یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِؕ-اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِۚ-فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ(۳۸)

اے ایمان والو تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ راہ ِخدا میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو (ف۸۸) کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا(دنیا کی زندگی) کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا (ف۸۹)

(ف88)

اور سفر سے گھبراتے ہو ۔

شانِ نُزول : یہ آیت غزوۂ تبوک کی ترغیب میں نازِل ہوئی ۔ تبوک ایک مقام ہے اطرافِ شام میں مدینۂ طیّبہ سے چودہ منزل فاصلہ پر ۔ رجب ۹ ہجری؁ میں طائف سے واپسی کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عرب کے نصرانیوں کی تحریک سے ہر قل شاہِ روم نے رومیوں اور شامیوں کی فوج گِراں جمع کی ہے اور وہ مسلمانوں پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا ۔ یہ زمانہ نہایت تنگی ، قحط سالی اور شدتِ گرمی کا تھا یہاں تک کہ دو دو آدمی ایک ایک کھجور پر بسر کرتے تھے ، سفر دور کا تھا ، دشمن کثیر اور قوی تھے اس لئے بعض قبیلے بیٹھ رہے اور انہیں اس وقت جہاد میں جانا گِراں معلوم ہوا اور اس غزوہ میں بہت سے منافقین کا پردہ فاش اور حال ظاہر ہوگیا ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس غزوہ میں بڑی عالی ہمتی سے خرچ کیا دس ہزار مجاہدین کو سامان دیا اور دس ہزار دینار اس غزوہ پر خرچ کئے ، نو سو اونٹ اورسو گھوڑے مع ساز و سامان کے اس کے علاوہ ہیں اور اصحاب نے بھی خوب خرچ کیا ، ان میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ہیں جنہوں نے اپنا کُل مال حاضر کردیا جس کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال حاضر کیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے ۔ حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ طیّبہ میں چھوڑا ۔ عبداللہ بن اُبَی اور اس کے ہمراہی منافقین ثنیۃ الوداع تک چل کر رہ گئے جب لشکر اسلام تبوک میں اترا تو انہوں نے دیکھا کہ چشمے میں پانی بہت تھوڑا ہے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پانی سے اس میں کلی فرمائی جس کی برکت سے پانی جوش میں آیا اور چشمہ بھر گیا ، لشکر اور اس کے تمام جانور اچھی طرح سیراب ہوئے ۔ حضرت نے کافی عرصہ یہاں قیام فرمایا ۔ ہرقل اپنے دل میں آ پ کو سچا نبی جانتا تھا اس لئے اسے خوف ہوا اور اس نے آپ سے مقابلہ نہ کیا ۔ حضرت نے اطراف میں لشکر بھیجے چنانچہ حضرت خالد کو چار سو زائد سواروں کے ساتھ اکیدر حاکمِ دومۃ الجندل کے مقابل بھیجا اور فرمایا کہ تم اس کو نیل گائے کے شکار میں پکڑ لو چنانچہ ایسا ہی ہوا جب وہ نیل گائے کے شکار کے لئے اپنے قلعے سے اتر ا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کو گرفتار کرکے خدمت اقدس میں لائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جزیہ مقرر فرما کر اس کو چھوڑ دیا ۔ اسی طرح حاکمِ ایلہ پر اسلام پیش کیا اور جزیہ پر صلح فرمائی ۔ واپسی کے وقت جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے قریب تشریف لائے تو جو لوگ جہاد میں ساتھ ہونے سے رہ گئے تھے وہ حاضر ہوئے حضور نے اصحاب سے فرمایا کہ ان میں سے کسی سے کلام نہ کریں اور اپنے پاس نہ بٹھائیں جب تک ہم اجازت نہ دیں تو مسلمانوں نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ باپ اور بھائی کی طرف بھی التفات نہ کیا اسی باب میں یہ آیتیں نازِل ہوئیں ۔

(ف89)

کہ دنیا اور اس کی تمام متاع فانی ہے اورآخرت اور اس کی تمام نعمتیں باقی ہیں ۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﳔ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْــٴًـاؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۳۹)

اگر نہ کوچ کرو گے تو(ف۹۰)تمہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا (ف۹۱) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکوگے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

(ف90)

اے مسلمانو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسبِ حکم اللہ تعالٰی ۔

(ف91)

جو تم سے بہتر اور فرمانبردار ہوں گے ۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت اور ان کے دین کو عزت دینے کا خود کفیل ہے تو اگر تم اطاعتِ فرمانِ رسول میں جلدی کرو گے تو یہ سعادت تمہیں نصیب ہوگی اور اگر تم نے سُستی کی تو اللہ تعالٰی دوسروں کو اپنے نبی کے شرفِ خدمت سے سرفراز فرمائے گا ۔

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰىؕ-وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَاؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۴۰)

اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا (ف۹۲) صرف دو جان سے جب وہ دونوں (ف۹۳) غار میں تھے جب اپنے یار سے (ف۹۴) فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ(اطمینان) اتارا (ف۹۵) اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھی (ف۹۶) اور کافروں کی بات نیچے ڈالی (ف۹۷) اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف92)

یعنی وقتِ ہجرت مکّۂ مکرّمہ سے جب کہ کُفّار نے دارالندوہ میں حضور کے لئے قتل و قید وغیرہ کے بُرے بُرے مشورے کئے تھے ۔

(ف93)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔

(ف94)

یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ۔

مسئلہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے ۔ حسن بن فضل نے فرمایا جو شخص حضرت صدیق اکبر کی صحابیت کا انکار کرے وہ نصِ قرانی کا منکِر ہو کر کافِر ہوا ۔

(ف95)

اور قلب کو اطمینان عطا فرمایا ۔

(ف96)

ان سے مراد ملائکہ کی فوجیں ہیں جنہوں نے کُفّار کے رُخ پھیر دیئے اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے اور بدر و اَحزاب و حُنین میں بھی انہیں غیبی فوجوں سے مدد فرمائی ۔

(ف97)

دعوتِ کُفر و شرک کو پست فرمایا ۔

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۱)

کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے (ف۹۸) اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو (ف۹۹)

(ف98)

یعنی خوشی سے یا گرانی سے ۔ ایک قول یہ ہے کہ قوت کے ساتھ یا ضعف کے ساتھ اور بے سامانی سے یا سرو سامان سے ۔

(ف99)

کہ جہاد کا ثواب بیٹھ رہنے سے بہتر ہے تو مستعدی کے ساتھ تیار ہو اور کاہلی نہ کرو ۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُؕ-وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْۚ-یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْۚ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠(۴۲)

اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا (ف۱۰۰) تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے (ف۱۰۱) مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے (ف۱۰۲) کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے (ف۱۰۳) اپنی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں (ف۱۰۴) اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بےشک ضرور جھوٹے ہیں

(ف100)

اور دینوی نفع کی امید ہوتی اور شدید محنت و مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا ۔

(ف101)

شانِ نُزول : یہ آیت ان منافقین کی شان میں نازِل ہوئی جنہوں نے غزوۂ تبوک میں جانے سے تخلُّف کیا تھا ۔

(ف102)

یہ منافقین اور اس طرح معذرت کریں گے ۔

(ف103)

منافقین کی اس معذرت سے پہلے خبر دے دینا غیبی خبر اور دلائلِ نبوّت میں سے ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا ویسا ہی پیش آیا اور انہوں نے یہی معذرت کی اور جھوٹی قسمیں کھائیں ۔

(ف104)

جھوٹی قسم کھا کر ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹی قسمیں کھانا سبب ہلاکت ہے ۔