أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّةَ الۡـكُفۡرِ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر یہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین پر طنز کریں تو تم کفر کے علم برداروں سے جنگ کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے، شاید کہ وہ باز آجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر یہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین پر طنز کریں تو تم کفر کے علم برداروں سے جنگ کرو ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے شاید کہ وہ باز آجائیں (التوبہ : ١٢)

کفر کے علم برداروں کا مصداق :

جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ تم سے جنگ نہیں کریں گے اور تمہارے خلاف دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے اور وہ مشرک اس معاہدہ کو توڑ دیں اور تمہارے دین اسلام کی مذمت اور برائی کریں تو تم کفر کے ان علم برداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہو زکتا ہے کہ وہ اس طرح تمہارے دین کی مذمت کرنے سے اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد کرنے سے باز آجائیں۔ قتادہ نے کہا کفر کے ان علم برداروں سے مراد ابوسفیان بن حرب، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام اور سہیل بن عمرو ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کرکے توڑا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ سے نکالنے کا قصد کیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٢٨٣٧) انکث کا معنی ہے نقض اور توڑنا، جب کوئی شخص اپنی مضبوط رسی کو توڑ دے تو اس موقع پر نکث کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

توہین رسالت کرنے والے غیر مسلم کو اسلامی ملک میں قتل کرنے کے ثبوت میں احادیث اور آثار :

امام رازی نے لکھا ہے کہ زجاج نے کہا ہے کہ جب ذمی دین اسلام میں طعن کرے تو یہ آیت اس کے قتل کو واجب کرتی ہے کیونکہ ان کی جان اور مال کی حفاظت کا جو، مسلمانوں نے عہد کیا تھا وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ وہ دین اسلام میں طعن نہیں کرے گا اور جب اس نے دین اسلام میں طعن کیا تو اس نے اپنے عہد کو توڑ دیا۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ٥٣٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

میں کہتا ہوں کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ملک میں رہنے والے ان غیر مسلموں کو بھی قتل کرنا واجب ہے جو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کی بھی توہین کریں یعنی ان کی شان کے خلاف کوئی ایسا لفظ بولیں یا لکھیں جو لفظ عرف میں توہین کے لیے متعین ہو، اور حسب ذیل احادیث اور آثار اس پر شاہد ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ! حضرت محمد بن مسلمہ، کعب کے پاس گئے اور کہا اس شخص نے یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں تھکا دیا ہے اور ہم سے صدقہ کا سوال کرتا رہتا ہے، نیز کہا بخدا تم اس کو ضرور ملال میں ڈال دو گے، اور کہا ہم نے اس کی پیروی کی ہے اور اب ہم اس کو چھوڑنا ناپسند کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہم جان لیں کہ آخر کار ان کا ماجرا کیا ہوگا، وہ اسی طرح کعب بن اشرف سے باتیں کرتے رہے حتیٰ کہ موقع پا کر اس کو قتل کردیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠٣٧، ٢٠٣٢، ٣٠٣١، ٢٥١٠، صحیح مسلم ارقم الحدیث : ١٨٩١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٧٦٨ ) ۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا کی باندی ام ولد تھی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہتی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتی تھی۔ وہ نابینا اس کو منع کرتے رہتے تھے اور وہ باز نہیں آتی تھی۔ ایک رات جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کر رہی تھی، انہوں نے ایک مغول (گیتی یا بھادو، پیگان والی لاٹھی) لے کر اس کو اس کے پیٹ پر رکھ کر دبایا حتیٰ کہ اس کو قتل کردیا اور اس کی ٹانگوں میں ایک بچہ آ کر اس کے خون میں لتھڑ گیا۔ صبح کو لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب لوگوں کو جمع کرکے فرمایا : جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ وہ نابینا لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس باندی کا مالک ہوں، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتی تھی اور برا کہتی تھی۔ میں اس کو منع کرتا تھا لیکن وہ باز نہیں آتی تھی اور اس سے موتیوں کی مانند میرے دو بچے بھی ہوئے اور وہ میری رفیقہ تھی۔ گزشتہ رات وہ پرھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کر دہی تھی اور برا کہہ رہی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ پر گیتی رکھ کر اس کو دبایا حتیٰ کہ اس کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سون ! گواہ ہو جائو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔ (یعنی اس کا کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا) ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٦١، سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٠٨١، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٩٨٥) ۔

حضرت عرفہ بن الحارث کو مصر کا ایک نصرانی ملا جس کا نام مذقون تھا، انہوں نے اس کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نصرانی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کی۔ انہوں نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کے پاس یہ معاملہ پیش کیا۔ انہوں نے حضرت عرفہ سے کہا ہم ان سے عہد کرچکے ہیں۔ حضرت عرفہ نے کہا ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء پر عہد کریں، ہم نے ان سے صرف اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان کو ان کے گرجوں میں عبادت کرنے دیں گے، اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان کی حفاظت کے لیے لڑیں گے، اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ آپس میں اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں گے لیکن جب وہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے کہا : تم نے سچ کہا۔ (المعجم الاوسط ج ٩ رقم الحدیث : ٨٧٤٣، مطبوعہ ریاض، سنن کبریٰ للیہقی ج ٩ ص ٢٠٠، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٩٨٧) ۔

حضرت عمیر بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن مشرکہ تھی، جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہتی۔ انہوں نے ایک دن اس کو تلوار سے قتل کردیا، اس کے بیٹے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ہم کو معلوم ہے اس کو کس نے قتل کیا ہے۔ کیا امن دینے کے باوجود اس کو قتل کیا گیا ہے، اور ان لوگوں کے ماں باپ مشرک تھے، حضرت عمیر کو یہ خوف ہوا کہ یہ لوگ کسی اور بےقصور کو قتل کردیں گے، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس واقعہ کی خبر دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کیا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیوں ؟ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مجھے ایذاء پہنچاتی تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بیٹوں کے پاس کسی کو بھیجا تو انہوں نے کسی اور کا نام لیا جو اس کا قاتل نہیں تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ (المعجم الکبیر ج ١٧، رقم الحدیث : ١٢٤، ص ٦٥، ٦٤، مطبوعہ بیروت) ۔ حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودیہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ (السنن الکبریٰ ج ٩ ص ٢٠٠، طبع بیروت) ۔

حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کے پاس ایک راہب کو لایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر میں سنتا تو اس کو قتل کردیتا۔ ہم نے ان کو اس لیے امان نہیں دی کہ یہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کریں۔ (المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٩٨٦، طبع بیروت) ۔

توہین رسالت کرنے والے غیر مسلم کو اسلامی ملک میں قتل کرنے کے متعلق مذاہب فقہاء :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : علامہ ابن المنذر نے کہا ہے کہ عام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ امام مالک، لیث، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ سے یہ منقول ہے کہ جو ذمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں کہ اکثر علماء کا یہ مذہب ہے کہ جو ذمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے، یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعریضاً اور کنایتاً برا کہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں کمی کرے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایسی صفت بیان کرے جو کفر ہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا کیونکہ ہم نے اس بات پر اس کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا نہ اس پر اس سے معاہدہ کیا ہے، البتہ امام ابوحنیفہ، ثوری اور اہل کوفہ میں سے ان کے متبعین نے کہا ہے کہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کا مذہب جس پر وہ قائم ہے، وہ شرک ہے اور وہ سب سے بڑا جرم ہے لیکن اس کو سزا دی جائے گی اور اس پر تعزیر لگائی جائے گی۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٨ ص ٢١۔ ٢٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ میں کہتا ہوں کہ جمہور فقہاء احناف نے امام ابوحنیفہ کے اس قول پر فتویٰ نہیں دیا بلکہ ان کا یہی مسلک ہے کہ جو ذمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کرے وہ واجب القتل ہے اور توہین سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کفریہ اور شرک کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کوئی ایسی بات کہے جو عرف میں توہین ہو۔

توہین رسالت کرنے والے غیر مسلم کو اسلامی ملک میں قتل کرنے کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب :

علامہ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی المتوفی ٥٩٣ ھ لکھتے ہیں : جو ذمی جزیہ ادا کرنے سے رک جائے یا کسی مسلمان کو قتل کر دے یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے تو اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا، جس غایت کی وجہ سے اس سے قتال موقوف ہوا ہے وہ جزیہ کا التزام ہے نہ کہ اس کو ادا کرنا اور التزام باقی ہے، اور امام شافعی نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینا، عہد ذمہ کو توڑنا ہے اور جب اس نے عہد توڑ دیا تو اس کو دی ہوئی امان بھی ٹوٹ گئی، اس نے ذمہ کا عقد کرکے اس کی خلاف ورزی کی، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینا اس کا کفر ہے، اور جو کفر ابتداً اس کے ساتھ قائم تھا وہ اس عقد ذمہ سے مانع نہیں تھا جو کفر بعد میں طاری ہوا وہ بھی اس عقد سے مانع نہیں ہوگا لہٰذا اس کفر طاری سے اس کا عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ (ہدایہ اولین ص ٥٩٨، مطبوعہ شرکت علمیہ ملتان) ۔ علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام الحنفی المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا السام علیکم (سام کے معنی موت ہیں، یعنی تم کو موت آئے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وعلیکم (یعنی تم پر) حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے سمجھ لیا تھا انہوں نے کیا کہا ہے۔ میں نے کہا علیکم السام واللعنۃ (یعنی تم پر موت آئے اور لعنت ہو) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرو اے عائشہ (رض) ! بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کا جواب دے چکا ہوں وعلیکم۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٢٤، صحیح مسلم راقم الحدیث : ٢١٦٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٨٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٣١٣، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٦٠، مسند احمد ج ٦ ص ٨٥، سنن بیہقی ج ٩ ص ٢٠٣) ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ یہود کا توہین پر مبنی کلمہ تھا، اور اگر اس سے عہد ذمہ ٹوٹ جاتا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو قتل کردیتے، کیونکہ اس صورت میں وہ حربی ہوچکے تھے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) سے ایک شخص نے کہا : میں نے سنا کہ ایک راہب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے رہا تھا، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر میں سنتا تو اس کو قتل کردیتا، ہم نے ان سے اس پر عہد نہیں کیا تھا۔ (المطالب العالیہ رقم الحدیث : ١٩٨٦) علامہ ابن ہمام جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ہوسکتا ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے ان سے عہد میں یہ شرط لگائی ہو کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب وشتم نہیں کریں گے۔ (علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں :) اس مسئلہ میں جو میرا مذہب ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب وشتم کرے یا اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرے یا کسی ایسی چیز کی جو اس کی شان کے لائق نہیں، جب ذمی ایسی بات کو ظاہر کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اس کو قتل کردیا جائے گا اور اگر وہ اس کا اظہار نہ کرے وہ چھپا کر ایسی بات کہہ رہا ہو اور کوئی اس پر مطلع ہوجائے تو پھر اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے جزیہ اس شرط کے ساتھ قبول کیا گیا تھا کہ وہ ذلت کے ساتھ رہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

حتیٰ یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صٰغرون۔ (التوبہ : ٢٩ )

ترجمہ : حتیٰ کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں درآنحالیکہ وہ ذلیل ہوں۔

اور اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب وشتم کرنے کا اظہار کرنا جزیہ قبول کرنے کی شرط اور ان سے قتل کی مدافعت کے منافی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ وہ چھوٹے بن کر رہیں اور ذلت سے جزیہ دیں، اور حضرت عائشہ (رض) کی حدیث میں جن یہود کا ذکر کیا گیا ہے وہ ذمی نہ تھے اور نہ جزیہ ادا کرتے تھے، بلکہ ان سے مال لیے بغیر دفع شر کے لیے ان سے صلح کی گئی تھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر قادر کردیا۔ اور اس بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی ذمی مسلمانوں کے خلاف سرکشی کرے تو اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ ان سے قتل کو اس صورت میں دور کیا گیا ہے کہ وہ چھوٹے بن کر ذلت سے رہیں۔ (فتح القدیر ج ٦ ص ٥٩۔ ٥٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : اس مسئلہ میں حق اصحاب شافعی کے ساتھ ہے، امام شافعی نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرنا عہد کو توڑنا ہے، اگر وہ بالفرض مسلمان بھی ہوتا تو اس کی امان ٹوٹ جاتی، اسی طرح ذمی کی امان بھی ٹوٹ جائے گی۔ امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ (بنایہ، ج ٦ ص ٦٩٠۔ ٦٨٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١١ ھ) ۔ علامہ بدرالدین عینی حنفی نے مزید لکھا ہے : امام شافعی نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرنے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس سے ایمان جاتا رہتا ہے تو امان بطریق اولیٰ نہیں رہے گی، اور یہی امام مالک اور امام احمد کا قول ہے اور میں نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے، کیونکہ جب کوئی مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرے تو اس کی تکفیر کردی جائے گی اور اگر حاکم اس کو قتل کرنے کا حکم دے تو اس کو قتل کردیا جائے گا تو اگر کسی دین کے دشمن اور مجرم (غیر مسلم ذمی) سے یہ سب وشتم صادر ہو تو اس کو قتل کیوں نہیں کیا جائے گا ؟ (شرح العینی علی کنزالدقائق ج ١ ص ٢٥٨، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) ۔ علامہ ابن ہمام حنفی اور علامہ عینی حنفی نے دلائل کے ساتھ اس مسئلہ میں امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ سے اختلاف کیا ہے اور اس سے یہ واضح ہوگیا کہ یہ فقہاء کرام محض مقلد جامد نہیں ہیں اور یہ امام اعظم کی ان ہی مسائل میں موافقت کرتے ہیں جہاں امام اعظم کا قول قرآن اور حدیث پر مبنی ہو، اور جہاں امام اعظم کا قول قرآن و حدیث کے مطابق نہ ہو وہاں ان سے اختلاف کرتے ہیں۔ شمس الائمہ سرخسی، علامہ حصکفی اور علامہ شامی نے بھی سب وشتم کرنے والے ذمی کے قتل کو جائز لکھا ہے۔ البتہ علامہ ابن نجیم نے علامہ عینی کے اس قول کا رد کیا ہے کہ ” میں نے اسی قول کو اختیار کیا ہے “ اور علامہ شامی نے علامہ عینی کا دفاع کیا، اس کی تفصیل بھی عنقریب ہم ذکر کریں گے۔ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : اس طرح اگر کوئی عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ظاہراً سب وشتم کرتی ہو تو اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ کیونکہ ابو اسحٰق ہمدانی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ایک یہودی عورت کو سنا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے رہی تھی اور بخدا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ میرے ساتھ نیکی کرتی تھی لیکن میں نے اس کو قتل کردیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ (شرح السیر الکبیر ج ٤ ص ٤١٨۔ ٤١٧، مطبوعہ افغانستان، ١٤٠٥ ھ) ۔ علامہ بدرالدین عینی حفنی لکھتے ہیں : میں اس کے ساتھ ہوں جو یہ کہتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب وشتم کرنے والے کو مطلقاً قتل کرنا جائز ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٧١، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر، ١٣٤٨ ھ) ۔ علامہ محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ جب کوئی شخص علی الاعلان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا کیونکہ سیر، ذخیرہ میں یہ تصریح ہے کہ امام محمد نے فرمایا جب کوئی عورت علی الاعلان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا کیونکہ روایت ہے کہ حضرت عمر بن عدی نے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دیتی تھی، انہوں نے رات میں اس کو قتل کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس فعل کی تعریف فرمائی۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ج ٣ ص ٢٨٠۔ ٢٧٩، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٠٩ ھ) ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : جو شخص علی الاعلان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرے یا عادتاً سب وشتم کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا خواہ وہ عورت ہو۔ (ردالمحتار ج ٣ ص ٢٧٨، مطبوعہ بیروت، ١٤٠٩ ھ) ۔ نیز علامہ شامی لکھتے ہیں : علامہ ابن نجیم نے لکھا ہے کہ علامہ عینی نے یہ کہا ہے کہ میں نے اس قول کو اختیار کیا ہے جو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کرے اس کو قتل کردیا جائے، علامہ ابن نجیم نے کہا کہ علامہ عینی کے اس قول کی کسی روایت (فقیہہ) میں اصل نہیں ہے، علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ابن نجیم کا یہ قول فاسد ہے کیونکہ تمام فقہاء احناف نے یہ تصریح کی ہے کہ اس شخص پر تعزیر لگائی جائے گی اور اس کو سزا دی جائے گی اور یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ دوسروں کی عبرت کے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ جب جرم بڑا ہو تو تعزیر کی قتل تک ترقی جائز ہے۔ (منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج ٥ ص ١١٥، مطبوعہ کوئٹہ) ۔ ایک انگریز نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ایک سخت توہین آمیز عبارت لکھی۔ ایک مسلمان ممتحن نے انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کے لیے اس عبارت پر مشتمل امتحانی پر چہ بنایا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی سے اس کے متعلق سوال کیا گیا۔ سوال اور جواب حسب ذیل ہیں : مسئلہ : از جو نپور ملاٹولہ مرسلہ مولوی عبدالاول صاحب ٦ رمضان مبارک ٣٥ ھ۔ یہ جواب صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح ہو تو اور بھی دلائل سے مبرہن و مزین فرما کر مہرو دستخط سے ممتاز فرمایا جائے۔ سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ایک شخص مسلمان ممتحن نے زیر نگرانی دو شخص مسلمان کے پر چہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کے لیے مرتب کیا جس میں سب سے بڑا سوال جس میں نصف نمبر رکھے تھے، حضرت رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان مبارک میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کیے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہو کر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتویٰ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔ اس سخت توہین آمیز عبارت کو نقل کرنے کا عاجز میں حوصلہ نہیں ہے، جو قارئین اس عبارت کو پڑھنا چاہیں وہ فتاویٰ رضویہ ج ٦ ص ٣٧ میں ملاحظہ فرمائیں، اعلیٰ حضرت کا جواب درج ذیل ہے :

ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پر چہ مرتب کیا وہ کافر مرتد ہے، جس نے اس پر نظر ثانی کرکے برقرار رکھا وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا وہ کافر مرتد، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انہوں نے بخوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا، اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین پر راضی ہوئے یا اسے ہلکا جانا یا اسے اپنے نمبر گھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں خواہ نابالغ، ان چاروں فریق میں ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام، نشست برخاست حرام، بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام، اس کا جنازہ اٹھانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حرام، اسے مٹی دینا حرام، اس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام بلکہ خود کفر و قاطع اسلام، جب ان میں کوئی مرجائے اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکم شرع مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لیے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھوا کر کسی تنگ گڑھے میں ڈلوا کر اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں پھینک پھینک کر پاٹ دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو۔ یہ احکام ان سب کے لیے عام ہیں اور جو جو ان میں نکاح کیے ہوئے ہوں ان سب کی جو روئیں ان کے نکاحوں سے نکل گئیں، اب اگر قربت ہوگی حرام حرام حرام و زنائے خالص ہوگی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی ولد الزنا ہوگی، عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدت گزر جانے پر جس سے چاہیں نکاح کرلیں، ان میں جسے ہدایت ہو اور توبہ کرے اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گے اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہے گی یہاں تک کہ اس کے حال سے صدق ندامت و خلوص توبہ و صحت اسلام ظاہر و روشن ہو مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس آسکتیں ہیں، انہیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں تو دوسرے نکاح کرلیں یا کسی سے نہ کریں، ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا، ہاں ان کی مرضی ہو تو بعد اسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی۔ وجیز امام کردری جلد ٣ ص ٣٢١ میں مذکور ہے : جو شخص معاذ اللہ مرتد ہوجائے اس کی عورت حرام ہوجاتی ہے، پھر اسلام لائے تو اس سے تجدید نکاح کیا جائے۔ اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے کچھ فائدہ نہ دے گا جب تک اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کا کفر نہیں جاتا اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے سزا دی جائے گی یہاں تک کہ اگر نشہ کی بےہوشی میں کلمہ گستاخی بکا جب بھی معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق جلد چہارم ص ٤٠٧ میں لکھتے ہیں : یعنی جس کے دل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کنہ ہو وہ مرتد ہے، تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ کافر ہے اور اگر نشہ بلا اکراہ پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکا جب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج ٦ ص ٣٩۔ ٣٧، مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی) ۔

شریعت کی توہین کرنے والا تورات کی تصریح کے مطابق واجب القتل ہے :

پاکستان میں توہین رسالت کا قانون بنایا گیا ہے جس کے مطابق سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کی بھی توہین کرنے والے کو پھانسی کی سزا دی جاسکے گی، اس پر پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم خصوصاً عیسائی آئے دن احتجاج کرتے رہتے ہیں اور باقی دنیا کے غیر مسلم بھی اس کو مسلمانوں کی بنیاد پرستی قرار دیتے ہیں اور اس قانون کو اقلیت پر ظلم قرار دیتے ہیں جبکہ بائبل میں یہ لکھا ہوا ہے کہ قاضی یا کاہن کی توہین کرنے والا بھی واجب القتل ہے اور نبی کی حرمت اور اس کا مقام تو کاہن اور قاضی سے کہیں زیادہ ہے، سو معلوم ہوا کہ توہین رسالت کا یہ قانون قرآن، حدیث، آثار اور مذاہب ائمہ کے علاوہ بائبل کے بھی مطابق ہے۔ بائبل کی عبارت یہ ہے : شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس سے دہنے یا بائیں نہ مڑنا اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کردینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں گے اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے (استثناء باب : ١٧ آیت : ١٣۔ ١١، پرانا عہد نامہ ص ١٨٣، مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور) ۔ شرح صحیح مسلم ج ٢ میں ہم نے توہین رسالت کرنے والے مسلمان کا حکم بیان کیا تھا، اور الاعراف کی تفسیر میں توہین رسالت کرنے والے ذمی کا حکم لکھا تھا اور اس میں احادیث اور آثار کے علاوہ مذاہب اربعہ کے فقہاء کی تصریحات پیش کی تھیں اور یہاں پر ہم نے احناف کے مذہب کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے اور بائبل کا حوالہ بھی پیش کیا ہے اور ان تینوں مباحث کا مطالعہ کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 12