أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَهُمۡ بَدَءُوۡكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ‌ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور انہوں نے رسول کو بےوطن کرنے کا قصد کیا اور پہلی بار جنگ کی انہوں نے ہی ابتداء کی تھی، کیا تم ان سے ڈرتے ہو ! سو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور انہوں نے رسول کو بےوطن کرنے کا قصد کیا اور پہلی بار جنگ کی انہوں نے ہی ابتداء کی تھی، کیا تم ان سے ڈرتے ہو سو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو (التوبہ : ١٣)

آیات سابقہ سے ارتباط :

اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : کفر کے علم برداروں سے قتال کرو، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سے قتال کا محرک اور باعث بیان فرمایا ہے، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے قتال کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں : پہلا سبب یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے معاہدہ حدیبیہ کو پکا کرنے کے بعد اس کو توڑ ڈالا، اور انہوں نے بنو خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی اور دوسروں کی بہ نسبت ان سے قتال کرنا زیادہ اولیٰ ہے جنہوں نے عہد شکنی کی۔ اور دوسرا سبب یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےوطن کرنے کا قصد کیا اور یہ ان سے جنگ کرنے کا بہت بڑا داعیہ اور محرک ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےوطن کرنے سے مراد یا تو یہ ہے کہ ان کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی، اور یا اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے باربار مدینہ منورہ پر حملے کیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں کی مدد کی تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا شہید ہوجائیں یا ان کی مخالفت سے تنگ آ کر مدینہ منورہ سے بھی چلے جائیں اور تیسرا سبب یہ ہے کہ جنگ کی ابتداء انہوں نے خود کی تھی جب انہوں نے بدر میں حملہ کیا، حالانکہ قافلہ ان کے پاس صحیح سلامت پہنچ چکا تھا لیکن انہوں نے کہا ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ اسلام کو جڑ سے نہ اکھاڑ پھینکیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 13