أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنۡصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے گا، ان کو رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے گا، ان کو رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا اور ان کے دلوں کے غیظ کو دور فرمائے گا اور اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ بہت جاننے والا بےحد حکمت والا ہے (التوبہ : ١٥۔ ١٤) اس آیت میں ان سابقہ آیات کی تاکید ہے، جن میں کفار کے ظالمانہ افعال ذکر فرما کر کفار سے جنگ کے لیے مسلمانوں کی غیرت کو ابھارا تھا، علاوہ ازیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ میں فتح کی بشارت دی ہے اور کفار کی ہزیمت کی نوید سنائی ہے اور کفار کے خلاف اللہ نے اپنی مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے خلاف اس جنگ میں مسلمانوں کے متعدد فوائد بیان فرمائے ہیں۔

فتح مکہ کے لیے جہاد کرنے کے فوائد :

(پہلا فائدہ): اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذریعہ سے کافروں کو عذاب دے گا، اس عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور یہ عذاب کافروں کو قتل کرنے کی صورت میں حاصل ہوگا، اور ان کو قید کرنے کی صورت میں اور میدان جنگ میں ان کے اموال پر بطور مال غنیمت کے قبضہ کی صورت میں حاصل ہوگا، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں عذاب دینے کا ذکر فرمایا ہے، اور ایک آیت میں ان پر عذاب بھیجنے کی نفی فرمائی ہے۔ ارشاد ہے :

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم۔ (الانفال : ٣٣)

ترجمہ : اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو عذاب دے درآنحالیکہ آپ ان میں موجود ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ سورة التوبہ میں جس عذاب دینے کا ذکر ہے اس سے مراد جنگ میں ان کے قتل اور قید ہونے کا عذاب ہے اور سورة الانفال میں جس عذاب دینے کی نفی ہے اس سے مراد ہے آسمانی عذاب۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ سورة التوبہ میں جس عذاب دینے کا ذکر ہے وہ صرف بعض لوگوں کو پہنچے گا اور سورة الانفال میں جس عذب کی نفی ہے اس سے مراد ہے ان پر ایسا عذاب نہیں آئے گا جس سے پوری قوم کفار ملیا میٹ ہوجائے۔

(دوسرا فائدہ): اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان کو رسواکرے گا، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں کے ہاتھ سے ذلت آمیز اور عبرت ناک شکست سے دوچار کیا، اور جن مسلمانوں کو وہ بہت کمزور اور پس ماندہ سمجھتے تھے انہوں نے ان کو اپنے پیروں تلے روندڈالا اور ان کا فخر اور غرور خاک میں مل گیا۔

(تیسرا فائدہ): اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ تمہاری مدد فرمائے گا، اللہ تعالیٰ کی اس بشارت کی وجہ سے مسلمانوں کو حالت جنگ میں طمانیت حاصل ہوگی۔

(چوتھا فائدہ): اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا، ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بنو خزاعہ اسلام لا چکے تھے اور وہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور بنو بکر کفار قریش کے حلیف تھے۔ بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور قریش نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے بنو بکر کی مدد کی، پھر مسلمانوں نے معاہدہ حدیبیہ کو فسخ کرکے مکہ پر حملہ کیا، کفار قریش کو شکست ہوئی اور بنو خزاعہ کا دل ٹھنڈا ہوگیا۔

(پانچواں فائدہ): اور ان کے دلوں کے غیظ کو دور فرمائے گا، ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچانا اور ان کے دلوں سے غیظ دور کرنا یہ ایک ہی بات ہے، اور یہ تکرار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کے مفہوموں میں فرق ہے، دشمنوں کی شکست سے مسلمانوں کے دلوں کا غم و غصہ اور غیظ دور ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح کا جو وعدہ فرما لیا ہے اس کی وجہ سے وہ انتظار کی کوفت سے بچ جائیں گے، کیونکہ انتظار موت سے زیادہ سخت ہوتا ہے، اور جب اللہ نے ان کو فتح کی بشارت دے دی تو ان کے دلوں میں ٹھنڈک پڑگئی۔

(چھٹا فائدہ): اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ بعض مسلمان طبعی طور پر کفار سے جہاد کرنے سے گھبراتے تھے اور اس میں تساہل کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انہیں غیرت دلائی اور جہاد کے فوائد اور اجر وثواب کی ترغیب دی تو وہ جہاد کے لیے شرح صدر سے تیار ہوگئے اور ان کا جہاد کرنا اللہ تعالیٰ سے توبہ کے قائم مقام ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فتح اور نصرت کی جو بشارت دی ہے وہ بہت بڑا انعام ہے اور جب بندہ اپنی بیشمار کوتاہیوں اور گناہوں کے باوجود اللہ عزوجل کے انعامات کو دیکھتا ہے تو اس پر ندامت طاری ہوتی ہے اور وہ صدق دل سے توبہ کرتا ہے۔

(ساتواں فائدہ): یہ آیت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے کیونکہ اس آیت میں جن امور کی پیشگی خبر دی گئی ہے وہ سب فتح مکہ میں حاصل اور واقع ہوگئے، سو اس آیت میں غیب کی خبر دی گئی ہے اور غیب کی خبر معجزہ ہے، نیز اس آیت میں یہ بھی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل کے علم میں صحابہ کرام (رض) حقیقی مومن تھے کیونکہ ان کے قلوب کفار کے خلاف غیظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے اور یہ ان کی دینی حمیت تھی، اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے وہ بہت راغب اور سخت کوشاں تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 14