی خدا بنایا اور ان کے نسبت یہ اعتقادِ باطل کیا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں یا خدا نے ان میں حلول کیا ہے ۔

(ف70)

ان کی کتابوں میں نہ ان کے انبیاء کی طرف سے ۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۳۲)

چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۷۱) اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا (ف۷۲) پڑے(اگرچہ)برا مانیں کافر

(ف71)

دینِ اسلام یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کے دلائل ۔

(ف72)

اور اپنے دین کو غلبہ دینا ۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ-وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ(۳۳)

وہی ہے جس نے اپنا رسول (ف۷۳) ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۴) پڑے برا مانیں مشرک

(ف73)

محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(ف74)

اور اس کی حُجّت قوی کرے اور دوسرے دینوں کو اس سے منسوخ کرے چنانچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نُزول کے وقت ظاہر ہوگاجب کہ کوئی دین والا ایسا نہ ہوگا جو اسلام میں داخل نہ ہو جائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کے سوا ہر ملت ہلاک ہوجائے گی ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴)

اے ایمان والو بےشک بہت پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں (ف۷۵) اور اللہ کی راہ سے (ف۷۶) روکتے ہیں اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (ف۷۷) انہیں خوش خبری سناؤ دردناک عذاب کی

(ف75)

اس طرح کہ دین کے احکام بدل کر لوگوں سے رشوتیں لیتے ہیں اور اپنی کتابوں میں طمعِ زر کے لئے تحریف و تبدیل کرتے ہیں اور کُتُبِ سابقہ کی جن آیات میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت مذکور ہے ، مال حاصل کرنے کے لئے ان میں فاسد تاویلیں اور تحریفیں کرتے ہیں ۔

(ف76)

اسلام سے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے ۔

(ف77)

بُخل کرتے ہیں اور مال کے حقوق ادا نہیں کرتے زکوۃ نہیں دیتے ۔

شانِ نُزول : سدی کا قول ہے کہ یہ آیت مانعینِ زکٰوۃ کے حق میں نازِل ہوئی جب کہ اللہ تعالٰی نے اَحبار اور رُہبان کی حرصِ مال کا ذکر فرمایا تو مسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے حذر دلایا ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس مال کی زکٰوۃ دی گئی وہ کنز نہیں خواہ دفینہ ہی ہو اور جس کی زکٰوۃ نہ دی گئی وہ کنز ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا کہ اس کے مالک کو اس سے داغ دیا جائے گا ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصحاب نے عرض کیا کہ سونے چاندی کا تو یہ حال معلوم ہوا پھر کون سا مال بہتر ہے جس کو جمع کیا جائے ۔ فرمایا ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بی بی جو ایماندار کی اس کے ایمان پر مدد کرے یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے(رواہ الترمذی)

مسئلہ : مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جب کہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت طلحٰہ وغیرہ اصحاب مالدار تھے اور جو اصحاب کہ جمعِ مال سے نفرت رکھتے تھے وہ ان پر اعتراض نہ کرتے تھے ۔

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵)

جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں (ف۷۸) پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں (ف۷۹) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزااس جوڑنے کا

(ف78)

اور شدّتِ حرارت سے سفید ہو جائے گا ۔

(ف79)

جسم کے تمام اطراف و جوانب اور کہا جائے گا ۔

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ﳔ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۳۶)

بےشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں (ف۸۰) اللہ کی کتاب میں (ف۸۱) جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں (ف۸۲) یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں (ف۸۳) اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۸۴)

(ف80)

یہاں یہ بیان فرمایاگیا کہ احکامِ شرع کی بنا قمری مہینوں پر ہے جن کا حساب چاند سے ہے ۔

(ف81)

یہاں اللہ کی کتاب سے یا لوحِ محفوظ مراد ہے یا قرآن یا وہ حکم جو اس نے اپنے بندوں پر لازم کیا ۔

(ف82)

تین متّصِل ذوالقعدہ و ذوالحِجّہ ، محرّم اور ایک جدا رَجَب ۔ عرب لوگ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کی تعظیم کرتے تھے اور ان میں قتال حرام جانتے تھے ۔ اسلام میں ان مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ کی گئی ۔

(ف83)

گناہ و نافرمانی سے ۔

(ف84)

ان کی نصرت و مدد فرمائے گا ۔

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِــٴُـوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُؕ-زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠(۳۷)

ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا (ف۸۵) اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے (ف۸۶)حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی (ف۸۷) اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا

(ف85)

نَسِی لغت میں وقت کے مؤخر کرنے کو کہتے ہیں اور یہاں شہرِ حرام کی حرمت کا دوسرے مہینے کی طرف ہٹا دینا مراد ہے ۔ زمانۂ جاہلیت میں عرب اَشہُرِ حُرُم (یعنی ذوالقعدہ و ذی الحِجّہ ، محرّم ، رَجَب) کی حرمت و عظمت کے معتقِد تھے تو جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ حرمت والے مہینے آجاتے تو ان کو بہت شاق گزرتے اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حرمت دوسرے کی طرف ہٹانے لگے ، محرّم کی حرمت صَفَر کی طرف ہٹا کر محرّم میں جنگ جاری رکھتے اور بجائے اس کے صَفَر کو ماہِ حرام بنا لیتے اور جب اس سے بھی تحریم ہٹانے کی حاجت سمجھتے تو اس میں بھی جنگ حلال کر لیتے اور ربیع الاوّل کو ماہِ حرام قرا ر دیتے ۔ اس طرح تحریم سال کے تمام مہینوں میں گھومتی اور ان کے اس طرزِ عمل سے ماہ ہائے حرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہی ، اس طرح حج کو مختلف مہینوں میں گھوماتے پھرتے تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حِجّۃُ الوَداع میں اعلان فرمایا کہ نَسِی کے مہینے گئے گزرے ہوئے اب مہینوں کے اوقات کی وضعِ الٰہی کے مطابق حفاظت کی جائے اور کوئی مہینہ اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جائے اور اس آیت میں نَسِی کو ممنوع قرار دیا گیا اور کُفر پر کُفر کی زیادتی بتایا گیا کیونکہ اس میں ماہ ہائے حرام میں تحریمِ قتال کو حلال جاننا اور خدا کے حرام کئے ہوئے کو حلال کر لینا پایا جاتا ہے ۔

(ف86)

یعنی ماہِ حرام کو یا اس ہٹانے کو ۔

(ف87)

یعنی ماہِ حرام چار ہی رہیں اس کی تو پابندی کرتے ہیں اور ان کی تخصیص توڑ کر حکمِ الٰہی کی مخالفت ، جو مہینہ حرام تھا اسے حلال کر لیا اس کی جگہ دوسرے کو حرام قرار دیا ۔