أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ ؕ اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے تھوڑی قیمت کے عوض اللہ کی آیتوں کو فروخت کردیا پھر اللہ کے راستہ سے روکا بیشک وہ بہت برے کام کرتے تھے

تفسیر:

التوبہ : ٩ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : انہوں نے تھوڑی قیمت کے عوض اللہ کی آیتوں کو فروخت کردیا، اگر اس سے مراد یہود ہوں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ تورات کی آیات کی عمداً غلط تشریح کرتے تھے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تورات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا صفات بیان کی ہیں تو وہ دجال کی صفات بیان کردیتے تاکہ ان کے عام لوگ ان کے دین سے برگشتہ نہ ہوں، لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ کلام کا سیاق وسباق یہود کے متعلق نہیں ہے بلکہ ان مشرکین کے متعلق ہے جنہوں نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین کے لیے یہ موقع حاصل تھا کہ وہ اللہ کی آیات پر ایمان لے آتے لیکن وہ دنیاوی مفاد کی خاطر اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہوں نے تھوڑی قیمت کے عوض اللہ کی آیات کو فروخت کردیا، نیز ان کے متعلق فرمایا : اور یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں، اس سے مراد ان کی دیگر برائیوں کے علاوہ عہد شکنی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 9