أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ يَوۡمَ الۡحَجِّ الۡاَكۡبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِىۡۤءٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ‌ ۙ وَ رَسُوۡلُهٗ‌ ؕ فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِى اللّٰهِ‌ ؕ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍۙ ۞

ترجمہ:

اور سب لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے کہ حج اکبر کے دن، اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بھی) پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم اعراض کرتے ہو تو تم یقین رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری دیجئے۔

تفسیر:

حج اکبر کے مصداق کے متعلق احادیث، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سب لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان ہے کہ حج اکبر کے دن اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی، پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم اعراض کرتے ہو تو تم یقین رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کو عذاب کی خوش خبری دے دیجئے (التوبہ : ٣۔ ١) حج اکبر کی تعیین میں مختلف اقوال ہیں، امام عبدالرزاق بن ہمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں (رح) : حسن اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جس سال حضرت ابوبرک (رض) نے حج کیا تھا اس میں مسلمان اور مشرکین جمع تھے اور اسی دن یہود اور نصاریٰ کی عید بھی تھی اس لیے اس کو حج اکبر فرمایا۔ حارث حضرت علی (رض) سے اور معمر زہری سے روایت کرتے ہیں کہ یوم النحر (قربانی کا دن) حج اکبر ہے۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن شداد (رض) سے حج اکبر اور حج اصغر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا : حج اکبر یوم النحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔ عطا نے کہا حج اکبر یوم عرفہ ہے۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حجیفہ (رض) سے حج اکبر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا وہ یوم عرفہ ہے۔ میں نے پوچھا یہ آپ کی رائے ہے یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی ؟ انہوں نے کہا سب کی، پھر میں نے حضرت عبداللہ بن شداد سے سوال کیا تو انہوں نے کہا حج اکبر یوم النحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔ (تفسیر امام عبدالرزاق ج ١، ص ٢٤١، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت، ١٤١١ ھ) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حج ادا کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم النحر (١٠ ذوالحجہ) کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٤٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٩٤٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٦٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٠٥٥، الطبقات الکبریٰ ج ٢ ص ١٤٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، المستدرک ج ٢ ص ٢٣١) امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ نے عبداللہ بن ابی اوفٰی اور سعید بن جبیر سے، عبداللہ بن شداد سے، حضرت علی (رض) سے، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے، عامر سے، حضرت ابن عباس (رض) سے اور حضرت ابو حجیفہ (رض) سے اپنی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حج اکبر یوم النحر ہے۔ (المصنف ج ٣ ص ٣٦٠، رقم لحدیث : ١٥١١١۔ ١٥١٠٢)

حج اکبر کے مصداق کے متعلق مذاہب فقہاء، حافظ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حمید بن عبدالرحمن کہتے تھے کہ یوم النحر، یوم الحج الاکبر ہے۔ (البخاری : ٣٦٩، مسلم : ١٣٤٧، سنن ابودائود : ١٩٤٦، سنن النسائی : ٢٣٤، مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٩) یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حج اکبر کا دن یوم النحر ہے، جیسا کہ حمید نے کہا ہے، اور یہ سعید بن جبیر اور امام مالک کا قول ہے، اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ حج اکبر یوم عرفہ ہے اور یہی حضرت عمر کا قول ہے، امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے، مجاہد نے کہا حج اکبر قران ہے اور حج اصغر افراد ہے، اور شعبی نے کہا حج اکبر، حج ہے اور حج اصغر عمرہ ہے، اور پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں حج اکبر کا اعلان کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج اکبر یوم النحر ہے۔ (سنن ابودائود، رقم الحدیث ١٩٤٥) (المفہم ج ٣ ص ١٦٠۔ ٤٥٩، مطبوعہ دار اب کثیر بیروت، ١٤١٧ ھ)

حج اکبر کے مخلف اقوال میں تطبیق، ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ یوم حج اکبر کے متعلق چار قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ حج اکبر یوم عرفہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ یوم نحر ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ حج اکبر طواف زیارت کا دن ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ حج کے تمام ایام یوم حج اکبر ہیں، اور درحقیقت ان اقوال میں کوئی تعارض نہیں، ہے، کیونکہ اکبر اور اصغر امر اضافی ہیں، لہٰذا جمعہ کے دن کا حج دوسرے ایام کی بہ نسبت اکبر ہے اور حج قران حج افراد سے اکبر ہے اور مطلقاً حج، عمرے سے اکبر ہے اور جمیع ایام حج بھی اکبر ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے نورانی مقام کے اعتبار سے مختلف ہے، اسی طرح ایام میں یوم عرفہ، حج اکبر کی تحصیل کا دن ہے جو مطلقاً حج ہے، اور یوم نحر حج اکبر کے افعال کے مکمل ہونے اور ان سے حلال ہونے کا دن ہے۔ (الحظ الاوفرنی الحج الاکبر مع المسلک المتقسط ص ٤٨١، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، ١٤١٧ ھ)

جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس کے حج اکبر ہونے کی تحقیق ؛ احادیث اور آثار صحابہ میں مختلف ایام پر حج اکبر کا اطلاق آیا ہے اور کسی دن کے حج اکبر ہونے پر اتفاق نہیں ہے، اور عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جب جمعہ کے دن یوم عرفہ ہو تو وہ حج اکبر ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں ہرچند کہ کوئی صریح حدیث نہیں ہے تاہم بکثرت دلائل شرعیہ سے اس دن کا حج اکبر ہونا ثابت ہے، اس لیے اس کو حج اکبر کہنا صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ جس سال جمعہ کے دن یوم عرفہ ہو اس سال کے حج کا ثواب زتر حج سے زیادہ ہوتا ہے۔ ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ نے جب یوم عرفہ جمع کے دن ہو تو اس کے حج اکبر ہونے کے ثبوت میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں : جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس پر حج اکبر کا اطلاق کرنا بہت مشہور ہے اور زبان زد خلائق ہے، اور خلق خدا کی زبانیں، حق کا قلم ہوتی ہیں اور (حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا :) جس چیز کو مسلمان حسن (اچھا اور نیک) سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی حسن ہے اور جس چیز کو مسلمان برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٣٧، شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد ج ٣ رقم الحدیث : ٣٦٠٠، مطبوعہ دار الحدیث القاہرہ، حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کو امام احمد، امام بزار اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، مجع الزوائد ج ١ ص ١٧٨۔ ١٧٧، ج ٨ ص ٢٥٢، حاکم نے کہا اس کی سند صحیح ہے، المستدرک، ج ٣ ص ٧٩۔ ٧٨، تاریخ بغداد ج ٤ ص ١٦٥، کشف الخفاء ج ٢ ص ٢٦٣) اس رسالہ میں ہمارا مقصود اس مسئلہ کی تحقیق کرنا ہے۔ امام رزین بن معاویہ نے تجرید الصحاھ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا افضل الایام، یوم عرفہ ہے اور جب یہ جمعہ کے دن ہو تو یہ بغیر جمعہ کے ستر حج سے افضل ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ٤ ص ٧٤، مطبوعہ مطبعہ میمنہ مصر) ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ بعض محدثین نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اگر بالفرض یہ واقع میں ضعیف ہو بھی تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی معتبر ہوتی ہے اور بعض جاہلوں کا یہ کہنا کہ یہ حدیث موضوع ہے، باطل اور مردود ہے (علامہ مناوی اور حافظ ابن قیم نے اس حدیث کو باطل کہا ہے) کیونکہ رزین بن معاویہ عبدری کبراء نے اس کو صحاح ستہ کی تجرید میں بیان کیا ہے، اس لیے یہ سند اگر صحیح نہیں ہے تو ضعیف سے کسی حال میں کم نہیں ہے اور اس حدیث کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ جمعہ کے دن عبادات کا ثواب ستر یا سو گناہ بڑھ جاتا ہے، اور علامہ نووی نے اپنے مناسک میں بیان کیا ہے کہ جب عرفہ جمعہ کے دن ہو تو تمام اہل موقف کی مغفرت کردی جاتی ہے، علامہ ابو طالب مکی نے اس حدیث کو قوت القلوب میں بیان کیا ہے۔ ابن جماعہ نے اس حدیث کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مسند کرکے بیان کیا ہے، اور علامہ سیوطی نے اس کو ابن جماعہ سے نقل کرکے مقرر رکھا ہے اور یہ چیز قواعد میں سے ہے کہ جب کسی حدیث کے متعدد طرق ہوں تو وہ قوی ہوجاتی ہے اور اس پر دلیل ہوتی ہے کہ اس حدیث کو اصل ہے۔ (الحظ الاو فرنی الحج الاکبر مع المسلک المتقسط ص ٤٨٢، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)

جمعہ کے دن مغفرت اور نیکیوں میں اضافہ کے متعلق احادیث ؛ ملا علی قاری (رح) نے فضائل جمعہ میں چند احادیث ذکر کی ہیں جن کو ہم تخریج کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

والیوم الموعود وشاہد ومشہود (البروج : ٣۔ ٢)

ترجمہ : وعدہ کیے ہوئے دن کی قسم اور حاضر ہونے والے کی اور حاضر کیے ہوئے کی قسم۔

اس کی تفسیر اس حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم موعود قیامت کا دن ہے، اور یوم مشہود یوم عرفہ ہے اور شاہد یوم الجمعہ ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورج کسی ایسے دن پر طلوع ہوا، نہ غروب ہوا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ بندہ اس میں جس خیر کی بھی دعا کرے اللہ اس کو قبول فرماتا ہے اور جس چیز سے بھی پناہ طلب کرے اس کو اس سے پناہ میں رکھتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٥٠، مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٨، سنن کبریٰ ج ٤ ص ١٧٠، شرح السنہ للبغوی ج ٧ ص ٢٢٦، کامل ابن عدی ج ٢ ص ٤٧٦، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، المستدرک ج ٢ ص ٥١٩، المشکوٰۃ رقم الحدیث : ١٣٦٢، شعب الایمان ج ٣ ص ٨٨، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٠٦٥) ملا علی قاری اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس حدیث میں یہ ظاہر دلیل ہے کہتنہا جمعہ یوم عرفہ سے افضل ہے، پس ثابت ہوا کہ جمعہ سید الایام ہے جیسا کہ زبان زد خلائق ہے۔ (الحظ الاو فرنی الحج الاکبر مع المسلک المتقسط ص ٤٨٣) میں کہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں بھی احادیث وارد ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کا دن سید الایام ہے، اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن وہ جنت سے باہر لائے گئے اور قیامت صرف جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٥٥٠٧، شعب الایمان ج ٣ ص ٩٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٠ ھ) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رمضان سید الشہور (مہینوں کا سردار) ہے اور جمعہ سید الایام ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٩ ص ٤٠٥، رقم الحدیث : ٩٠٠، مجمع الزوائد ج ٣ ص ١٤٥، کنزالعمال ج ٧ رقم الحدیث : ٢١٠٦٧، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٥٥٠٨) اس کے بعد ملا علی قاری نے جمعہ کے دن مغفرت کے متعلق یہ احادیث ذکر کی ہیں : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ جمعہ کے دن ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (المعجم الاوسط، ج ٥ ص ٤١٢، رقم الحدیث : ٤٨١٤، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٤، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٠٥٣، اس کا ایک راوی محمد بن بحر الہجیمی بہت ضعیف ہے) ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن اور اس کی رات کے چوبیس گھنٹوں کی ہر ساعت میں چھ سو گنہ گار دوزخ کی آگ سے آزاد ہوتے ہیں، ان میں سے ہر گنہ گار پر دوزخ واجب ہوتی ہے۔ (مسند ابو یعلیٰ ج ٦ ص ٢٠٢۔ ٢٠١ رقم الحدیث : ٣٤٨٤، اس کی سند میں عبدالواحد بصری ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ٢ ص ١٦٥، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٨٥٢، کنزالعمال ج ٧، ص ٧١٩، رقم الحدیث : ٢١٠٨٠) امام محمد بن سعد نے طبقات کبریٰ میں حضرت حسن بن علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یوم عرفہ کو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں کی وجہ سے فخر فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندے بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں کے ساتھ میری رحمت کی طلب میں آئے ہیں، میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان کے نیکوں کو بخش دیا اور ان کے نیکوں کو ان کے بروں کے لیے شفاعت کرنے والا بنادیا اور جمعہ کے دن بھی اسی طرح فرماتا ہے (مجھ کو طبقات یا کسی اور کتاب میں یہ حدیث نہیں ملی) ۔ ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد ملا علی قاری فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جمعہ اور عرفہ کا اجتماع زیادہ مغفرت کا موجب ہے، اور جو شخص اس کا انکار کرتا ہے، وہ جاہل ہے اور منقول اور معقول پر مطلع نہیں ہے۔ اس کے بعد ملا علی قاری جمعہ کے دن اجر میں زیادتی کے متعلق احادیث بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن نیکیوں کو دگنا کردیا جاتا ہے۔ (المعجم الاوسط ج ٨ ص ٤٣٥، رقم الحدیث : ٧٨٩١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ رقم الحدیث : ٥٥١٢، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٠٥٧) ملا علی قاری فرماتے ہیں : بعض احادیث میں ستر گنا اضافہ کا بھی ذکر ہے اور امام احمد بن زنجویہ نے فضائل اعمال میں مسیب بن رافع سے روایت کیا ہے کہ اس کو باقی ایام کی بہ نسبت دس گنا زائد اجر دیا جائے گا، میں کہتا ہوں کہ یہ ستر گنا اضافہ بلکہ سو گنا اضافہ کو بھی شامل ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کو شامل ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس کا اجر ستر گنا زائد ہوتا ہے۔ (الحظ الاو فرنی الحج الاکبر مع المسلک المتقسط ص ٤٨٤) میں کہتا ہوں کہ جمعہ کے دن اجر وثواب میں زیادتی کے متعلق یہ حدیث بہت واضح ہے : حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کی عیدوں میں جمعہ کی عید سے بڑھ کر کوئی عید نہیں ہے، جمعہ کے دن ایک رکعت نماز پڑھنا باقی دنوں میں ہزار رکعات سے افضل ہے اور جمعہ کے دن ایک تسبیح پڑھنا باقی دنوں میں ہزار تسبیحات پڑھنے سے افضل ہے۔ (الفردوس بماثور الخطاب ج ٣ ص ٣٨٣، رقم الحدیث : ٥١٦٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٠٦ ھ)

جس جمعہ کو یوم عرفہ ہو اس دن حج اکبر ہونے پر ایک حدیث سے استدلال : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس دن حج کیا وہ جمعہ کا دن تھا۔ علامہ حسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : الیوم اکملت لکم دینکم۔ (المائدۃ : ٣) یہ آیت جمعہ کے دن یوم عرفہ کو عصر کے بعد حجتہ الوداع میں نازل ہوئی۔ اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میدان عرفات میں اپنی اونٹنی عضباء پر تشریف فرما تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک یہودی کے سامنے یہ آیت پڑھی : الیوم اکملت لکم دینکم۔ (المائدۃ : ٣) اس یہودی نے کہا اگر ہم میں یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت یہ عیدوں کے دن نازل ہوئی ہے، جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٥٥، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥، ٤٤٠٧، ٤٦٠٦، ٧٢٦٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠١٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٠٠٢، ٥٠٢٧، سنن کبریٰ للنسائی، رقم الحدیث : ١١١٣٧، سنن کبریٰ للیہقی، ج ٥ ص ١١٨، صحیح ابن حبان، ج ١ ص ١٨٥) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمہع کے دن حج کیا اور جس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا اسی دن حج کرنا حج اکبر ہے۔ امام ابن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ روایت کرتے ہیں : شہاب بن عباد العصری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : حضرت عمر نے فرمایا یوم عرفہ حج اکبر ہے میں نے اس بات کا سعید بن مسیب سے ذکر کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عون بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن سیرین سے حج اکبر کے متعلق سوال کیا تھا، انہوں نے کہا جس دن حج اس دن کے موافق ہو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام اہل ملل نے حج کیا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٣٦٠، رقم الحدیث : ١٥١٠٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ) ۔ اور اس حدیث سے محدث رزین کی اس حدیث کی تائید ہوتی ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس حج کا ثواب ستر حج سے افضل ہے۔

جمعہ کے حج کے متعلق مفسرین کے اقوال : امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے حج اکبر کے متعلق ایک یہ قول ذکر کیا ہے : ابن عون بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین سے حج اکبر کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا جو حج اس دن کے موافق ہو جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور تمام دیہاتیوں نے حج کیا تھا۔ (وہ حج اکبر ہے) ۔ (جامع البیان، جز ١٠، ص ٩٣، مطبوعہ دارلفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ امام ابن شیبہ کی روایت میں اہل ملل کے الفاظ ہیں اور امام ابن جریر کی روایت میں اہل وبر (دیہاتیوں) کے الفاظ ہیں اور امام ابن جریر کی روایت ہی صحیح ہے کیونکہ تمام اہل ملل نے سال حج کیا تھا جس سال حضرت ابوبکر (رض) نے حج کیا تھا اور جس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تھا اس سال صرف مسلمانوں نے حج کیا تھا جن میں اہل وبر بھی تھے۔ بہرحال اس روایت کا ذکر حسب ذیل علامء نے کیا ہے : امام بغوی شافعی، متوفی ٥١٦ ھ۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٢٦، مطبوعہ بیروت) علامہ قرطبی مالکی، متوفی ٦٦٨ ھ (الجامع الاحکام القرآن جز ٨، ص ١١) علامہ ابوالحیان اندلسی، متوفی ٧٥٤ ھ۔ (البحر المحیط ج ٥ ص ٣٦٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت) حافظ ابن کثیر شافعی، متوفی ٧٧٤ ھ۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣٦٣، مطبوعہ ارلاندلس بیروت) حافظ جلال الدین شافعی، متوفی ٩١١ ھ۔ (الدرالمنثور ج ٤ ص ١٢٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت) نواب صدیق حسن خان بھوپالی (غیر مقلد) ، متوفی ١٣٠٤ ھ۔ (فتح البیان ج ٥ ص ٢٣٣، مطبوعہ المکتبہ العصریہ بیروت، ١٤١٥ ھ) علامہ علی بن محمد خازن شافعی متوفی ٧٢٥ ھ لکھتے ہیں : جو حج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے موافق ہو اس کو حج اکبر کہا گیا ہے اور یہ دن جمعہ کا دن تھا۔ (لباب التاویل ج ٢ ص ٢١٧، مطبوعہ مکتبہ دارالکتب العربیہ پشاور) ۔ علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں وارد ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس کا اجر ستر حج کے برابر ہے اور یہی حج اکبر ہے۔ (روح البیان، ج ٣ ص ٣٨٥، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ) ۔ صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : اور ایک قول یہ ہے کہ اس حج کو حج اکبر اس لیے کہا گیا کہ اس سال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج فرمایا تھا اور چونکہ یہ جمعہ کو واقع ہوا تھا اس لیے مسلمان اس حج کو جو روز جمعہ ہو حج وداع کا مذکر (یاد دلانے والا) جان کر حج اکبر کہتے ہیں۔ (خزائن العرفان ص ٣٠١، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور) ۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : اس سے اشارتاً معلوم ہوا کہ اگر حج جمعہ کا ہو تو حج اکبر ہے کیونکہ جمعہ کے ایک حج کا ثواب ستر حج کے برابر ہے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حجتہ الوداع جمعہ ہی کو ہوا تھا۔ (نورالعرفان ص ٢٩٧، مطبوعہ ادارہ کتب اسلامیہ گجرات) ۔ مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جس سال یوم عرفہ بروز جمعہ واقع ہو صرف وہی حج اکبر ہے، اس کی اصلیت اس کے سوا نہیں ہے کہ اتفاقی طور پر جس سال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حج وداع ہوا ہے اس میں عرفہ بروز جمعہ ہوا تھا۔ (معارف القرآن ج ٤ ص ٣١٥، مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی، ١٤١٤ ھ) ۔ شیخ محمد ادریس کا ندھلوی (دیوبندی) متوفی ١٣٩٤ ھ لکھتے ہیں : عوام الناس میں جو یہ مشہور ہے کہ حج اکبر وہ حج ہے جو خاص جمعہ کے دن ہو اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ (تفسیر معارف القرآن ج ٣ ص ٤٨٦، مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ لاہور، ١٤٠٢ ھ) ۔

جمعہ کے حج کے متعلق فقہاء کے اقوال : علامہ عثمان بن علی زیلعی حنفی متوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام ایام میں افضل یوم عرفہ ہے اور جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ باقی دنوں کی بہ نسبت ستر حج سے افضل ہے۔ اس حدیث کو رزین بن معاویہ نے تجرید الصحاح میں ذکر کیا ہے اور علامہ نووی نے اپنے مناسک میں ذکر کیا ہے۔ جب یوم عرفہ یوم جمعہ کو ہو تو تمام اہل موقف کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (تبیین الحقائق ج ٢ ص ٢٦، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ایضاً حاشیتہ الشبلی ج ٢ ص ٢٦، مطبوعہ ملتان) ۔ علامہ زین الدین بن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ لکھتے ہیں : اور ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے اور جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ باقی دنوں کی نسبت ستر حج سے افضل ہے۔ اس حدیث کو رزین نے روایت کیا ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن کے حج کی باقی دنوں پر فضیلت ہے ؟ انہوں نے کہا جمعہ کے حج کو باقی دنوں کے حج پر پانچ وجہ سے فضیلت ہے : پہلی اور دوسری وجہ تو مذکور الصدر حدیثوں سے واضح ہے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح جگہ کی فضیلت سے بھی عمل کی فضیلت ہوتی ہے اور جمعہ کے دن ہفتہ کے باقی دنوں سے افضل ہے (بلکہ سید الایام ہے) پس واجب ہوا کہ جمعہ کے دن کا عمل باقی دنوں کے عمل سے افضل ہو، اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی ساعت ہوتی ہے جس میں مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال بھی کرے اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرماتا ہے اور یہ فضیلت باقی دنوں میں نہیں ہے اور پانچویں فضیلت یہ ہے کہ جمعہ کے حج میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے موافقت ہے کیونکہ حجتہ الوداع جمعہ کے دن تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سب سے افضل عمل اختیار کیا جاتا تھا۔ بعض طلبہ نے میرے والد سے سوال کیا کہ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمام اہل موقف کی مغفرت فرما دیتا ہے، پھر اس میں جمعہ کے دن کی کیا خصوصیت ہے جیسا کہ مذکور الصدر حدیث میں ہے تو میرے والد نے جواب دیا کہ ہوسکتا ہے کہ جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ بلاواسطہ مغفرت فرمئے اور باقی ایام کے حج میں بعض لوگوں کے واسطہ سے مغفرت فرمائے۔ شیخ نورالدین الزیاری الشافعی کے حاشیہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ (منحتہ الخالق علی ہامش البحرالرائق ج ٢ ص ٣٤٠، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ) ۔ علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی الحنفی المتوفی ١٠٦٩ ھ لکھتے ہیں : تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے اور جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ باقی دنوں کی بہ نسبت ستر حج سے افضل ہے، اس حدیث کو معراج الدرایہ نے اپنے اس قول کے ساتھ روایت کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث صحیح مروی ہے کہ تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے اور جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ ستر حج سے افضل ہے۔ یہ حدیث تجرید الصحاح میں علامتہ الموطا کے ساتھ مذکور ہے (الموطا کے موجودہ مطبوعہ نسخوں میں یہ حدیث مذکور نہیں ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے اگر اس حدیث کی کوئی اصل ہے تو ہوسکتا ہے ستر سے مراد ستر درجے ہوں یا مبالغہ مراد ہو اور حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٧١) … (مراقی الفلاح مع حاشمتہ الطحطاوی ص ٤٤٥، مطبوعہ مصر، ١٣٥٦ ھ) ۔ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : جب عرفہ جمعہ کے دن ہو تو ستر حج کا ثواب ہے اور (میدان عرفات میں) ہر فرد کے لیے بلاواسطہ مغفرت کردی جاتی ہے۔ (الدرالمختار مع ردلمحتارج ٢ ص ٢٥٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ) ۔ اس کے حاشیہ پر علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : الشرنبلالیہ نے زیلعی سے نقل کیا ہے کہ تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے اور جب عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس دن حج کرنا باقی دنوں کے ستر حج سے افضل ہے۔ اس حدیث کو رزین بن معاویہ نے تجرید الصحاح میں روایت کیا ہے۔ علامہ مناوی نے بعض حفاظ سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (فیض القدیر ج ٣ ص ١١٧٣، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ) البتہ امام غزالی نے احیاء العلوم میں ذکر کیا ہے کہ بعض سلف نے کہا ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو تمام اہل عرفہ کی مغفرت کردی جاتی ہے اور یہ دن دنیا کے تمام دنوں سے افضل ہے، اسی دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا تھا جو حجتہ الوداع تھا، اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقوف فرما رہے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی : الیوم اکملت لکم دینکم۔ (المائدۃ : ٣) اہل کتاب نے کہا اگر ہم میں یہ آیت نازل ہوتی تو ہم عید مناتے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ آیت دو عیدوں کے دن نازل ہوئی ہے : یوم عرفہ اور یوم جمعہ۔ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں وقوف فرما رہے تھے۔ (علامہ شامی نے معراج کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ ردالمختار، ج ٢ ص ١٧٨) ۔ نیز علامہ شامی لکھتے ہیں : علامہ سندی نے المنسک الکبیر میں لکھا ہے کہ تمام اہل موقف کی مطلقاً مغفرت کردی جاتی ہے پرھ جمعہ کی تخصیص کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ جمعہ کے دن بلاواسطہ مغفرت کی جاتی ہے اور باقی ایام میں بعض لوگوں کی بعض کے واسطے سے مغفرت کی جاتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ دوسرے دنوں میں صرف حجاج کی مغفرت کی جاتی ہے اور جب عرفہ جمعہ کے دن ہو تو حجاج اور غیر حجاج سب کی مغفرت کی جاتی ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ میدان عرفات میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا حج قبول نہیں ہوتا تو سب کی مغفرت کیسے ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی مغفرت تو ہوجائے گی لیکن ان کو حج مبرور کا ثواب نہیں ملے گا اور مغفرت حج کے مقبول ہونے کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ ان احادیث میں تمام اہل موقف کی مغفرت کا ذکر ہے، اس لیے اس قید کا اعتبار کرنا واجب ہے۔ (ردالمختار ج ٢ ص ٢٥٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٧ ھ) ۔ علامہ سید احمد الفحطاوی الحنفی المتوفی ١٢٣١ ھ لکھتے ہیں : جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اس دن حج کرنا دوسرے ایام کی بہ نسبت ستر حج سے افضل ہے۔ (حاشیتہ الطحطاوی علی الدر المختار ج ١ ص ٥٥٩، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت، ١٣٩٥ ھ) ۔ امام محمد بن محمد غزالی شافعی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں : بعض اسلاف نے یہ کہا ہے کہ جب جمعہ کے دن یوم عرفہ ہو تو تمام میدان عرفات والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے اور یہ دن دنیا کے تمام دنوں سے افضل ہے اور اسی دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجتہ الوداع کیا تھا۔ (احیاء علوم الدین ج ١ ص ٣٢٠، مطبوعہ دارالخیر بروت، ١٤١٣ ھ) ۔ اس کی شرح میں علامہ سید محمد زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : رزین بن معاویہ العبدری نے تجرید الصحاح میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے اور جس دن عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ ستر حج سے افضل ہے۔ اس حدیث پر موطا کی علامت ہے لیکن یہ حدیث یحییٰ بن یحییٰ کی موطا میں نہیں ہے، شاید یہ کسی اور موطا میں ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ٤ ص ٢٧٤، مطبوعہ مطبعہ میمنہ مصر) ۔ علامہ یحییٰ بن شرف نواوی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : اور بیشک یہ کہا گیا ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو تمام اہل موقف (میدان عرفات کے تمام لوگوں) کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (شرح المہذب ج ٨ ص ١١٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، الایضاح فی مناسک الحج والعمرۃ، ص ٢٨٦، مطبوعہ المکتبہ الامدادیہ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ) ۔ مناسک نووی کی یہی وہ عبارت ہے جس کا اکثر علماء نے حوالہ دیا ہے اور اس عبارت سے استدلال کیا ہے۔ علامہ عبدالفتاح مکی مناسک الحج والعمرۃ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے، اگر اس میں وقف جمعہ کے دن ہو تو وہ دوسرے دنوں کی بہ نسبت ستر دنوں سے افضل ہے۔ (الافصاح علی مسائل الایضاح، ص ٢٨٧، مطبوعہ المکتبہ الامدادیہ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ) ۔ علامہ ابن حجر الہیتمی المکی الافعی المتوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں : جمعہ کے دن کے فضائل میں سے یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : تمام دنوں میں افضل یوم عرفہ ہے، اگر وقوف عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ غیر جمعہ کے ستر حج سے افضل ہے۔ (حاشیہ ابن حجر الہیتمی علی شرح الایضاح فی مناسک الحج للامام النووی ص ٣٢٨، مطبوعہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٩ ھ) ۔ میں نے شرح صحیح مسلم کی تیسری جلد میں بھی حج اکبر کے موضوع پر لکھا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو وہ حج اکبر ہوتا ہے اور وہ حج دیگر ایام کی بہ نسبت ستر حج سے افضل ہوتا ہے۔ اس وقت میرے وسائل عمرہ یا حج کرنے کے نہیں تھے اور میرے وہم و گمان میں بھی عمرہ یا حج کی سعادت نہیں تھی۔ میں نے کتاب الحج کے اخیر میں دعا لکھی اے اللہ ! مجھے عمرہ اور حج کی سعادت عطا فرما، یہ دعا ١٩ جمادی الثانیہ ١٤٠٨ ھ کو لکھی تھی (شرح صحیح مسلم ج ٣ ص ٧٧٣) اور ١٤١٠ ھ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے عمرہ کی سعادت عطا فرمائی اور ١٤١٤ ھ میں مجھے حج کی سعادت عطا فرمائی اور یہ حج، حج اکبر تھا اور اب سورة التوبہ کی تفسیر میں حج اکبر کا لفظ آیا تو ذہن میں وہ پچھلی یادیں تازہ ہوگئیں اور میں نے دوبارہ حج اکبر کے موضوع پر لکھا اور حسن اتفاق یہ ہے کہ جن دنوں میں اس موضوع پر لکھ رہا تھا وہ ایام بھی حج کے تھے اور اس سال (١٤١٩ ح) کا حج بھی حج اکبر تھا، اللہ تعالیٰ میری اس تحریر کو قبول فرمائے، میں نے اس بحث میں یہ حدیث لکھی ہے کہ جب یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے بےپایاں کرم سے دنیا کے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور میں اپنی اس تحریر یا کسی اور نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا طالب نہیں ہوں، میں صرف اس کے فضل و کرم کی وجہ سے اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کا امیدوار ہوں۔ ١٧ ذوالحجہ بروز ہفتہ بعد عصر ١٤١٩ ھ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 3