بعض دل بڑے سخت ہوتے ہیں، بعض دلوں پر قفل پڑا ہوتا ہے، بعض دلوں پر غلاف چڑھا ہوتا ہے، بعض دل زنگ آلود ہوتے ہیں، بعض دلوں پر حجاب ہوتا ہے، بعض دل شدید سیاہ ہوتے ہیں۔ وغیرہ۔ دلوں کے یہ اقسام شئی واحد میں متفق ہوتے ہیں اور کثیر صفات میں ایک دوسرے سے مختلف۔ یہ تمام انواع اللہ رب العزت سے غفلت برتنے میں مشترک ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: ’’نسوا اللہ فنسیھم‘‘۔

یہ ساری صفتیں اللہ ر ب العزت سے غافل کرتی ہیں، ساتھ ہی انسان کو دنیاوی زندگی اور اس کے کثیر جہات ومختلف مجالات پر مشتمل جزئیات میں بھٹکادیتی ہیں، جو نحوست وبے مائیگی اور ہمہ تن مصروفیات سے پُر ہیں۔

جب تک تمھارا دل ذکر خداوندی سے غافل اور اللہ جل شانہ تمھارے دل سےغائب ہوگا،تب تک تم لازمی طور مذکورہ صفات سے متصف رہوگے۔

’’قست قلوبکم‘‘ یعنی تمھارا دل اب اس قابل نہیں رہا کہ اس میں ذکر الٰہی مؤثر ہو اور آدمی اس فطرت کا حامل ہوجائے جسے اللہ تعالی نے لوگوں کے لیے منتخب فرمایا ہے۔

’’وذکر فإن الذکری تنفع المؤمنین‘‘۔ اللہ کی جانب تیزی سے بڑھو، کیوں کہ جب انسان کی تذکیر ہوتی ہے تو وہ نصیحت لیتا ہے اور جب تم اسے اللہ رب العزت کی یاد دلاؤگے تو وہ اللہ کی رضا کا طلب گار ہوگا اور اس کے عذاب سےخائف رہے گا۔

لیکن بعض دل ایسے بھی ہیں جن پر تذکیر الٰہی کا کوئی اثر نہیں ہوتا، گویا کہ ان کے کان بھاری ہیں۔ اور جنھیں کبھی ایمان کی نعمت ہی میسر نہ ہوئی ان کے کانوں میں ہمیشہ بھاری پن ہوتا ہے۔

اللہ رب العزت فرماتا ہے: ’’ثم قست قلوبکم‘‘۔ یعنی ذکر الٰہی اسے کوئی نفع نہیں بخش سکتا۔

’’من بعد ذالک فھی کالحجارۃ‘‘۔ کاف تشبیہ وتمثیل کے لیے ہے۔ پتھر کی شان پختگی اور سختی کی ہے۔ نیز اس کی شان یہ بھی ہے کہ وہ کسی محرک کے بغیر کبھی حرکت نہ کرے۔ پتھر سخت ہوتے ہیں، ان میں ملائمت نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی کو لگ جائیں تو اس کے لیے تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم پر پانی برس پڑے تو ہمیں کوئی اذیت نہیں ہوتی.

’’فھی کالحجارۃ أو أشد قسوۃ وإن من الحجارۃ‘‘ گویادلوں کی قساوت کی تشبیہ پتھروں سے دینا پتھروں پر ظلم کرنا ہے؛ اس لیے کہ بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب ہم ان میں کیل داخل کرتے ہیں تو وہ داخل ہوجاتے ہیں اور پتھر کیل کے دخول سے انکاری نہیں ہوتا۔ اور اگر پتھر کو توڑ دیں تو وہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ لیکن بعض دل کبھی نرم نہیں ہوتے اور نہ کبھی ان میں ملائمت پیدا ہوپاتی ہے۔

جن لوگوں کا دل پتھر کی طرح سخت ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ رب العزت ان سے چشمے جاری فرمادے؟ اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ یہ یقینا ممکن ہے۔ وہ شخص جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہے، اللہ رب العزت اپنے فضل واحسان سے جب اسے ہدایت نصیب فرمادے تو اس سے خیر کے چشمے جاری ہوجائیں گے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم کسی بھی شخص کی تحقیر ہر گز نہ کریں اور نہ ہی کسی گنہ گار کو بہ نظرِ حقارت دیکھیں، ہم محض اس کے فعل کو ناپسند کریں۔ قتل ہمارے نزدیک قبیح عمل ہے، سرقہ ایک شنیع فعل ہے، کذب اور جھوٹی گواہی ہم ناپسند کرتے ہیں، بغض وکینہ اور حسد سے ہمیں نفرت ہے۔ میں برے فعل کو ضرور ناپسند کروں گا، لیکن انسان سے نفرت نہیں کروں گا، گرچہ وہ برے افعال انجام دے۔ اس پر نکیر وارد کروں گا، اس کے فعل کا انکار کروں گا، اگر ممکن ہوگا تو اس پر عقاب بھی کروں گا، اسے شدید عتاب سے بھی گزاروں گا، لیکن اس کی ذات سے نفرت نہیں کروں گا؛ کیوں کہ جب اس کی ذات سے مجھے نفرت ہوجائے گی تو اس کے حق میں خیر کی دعا ہرگز نہ کرسکوںگا اور نہ ہی راہِ راست کی جانب اس کی رہنمائی کرسکوں گا۔

ہم پر لازم ہے کہ ہم کسی ذات انسانی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں، لیکن اس کے کارہائے خراباں اور قلبی قساوت کی ضرور تحقیر کریں، ساتھ ہی اس کے حق میں دعائے خیر بھی کریں اور اس کے لیے سعادت مندی کی آرزو بھی رکھیں۔ کیوں کہ ہمارے نزدیک اس پتھر سے چشمے جاری ہونے کا امکان ہے۔ اسی بنا پر اس کے معاصی کے باوجود ہم برکت وخیر کے ابواب وَا رکھیں گے اوراس کے حق میں رحمتِ الٰہی سے ہرگز مایوس نہ ہوں گے۔

تحریر:

مفتی علی جمعہ دام ظلہ (سابق مفتیِ اعظم مصر)

ترجمہ نگار:

شاہد رضا نجمی

 

هناك قلوب قاسية, وهناك قلوب عليها أقفال, وهناك قلوب عليها غلف, وهناك قلوب عليها ران, وهناك قلوب عليها حجاب, وهناك قلوب مظلمة ووووو .. وهكذا, وكل نوع من هذه الأنواع يشترك في شيء واحد ويتعدد في صفات كثيرة, كل هذا يشترك في الغفلة عن الله { نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ } , كل هذه الصفات تغفل عن الله سبحانه وتعالى فتتوه في هذه الحياة الدنيا بجزئياتها, بتكاثر جهاتها وبمجالاتها المختلفة, بنكدها, بكدرها, بشواغلها ومشاغلها, فما دام قد غاب قلبك عن ذكر الله, وغاب الله عن قلبك فإنك ستتصف بصفة من هذه الصفات ولابد ،{ قَسَتْ قُلُوبُكُم } يعني أنها لم يعد يؤثر فيها الذكر الفطرة التي فطر الله الناس عليها أنه { وذَكِّرْ فَإنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ المُؤْمِنِينَ } سارع إلي الله فعندما تُذكر الإنسان يتذكر , وعندما تُذكره بالله يرجوا وجه الله أو يخاف من عذاب الله, ولكن هناك قلوب تُذكِّرها بالله فكأن في أذانها وقر, والذين لم يؤمنوا دائماً نجد عندهم في أذانهم وقر, يقول تعالى { ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم } يعني لا ينفع فيها الذكر { مِّنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ } والكاف للتشبيه والتمثيل, والحجارة شأنها الصلادة والصلابة, والحجارة شأنها أنها لا تتحرك إلا بمحرك, فالحجارة صلبة وليست لينة بحيث أنها إذا أصابت أحدنا فإنها تصيبه, لكن لو نزل علينا ماء لا يصبنا بشيء , { فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ } كأننا ظلمنا الحجارة بتشبيههم بها .. لماذا ؟ لان هناك بعض الحجارة إذا أدخلنا فيه مسمار يدخل ولا يأبى الحجر أن يستقبل المسمار, ولو كسَّرنا الحجر يتكسر ، ولكن البعض قلوبهم لا تلين, ولا تلين أبداً بصفة مستمرة.

هل الناس التي قلوبها كالحجارة ممكن ربنا يأذن إنه تفجر منه الأنهار ؟ الله يفعل ما يشاء .. طبعًا ممكن فحينئذ يستطيع هذا الذي كان قلبه كالحجارة وبإذن الله وعندما يمنُّ الله عليه ويهديه إنه تتفجر منه منابع الخير, وهذا يوصلنا إلى ؟ إلي أننا لا نحتقر أحداً من الناس ولا نحتقر عاصياً , وإنما نكره فعله, نحن لا نحب القتل, ولا نحب السرقة, ولا نحب الكذب وشهادة الزور, والحقد والحسد, فأنا أكره الفعل السيء, لكن لا أكره الإنسان حتي ولو فعل هذا الفعل, أنكر عليه وأنكر فعله ويمكن أعاقبه أيضًا وعقاب شديد, ولكن لا أكرهه فأنا إذا كرهته لن أستطيع أن أدعوه وأرشده إلي الخير. فيجب علينا ألا نحقر أحداً من البشر ولكن نحقر أفعالهم وقسوة قلوبهم, ولكن نتمنى لهم الخير ونتمنى لهم السعادة, ونقول إن هذا الحجر يمكن أن يتفجر منه الأنهار, فنفتح له مع هذا باب الرحمة وباب الخير وعدم اليأس من رحمة الله.

أ.د. #علي_جمعة