أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَكُوۡا وَلَـمَّا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوۡلِهٖ وَلَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلِيۡجَةً‌ ؕ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے مسلمانو ! ) کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم (ایسے ہی) چھوڑ دیے جائو گے، حالانکہ اللہ نے ابھی تک تم میں سے ان لوگوں کو متمیز نہیں فرمایا جنہوں نے کامل طریقہ سے جہاد کیا ہو، اور انہوں نے اللہ، اور اس کے رسول، اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنایا ہو، اور اللہ تمہارے سب کاموں کی خوب خبر رکھتا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم (ایسے ہی) چھوڑ دیئے جائو گے، حالانکہ اللہ نے ابھی تک تم میں سے ان لوگوں کو متمیز نہیں فرمایا جنہوں نے کامل طریقہ سے جہاد کیا ہو اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنایا ہو اور اللہ تمہارے سب کاموں کی خوب خبر رکھتا ہے (التوبہ : ١٦) ولیجۃ کا معنی ہم نے محرم راز کیا ہے۔ کیونکہ ولوج کا معنی ہے داخل ہونا اور ولیجۃ اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے گھر میں بار بار آتا جاتا ہو۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٩٠) اور یہ وہی شخص ہوتا ہے جو اس کا محرم راز ہو۔ اس سے پہلے آیتوں میں جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور اس آیت میں بھی جہاد پر مزید برانگیختہ فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو مستقبل کے واقعات کا علم ہے اور جس چیز کا مطلقاً وقوع نہ ہو اس کے وقوع کو اللہ کا علم شامل نہیں :

اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے : اور ابھی تک اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو نہیں جانا۔ اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ان ہی کاموں کا علم ہوتا ہے جو ہوچکے ہوں اور جو کام ہونے والے ہوں ان کا اس کو علم نہیں ہوتا۔ امام رازی نے لکھا ہے کہ ہشام بن الحکم نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اسی چیز کا علم ہوتا ہے جو وجود میں آچکی ہو، پھر امام رازی نے اس کا رد کیا ہے اور فرمایا کہ اس آیت میں علم سے مراد معلوم ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو موجود نہیں فرمایا، اور اس کو علم سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ کسی شے کے موجود ہونے کو یہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہو اس لیے اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کے وجود کا علم اس چیز کے موجود ہونے سے کنایہ ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کے موجود ہونے کا اللہ کو علم نہ ہو وہ چیز موجود نہیں ہوتی، کیونکہ وہ چیز موجود نہ ہو اور اللہ کو یہ علم ہو کہ وہ چیز موجود ہے تو یہ علم معلوم کے موافق نہیں ہوگا اور جو علم معلوم کے مطابق نہ ہو وہ جہل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جہل سے منزہ اور پاک ہے۔

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں بعض مومنین سے خطاب ہے جنہوں نے قتل کرنے کو ناپسند کیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں منافقین سے خطاب ہے، اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ابھی تک تم میں سے مخلصین غیر مخلصین سے متمیز نہیں ہوئے۔ مخلصین وہ ہیں جو جہاد کرنے والے ہوں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم کی نفی کی ہے اور اس سے مبالغتاً معلوم کی نفی کا ارادہ کیا ہے، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ کسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم کا تعلق اس کے وقوع کو مستلزم ہوتا ہے۔ (انوار التنزیل علی ہامش عنایت القاضی ج ٤ ص ٣٠٩، مطبوعہ دار صادر بیروت) ۔

علامہ شہاب الدین احمد خفاجی مصری حنفی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : میرے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی نفی کی ہے اور اس سے معلوم کی نفی کا ارادہ کیا ہے، یعنی انہوں نے بہت زیادہ کامل طریقہ سے جہاد نہیں کیا، کیونکہ اگر انہوں نے کامل جہاد کیا ہوتا تو اس کا اللہ کو علم ہوتا، کیونکہ کسی چیز کے ساتھ اللہ کے علم کا تعلق اس کے وقوع کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے وقوع کو مستلزم ہوتا ہے ورنہ اللہ کا علم واقع کے مطابق نہیں ہوگا اور یہ محال ہے، اور جس چیز کا اللہ کو علم نہ ہو وہ اس چیز کے عدم وقوع کو مستلزم ہوتا ہے، کیونکہ اگر وہ چیز واقع ہو تو کائنات میں ایسی چیز ہوگی جس کا اللہ کو علم نہ ہو اور یہ بھی محال ہے۔ (علامہ آلوسی نے بھی اس آیت کی یہی تقریر کی ہے) ۔ روح المعانی ج ١٠ ص ٦٣، عنایت القاضی ج ٤ ص ٣١٠۔ ٣٠٩ مطبوعہ دار صادر بیروت، ١٢٨٣ ھ) ۔

قاضی بیضاوی نے جہاد کے ساتھ مبالغہ کی قید لگائی ہے اور علامہ خفاجی نے کامل کی قید لگائی ہے کیونکہ مسلمانوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد تو کیا تھا لیکن بہت زیادہ مبالغہ سے جہاد نہیں کیا تھا یا کامل طریقہ سے جہاد نہیں کیا تھا۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہو اور اگر اس میں منافقوں سے خطاب ہو تو پھر معنی یوں ہوگا حالانکہ اللہ نے ابھی تک تم میں سے ان لوگوں کو متمیز نہیں فرمایا جنہوں نے خوش دلی سے جہاد کیا ہو۔

سورۃ التوبہ کی آیت : ١٦ کے چند تراجم : شیخ سعدی شیرازی متوفی ٦٩١ ھ لکھتے ہیں : آیا پند اشتید شما آنکہ شمابہ گزار دہ شوید ونہ بیند خدائے آنا نرا کہ جہادمی کنند از شمادر راہ او۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی ١١٧٦ ھ لکھتے ہیں : آیا گمان کردید کہ گزاشتہ شوید و ہنوز متمیز نساختہ است خدا آنا نرا کہ جہاد کردہ انداز شما۔

شاہ عبدالقادر محدث دہلوی متوفی ١٢٣٠ ھ لکھتے ہیں : کیا جانتے ہو کہ چھوٹ جائو گے اور ابھی معلوم نہیں کیے اللہ نے تم میں سے جو لوگ لڑے ہیں۔

شاہ رفیع الدین محدث دہلوی متوفی ١٢٣٣ ھ لکھتے ہیں : کیا گمان کرتے ہو تم یہ کہ چھوڑے جائو گے حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ فرماتے ہیں : کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں : کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی۔

ہمارے شیخ ضیغم اسلام سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہٗ متوفی ١٤٠٦ ھ تحریر فرماتے ہیں : (اے مسلمانو ! ) کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تم (یوں ہی) چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو ابھی ظاہر نہیں فرمایا جنہوں نے جہاد کیا۔

اور ہم نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : (اے مسلمانو ! ) کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم (ایسے ہی) چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ اللہ نے ابھی تک تم میں سے ان لوگوں کو متمیز نہیں فرمایا جنہوں نے کامل طریقہ سے جہاد کیا ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 16