أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَـآجِّ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

کیا تم نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد کرنے کو اس شخص (کی نیکیوں) کی مثل کردیا جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہوں گے اور اللہ ظلم کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد کرنے کو اس شخص (کی نیکیوں) کی مثل کردیا جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہوں گے اور اللہ ظلم کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (التوبہ : ١٩)

اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا کعبہ کو آباد کرنے سے افضل ہے :

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص نے کہا اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے کسی اور عمل کی ضرورت نہیں ہے سوا اس کے کہ میں حجاج کو پانی پلاتا رہوں گا۔ دوسرے شخص نے کہا مجھے اسلام لانے کے بعد کسی اور عمل کی ضرورت نہیں ہے مگر میں مسجد حرام کی زیارت کروں گا اور اس کو آباد رکھوں گا۔ تیسرے شخص نے کہا تم نے جو چیزیں بیان کی ہیں ان سے جہاد کرنا زیادہ افضل ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آوازیں بلندنہ کرو اور وہ جمعہ کا دن تھا، لیکن میں جمعہ کی نماز کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ میں دریافت کروں گا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (صحیح مسلم الامارۃ : ١١١، (١٨٧٩) ٤٧٨٨، مسند احمد رقم الحدیث : ١٨٣٩٥، المعجم الاوسط ج ١ رقم الحدیث : ٤٢٣، جامع البیان جز ١٠، رقم الحدیث : ١٢٨٦٠، تفسیر امام ابن ابی حاتم، رقم الحدیث : ١٠٠٦٣ ) ۔

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : غزوہ بدر میں جب حضرت عباس بن عبدالمطلب کو قید کیا گیا تو انہوں نے کہا ہرچند کہ تم اسلام کو قبول کرنے میں اور ہجرت کرنے میں اور جہاد کرنے میں ہم پر سبقت لے چکے ہو لیکن ہم مسجد حرام کو آباد رکھتے ہیں، حجاج کو پانی پلاتے ہیں اور قیدیوں کو چھڑاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ مشرکین نے کہا کہ بیت اللہ کی تعمیر کرنا اور حجاج کو پانی پلانا، ایمان لانے اور جہاد کرنے سے افضل ہے اور وہ لوگ حرم کی دیکھ بھال کرنے کی وجہ سے فخر اور تکبر کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیتیں بھی نازل فرمائیں :

قد کا نت اٰیٰتی تتلیٰ علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون مستکبرین بہ سمراً تھجرون (المومنون : ٦٧۔ ٦٦ )

ترجمہ : بیشک تم پر میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں پر پلٹ کر بھاگ جاتے تھے اور آنحالیکہ تم تکبر کرتے تھے اور رات کو (اللہ کی آیتوں کے متعلق) بےہودہ باتیں کرتے تھے۔

پس مشرکین نے جو کعبہ کی دیکھ بھال کی ہے اور حجاج کو پانی پلایا ہے، اس سے اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا کہیں افضل ہے۔ (جامع البیان جز ١٠ ص ١٢٣۔ ١٢٢، تفسیر امام ابن ابی حاتم ص ١٧٦٧، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٨٤۔ ٣٨٣، طبع بیروت) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 19