أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَسِيۡحُوۡا فِى الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّاعۡلَمُوۡۤا اَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِى اللّٰهِ‌ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخۡزِى الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

سو (اے مشرکو ! ) اب تم (صرف) چار ماہ (آزادی سے) چل پھر لو۔ اور یقین رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

تفسیر:

ان مشرکین کا مصداق جن کو چار ماہ کی مہلت دی گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : سو (اے مشرکو ! ) اب تم (صرف) چار ماہ (آزادی سے) چل پھر لو۔ (التوبہ : ١) اس میں مفسرین کے چار اقوال ہیں کہ اس آیت میں کن مشرکین کو چار ماہ کے لیے امان دی گئی ہے۔ امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : (١) حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور ضحاک نے یہ کہا ہے کہ جن مشرکین سے مسلمانوں نے چار ماہ کی مدت سے زیادہ معاہدہ کیا تھا ان کی مدت کم کرکے چار ماہ کردی گئی اور جن سے چار ماہ سے کم کا معاہدہ کیا تھا ان کے معاہدہ میں چار ماہ تک توسیع کردی گئی اور جن سے کوئی معاہدہ نہیں تھا ان کو محرم ختم ہونے تک پچاس راتوں کی مہلت دی گئی۔ (٢) مجاہد، زہری اور قرظی نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں چار ماہ کے لیے تمام مشرکین کو امان دی گئی خواہ ان کا عہد ہو یا نہ ہو۔ (٣) امام ابن اسحاق نے کہا اس آیت میں ان کے لیے امان ہے جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار ماہ سے کم مدت کے لیے امان دی تھی یا ان کی امان غیر محدود تھی اور جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امان نہیں دی تھی ان سے بدستور حالت جنگ ہے۔ (٤) ابن السائب نے کہا اس آیت میں ان لوگوں کو امان دی ہے جن کے لیے پہلے امان نہیں تھی یا ان سے کوئی معاہدہ نہیں تھا اور جن سے معاہدہ کیا گیا تھا ان کے لیے معاہدہ کی آخری مدت تک امان ہے، اس قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ حضرت علی (رض) نے اس دن اعلان کرتے ہوئے فرمایا : جن لوگوں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہے وہ اپنے معاہدہ کی مدت پوری کریں گے اور بعض روایات میں ہے ان کی مدت چار ماہ ہے۔ (زاد المسیرج ج ٣ ص ٣٩٤، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ) حافظ اسماعیل بن کثیر القرشی الشافعی المتوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا بہت اختلاف ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ کا مختار یہ ہے کہ اس آیت میں ان مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی ہے جن سے بغیر تعیین مدت کے معاہدہ کیا گیا تھا یا جن سے چار ماہ سے کم مدت کے لیے معاہدہ تھا تو وہ چار ماہ کی مدت کو پورا کریں، اور جن سے کسی خاص مدت تک کے لیے معاہدہ تھا تو وہ اپنی مدت پوری کریں خواہ وہ مدت جتنی بھی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ماسوا ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا، پھر انہوں نے اس معاہدہ کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان سے اس معاہدہ کی مدت معینہ تک پورا کرو۔ (التوبہ : ٤) اور جیسا کہ عنقریب حدیث میں آئے گا کہ جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہے تو وہ اس مدت کو پورا کرے۔ یہ قول تمام اقوال میں زیادہ عمدہ اور زیادہ قوی ہے، اور حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت اس طرح ہے : جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ کیا تھا ان کو اللہ تعالیٰ نے چار ماہ کی مہلت دی اور جن لوگوں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ نہیں تھا ان کو یوم النحر (قربانی کے دن) سے لے کر آخر محرم تک مہلت دی ہے اور محرم گزرنے کے بعد یا تو وہ اسلام قبول کرلیں ورنہ ان کو قتل کردیا جائے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣٥٧، مطبوعہ دار الاندلس بیروت، ١٣٨٥ ھ) امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں ان مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے جنہوں نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف وری کی تھی اور جن لوگوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی ان کی مدت پوری ہونے تک ان کو امان دینے کا حکم دیا ہے جیسا کہ التوبہ : ٤ سے ظاہر ہے اور یہی قول تمام اقوال میں راجح ہے۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ٨١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اہل مکہ کی طرف براءت کا علان کرنے کے لیے بھیجا تھا تو میں ان کے ساتھ تھا، ان کے بیٹے نے پوچھا آپ لوگ کیا اعلان کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہم یہ اعلان کرتے تھے کہ مومن کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور کوئی شخص بیت اللہ کا برہنہ طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاہدہ تھا اس کی انتہائی مدت چار ماہ ہے اور جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین سے بری الذمہ ہیں اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا پس میں یہ اعلان کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز کی تیزی ختم ہوگئی۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٩٥٨، مسند احمد ج ٣ رقم الحدیث : ٧٩٨٢، طبع جدید) زید بن یشیع بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے پوچھا آپ (رض) کو حج میں کس چیز کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا مجھے چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، بیت اللہ کا کوئی شخص برہنہ طواف نہیں کرے گا، جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو اس کو چار ماہ کی مہلت ہے اور سوائے مومن کے جنت میں کوئی شخص داخل نہیں ہوگا، اور اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک جمع نہیں ہوں گے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٣، مسند احمد ج ١ رقم الحدیث : ٥٩٤، طبع جدید، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٤٨، سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٩١٩، مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٤٥٢، سنن کبریٰ للیہقی ج ٩ ص ٢٠٧، مسند البزار رقم الحدیث : ٤٨٥، المستدرک ج ٤ ص ١٧٨) ہوسکتا ہے کہ یہ سوال کیا جائے کہ پہلی حدیث جو امام نسائی اور امام احمد سے مروی ہے اس میں مذکور ہے جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ تھا اس کی انتہائی مدت چار ماہ ہے اور دوسری حدیث جو امام ترمذی اور امام احمد سے مروی ہے اس میں مذکور ہے جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہو وہ اپنی مدت پوری کرے گا اور یہ تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث اس صورت پر محمول ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ حدیبیہ کیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی ان کو صرف چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے اور دوسری حدیث اس صورت پر محمول ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ کیا اور اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی وہ اپنے معاہدہ کی انتہائی مدت کو پورا کریں گے۔

چار ماہ کے تعین میں متعدد اقوال، جن چار ماہ کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی ان کے تعین میں بھی مختلف اقوال ہیں، امام عبدالرحمن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے حسب ذیل اقوال ذکر کیے ہیں : (١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ مہینے رجب، ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم ہیں۔ (٢) مجاہد، سدی اور قرظی نے کہا ان کی ابتداء یوم النحر (دس ذوالحجہ) سے ہے اور ان کی انتہا دس ربیع الثانی کو ہے۔ (٣) زہری نے کہا یہ مہینے شوال، ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، کیونکہ یہ آیت شوال میں نازل ہوئی تھی۔ ابو سلیمان الدمشقی نے کہا یہ سب سے ضعیف قول ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان میں اعلان کرنے کے لیے ذوالحجہ تک تاخیر نہ کی جاتی کیونکہ ان پر اس حکم کی پیروی اعلان کے بعد ہی لازم تھی۔ (٤) علامہ ماوردی نے کہا ہے اس مہلت کی ابتدا دس ذوالقعدہ سے ہوئی اور اس کی انتہا دس ربیع الاول کو ہوئی، کیونکہ اس سال حج اس دن ہوا تھا، پھر اس کے اگلے سال دس ذی الحج کو ہوا اور اسی سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج ادا کیا تھا، اور فرمایا تھا زمانہ گھوم کر اپنی اصل ہیئت پر آگیا ہے۔ (زاد المسیرج ٣ ص ٤٩٥۔ ٤٩٤، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ) امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : ان چار مہینوں کی ابتدا ١٠ ذوالقعدہ سے ہوئی اور ذوالحجہ، محرم، صفر اور دس دن ربیع الاول کے۔ اور اسی سال حضرت علی (رض) نے مکہ میں لوگوں کے ساتھ سورة التوبہ پڑھی تھی، پھر اس کے اگلے سال جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تھا، اس سال حج ذوالحجہ میں تھا اور یہ وہی وقت تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے حج مقرر فرمایا تھا، کیونکہ مشرکین مہینوں کو موخر کرتے رہتے تھے، اور جس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تھا اس سال حج لوٹ کر اپنے اصل وقت میں آگیا تھا جس وقت میں ابتدائً اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حج فرض کیا تھا اور ان کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج کے لیے ندا کریں :

واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا وعلی کل ضامریاتین من کل فج عمیق۔ (الحج : ٢٧ )

ترجمہ : (اے ابراہیم ( علیہ السلام) ! ) لوگوں میں بہ آواز بلند حج کا اعلان کیجئے وہ آپ کے پاس پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر آئیں گے جو ہر دور دراز سے پہنچیں گی۔

اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفان میں کھڑے ہو کر فرمایا : سنو زمانہ گھوم کر اپنی اصل ہیئت پر آچکا ہے جس ہیئت پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا تھا، پس ثابت ہوگیا کہ حج نو ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ وہ یوم عرفہ ہے اور دس ذوالحجہ یوم النحر ہے اور یہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ مشرکین کو جن چار مہینوں میں زمین پر آزادی سے چلنے پھرنے کی مہلت دی گئی ہے وہ یہی چار ماہ ہیں۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٧٧، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ) امام جصاص نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اس کا متن مع تخریج یہ ہے : حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ اپنی اصل ہیئت میں گھوم کر آچکا ہے جس ہیئت پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا، سال میں بارہ مہینے ہیں، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں تین مہینے مسلسل ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور قبیلہ مضر کار جب جو جمادیٰ اور شعبان کے درمیان ہے، (پھر آپ نے پوچھا :) یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مہینہ کے (معروف) نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شہر کے (معروف) نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن کے (معروف) نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا یہ یوم النحر (قربانی کا دن) نہیں ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اس طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی، اس مہینہ کی اور اس شہر میں حرمت ہے، اور عنقریب تم اپنے ربّ سے ملاقات کرو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، سنو ! تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا، کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑا دو ، سنو ! حاضر (یہ پیغام) غائب کو پہنچا دے، شاید بعض وہ لوگ جن کو یہ پیغام پہنچایا جائے وہ بعض سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں (امام بخاری جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ! سنو ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥، ٤٦٦٢، ٣١٩٧، صحیح مسلم، الحدود : ٢٩ (١٦٧٩) ٤٣٠٤، مسند احمد ج ٥ ص ٣٧، سنن ابودائود و رقم الحدیث : ١٩٤٧، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٥٨٥١ )

حضرت علی (رض) کا اعلانِ براءت کرنا حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت میں وجہ طعن نہیں ہے، چھٹی صدی کے شیعہ عالم ابو منصور احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے استحقاق خلافت میں حضرت ابوبکر (رض) کے مقابلہ میں حضرت ابوبکر (رض) کے سامنے اپنی وجوہ ترجیح بیان کیں اور ان میں فرمایا : میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ یہ بتائو کہ حج کے موسم میں مجمع عظیم کے سامنے سورة البراءۃ کا اعلان کرنے والا میں تھا یا تم تھے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا بلکہ تم تھے۔ (الاحتجاج ج ١ ص ١١٦، مطبوعہ مؤستہ الاعلمی للمطبوعات بیروت، ١٤٠٣ ھ) پھر تمام وجوہ ترجیح بیان کرنے کے بعد حضرت علی (رض) نے فرمایا : ان دلائل کی وجہ سے تم امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امارت کے مستحق ہوتے ہو ؟ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے تم اللہ، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے دین سے بہک گئے اور تم ان چیزوں سے خالی ہو جن کے دین دار محتاج ہوتے ہیں، پھر (حضرت) ابوبکر (رض) رونے لگے اور کہا : اے ابوالحسن ! تم نے سچ کہا مجھے ایک دن کی مہلت دو تاکہ میں اس پر غور کروں۔ (الاحتجاج ج ١ ص ١٢٩، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٣ ھ) ایک اور شیعہ عالم محمد باقر الموسوی خراسانی نے اس کتاب پر حاشیہ لکھا ہے وہ سورة البراءۃ کے اعلان کے متعلق لکھتے ہیں : (حضرت) ابو سعید اور (حضرت) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج کا امیر بنا کر بھیجا۔ جب وہ مقام ضجنان پر پہنچے تو انہوں نے حضرت علی (رض) کی اونٹنی کی آواز سنی، وہ ان کو پہچان کر ان کے پاس آئے اور کہا کیا بات ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا خیر ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سورة البراءۃ کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ جب وہ دونوں واپس آئے تو حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا کیا مقام ہے ؟ فرمایا اچھا ہے تم میرے غار کے صاحب ہو مگر بات یہ ہے کہ یہ اعلان یا میں پہنچا سکتا تھا یا میرا رشتہ دار یعنی حضرت علی (رض) ۔ اس حدیث کو امام ابو حاتم نے روایت کیا ہے (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٧٤٥ رقم الحدیث : ٩٢١٥) اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے ایک روایت اس طرح بیان کی ہے کہ : حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا آپ امیر ہیں یا سفیر ہیں ؟ انہوں نے کہا بلکہ میں سفیر ہوں، مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے سورة البراءۃ کا اعلان کروں، اور امام احمد نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابھی میرے پاس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے تھے اور یہ کہا کہ معاہدہ فسخ کرنے کا اعلان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود کریں گے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قرابت دار۔ (ذخائر العقبیٰ ص ٩٦) (تعلیقات الموسوی علی الاحتجاج ج ١ ص ١١٦، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٣ ھ) دیگر شیعہ مفسرین نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشرکین پر یہ اعلان اسی وقت حجت ہوسکتا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قرابت دار یہ اعلان کرتا۔ شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں : حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے قربانی کے دن مکہ میں لوگوں کے سامنے سورة البراءۃ پڑھی، کیونکہ اس سال حج کے موسم میں ابوبکر (رض) لوگوں کے امیر تھے، ان کے پیچھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کو بھیجا اور فرمایا میری طرف سے صرف میرا رشتہ دار ہی اعلان کرسکتا ہے۔ (التسیان ج ٥ ص ١٦٠، دار احیاء التراث العربی بیروت) شیخ ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی (چھٹی صدی کے اکابر علماء امامیہ میں سے تھے) لکھتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ سورة البراءۃ کی پہلی دس آیتیں پڑھ کر سنائیں اور جس کا بھی کوئی معاہدہ تھا اس کو فسخ کردیں، پھر ان کے پیچھے حضرت علی (رض) کو بھیا تاکہ وہ ان سے یہ کام لے لیں اور وہ لوگوں کے سامنے پڑھیں، پس حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی عضباء پر بیٹھ کر گئے، حتیٰ کہ وہ ذوالحلیفہ کے مقام پر حضرت ابوبکر (رض) سے جا ملے اور ان سے یہ کام لے لیا، اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) واپس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کیا میرے متعلق کوئی حکم نازل ہوا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خیر کے سوا کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، لیکن میری طرف سے میں خود اعلان کرسکتا ہوں یا میرا کوئی رشتہ دار۔ (مجمع البیان ج ٥ ص ٦، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت، ١٤٠٦ ھ) ان مستند علماء شیعہ کی تصریحات سے واضح ہوگیا کہ حضرت علی (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی امارت میں فریضہ حج ادا کیا تھا، اور ان کا اعلان کرنا ایک خاص سبب سے تھا، اس سے حضرت ابوبکر (رض) کی امارت کو عزل کرنا لازم نہیں آتا، جیسا کہ شیخ فتح اللہ کاشانی متوفی ٩٧٧ ھ نے سمجھا ہے، وہ لکھتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایسا منصب دیا تھا جس سے لوگوں کی گردنیں میری طرف اٹھنے لگیں، پھر ابھی میں نے کچھ راستہ ہی طے کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے معزول کردیا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میں نے نہیں کیا، یہ اللہ نے کیا ہے۔ (منہج الصادقین ج ٤ ص ٢٢٠، مطبوعہ کتاب فروشے علمیہ اسلامیہ طہران) اور نہ یہ واقعہ حضرت علی (رض) کی خلافت کی دلیل ہے جیسا کہ شیخ طبرسی صاحب الاحتجاج نے سمجھا ہے۔ کتب امامیہ سے اس واقعہ کی روایات پڑھنے کے بعد اب اہل سنت کی روایت ملاحظہ فرمائیں : حضرت ابو سعید یا حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو بھیجا۔ جب وہ مقام سجنان پر پہنچے تو انہوں نے حضرت علی (رض) کی اونٹنی کی آواز سنی، تو انہوں نے اس کو پہچان لیا اور وہ حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور پوچھا میرے متعلق کوئی بات ہے ؟ انہوں نے کہا خیر ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سورة البراءۃ کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا ہے، جب ہم واپس آگئے تو حضرت ابوبکر (رض) گئے اور پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خیر ہے، تم میرے غار کے صاحب ہو البتہ میرا غیر میر طرف سے اعلان نہیں کرسکتا، میں اعلان کروں گا یا وہ شخص جو میرے خاندان سے ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد حضرت علی (رض) تھے۔ (صحیح ابن حبان ج ١٥ ص ١٧ رقم الحدیث : ٦٦٤٤، خصائس علی للنسائی رقم الحدیث : ٧، فضائل الصحابہ رقم الحدیث : ٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٩٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٥٦ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 2